Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187807
Published : 11/6/2017 15:38

ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ہوگئے؟(ایک تبصرہ)

قطر کے ذرائع ابلاغ نے بریکنگ نیوز میں کہا ہے کہ امیر قطر شیخ تمیم بن خلیفہ آل ثانی نے آج چھ جون کے دن اپنے ملک کی مسلح افواج کو ہر جارح کے مقابلے کے لئے چوکس رہنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔


ولایت پورٹل:امیر قطر نے ہر طرح کی فوجی جارحیت کے مقابلے کے مقصد سے اس ملک کے سرحدی اور ساحلی گارڈز کے مسلح افواج میں شامل ہونے سے بھی اتفاق کیا ہے۔ امیر قطر کے اس حکم سے پتہ چلتا ہے کہ  قطر اور تین ممالک یعنی سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امیر قطر نے یہ فیصلہ ایسی حالت میں کیا ہے کہ جب کویتی حکام سعودی عرب اور قطر کے درمیان ثالثی کے لئے اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں،یہاں یہ سوال اٹھتا ہےکہ عرب ممالک خصوصا سعودی عرب اور قطر کے درمیان جاری اس کشیدگی کا سبب کیا ہے،اس کشیدگی کا اولین سبب خلیج فارس تعاون کونسل کے دائرہ کار میں سعودی عرب کی پالیسیاں ہیں۔ آل سعود خلیج فارس کے دوسرے رکن ممالک کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ یہ ممالک بے چون و چرا ریاض کی علاقائی پالیسیوں کی غیر مشروط طور پر حمایت کریں حالانکہ یہ ممالک آزاد اور خود مختار ہیں،دوسرا سبب ان اختلافات سے عبارت ہے جو علاقائی مسائل کے سلسلے میں قطر اور دوسرے تین عرب ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ ان ممالک کے درمیان تین امور یعنی اخوان المسلمین، حماس اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے بارے میں زیادہ اختلافات پائے جاتے ہیں،سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا خیال ہے کہ اخوان المسلمین  اور حماس دہشت گرد گروہ ہیں جبکہ قطر کی حکومت کے اخوان المسلمین اور حماس دونوں  کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ سنہ دو ہزار چودہ میں بھی اسی مسئلے کی وجہ سے قطر اور ان تین ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تھے اور ان ممالک نے دوحہ سے اپنے سفیر واپس بلا لئے تھے۔ قطر کی حکومت سنہ دو ہزار گیارہ سے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کو اپنی علاقائی پوزیشن کو مضبوط بنانے کا ایک موقع قرار دیتی ہے جبکہ اس احتجاج کا نشانہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتیں ہیں،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتوں کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کشیدگی پھیلا رہا ہے اور وہ تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کی سطح کم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں لیکن قطر کی حکومت کا نہ صرف یہ خیال ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کی ایک بڑی طاقت ہے جس نے خطے میں قیام امن کے سلسلے میں مثبت کردار ادا کیا ہے بلکہ  وہ تہران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توسیع کی بھی خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امیر قطر نے اپنے ملک کے فوجیوں کو مغربی اور مشرقی علاقوں سے قطر کی سمندری حدود میں ہم آہنگی کے بغیر داخل ہونے والے ہر بحری جہاز پر فائرنگ کرنے کا جو حکم دیا ہے تو اس سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ قطر کی مشترکہ سرحد سے داخل ہونے والے بحری جہازوں کو مستثنی قرار دیا ہے،ان عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کا تیسرا سبب امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی مداخلت پر مبنی پالیسیاں ہیں۔ قطر اور خلیج فارس کے دوسرے تین رکن ممالک کے درمیان کشیدگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے ایک دن بعد شروع ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے اس دورے میں سعودی عرب کی علاقائی پالیسیوں سے مکمل طور پر ہم آہنگی کا اظہار کیا اور ایک طرح سے انہوں نے قطر کی علاقائی پالیسیوں کے آگے سوالیہ نشان لگا دیا۔ جس کے خلاف قطر  کے حکام نے اپنا رد عمل ظاہر کیا جو قطر اور خلیج فارس کے دوسرے تین ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے پر منتج ہوا۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22