Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187832
Published : 13/6/2017 16:20

شب قدر کی اھمیت و برکت(1)

امام باقر(ع) ارشاد فرماتے ہیں:شب قدر وہ رات ہے جو ہر سال ماہ رمضان کی آخری تاریخوں میں اجاگر ہوتی ہے یہ وہ شب ہے جس میں نہ صرف قرآن نازل ہوا ہے بلکہ خدا وند عالم نے اس رات کے لۓ فرمایا ہے:۔{ فیھا یفرق کل امر حکیم...} اس قدر کی رات میں ہر وہ حادثہ اور امور جو سال بھر میں ظاہر ہوگا جیسے نیکی برائی اطاعت اور معصیت یا وہ اولاد جسکو پیدا ہونا ہے یا وہ موت جو آئیگی یا وہ رزق جو ملے گا سب کے سب تقدیر میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل:خداوند عالم نے اپنے حکیمانہ نظام کی بنیاد پر جھان کو اس طرح مقدور کیا ہے کہ تمام چیزوں کا ایک دوسرے کے درمیان میں خاص رابطہ برقرار ہے اس نظام خلقت میں ہر چیز حکمت الھی کی بناء پر خاص اندازہ رکھتی ہے اور کوئی بھی چیز بغیر حساب و کتاب کے نہیں ہے بلکہ یہ جھان ریاضی قانون کی بنیاد پر منظم ہے۔
شب قدر کی اہمیت اور اس کی برکات کو بیان کرتے ہوئے اھل لغت اور اصطلاح کے نظریہ کو بھی بیان کیا : قدر لغت میں اندازہ اور اندازہ گیری کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
تقدیر کے معنی بھی اندازہ گیری اور معین کرنے کے ہیں،اصطلاح میں قدر جھان کی خصوصیت اور ہر اس چیز کے وجود کو کہ اس کی خلقت کیسے ہوئی ہے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
دوسرے جملوں میں اندازہ و ہر چیز کے وجود کو مشخص کرنے کو قدر کہا جاتا ہے۔
حکمت الھی کی بناء پر اس نظام خلقت میں ہر چیز ایک خاص اندازہ رکھتی ہے اور کوئی چیز بھی بغیر حساب و کتاب کے نہیں ہے بلکہ یہ جھان قانون ریاضی کی بنیاد پر منظم ہے اور حساب و کتاب رکھتی ہے،اور ماضی حال مستقبل آپس میں ارتباط رکھتے ہیں۔
جناب شھید مطھری قدر کی تعریف کو یوں بیان کرتے ہیں: قدر کے معنی اندازہ اور معین کے ہیں۔
اس جھان میں جتنے بھی حادثات اور واقعات رونما ہوتے ہیں انکی مقدار جگہ اور وقت معین ہے یہ سب خدا کی قدرت سے ہے۔
خدا وند عالم کا ارشاد ہے: {والذی قدّر فھدی} اعلی/3
جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تقدیر لکھنے والا اور ھدایت کرنے والا خدا ہے۔
چونکہ انسان وہ مخلوق ہے جو ارادہ اور اختیار رکھتی ہے۔لہذا سعادت اور شقاوت کے راستہ کا انتخاب بھی اسی کے ارادہ و اختیار پر منحصر ہے۔اسی لۓ شب قدر میں انسان کے سال بھر کے آیندہ کے اعمال کو دیکھتے ہوۓ اس کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔
شب قدر ماہ رمضان کے آخری ایام کی راتوں میں سے ایک رات ہے۔
روایتوں کے مطابق شب قدر٬ انیسویں یا اکیسویں یا شب تئیسویں ماہ رمضان ہے ۔ اور اس رات کی بہت فضیلت ہے کیونکہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔
شب قدر میں انسان کی نیکی٬ برائی٬ ولادت٬ موت٬ رزق٬ حج٬ اطاعت٬ گناہ٬ خلاصہ یہ کہ جتنے بھی افعال اور واقعات اس سال میں اس کے اختیار سے انجام پائینگے وہ سب اسکی قسمت میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔( کافی٬ ج 4 /ص 157 )
قدر کی رات ہر سال اور ہمیشہ آتی ہے اس رات میں عبادت کی فضیلت بیشمار ہے اس رات کو عبادت اور توبہ استغفار کی حالت میں گزارنا٬ سال بھر کی اچھی تقدیر لکھے جانے میں موٴثر ہے۔
اس رات میں٬ آیندہ سال کے تمام امور٬ امام زمانہ کی خدمت میں پیش کیۓ جاتے ہیں اور وہ اپنی و دوسروں کی تقدیر سے با خبر ہوتے ہیں۔
ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام  سے نقل ہوا ہے:انہ ینزل فی لیلة القدر الی ولی الامر تفسیر سنةً سنةً یو مر فی امر نفسہ بکذا و کذا و فی امر الناس بکذا و کذا۔
شب قدر میں ولی امر ( امام زمانہ) کی خدمت میں سال بھر کے کاموں کی تفصیل پیش ہوتی ہیں وہ اپنے اور دوسرے لوگوں کے امور میں حکم دینے پر ما مور ہوتےہیں۔
امام باقر علیہ السلام اس آیہ: انّا انزلناہ فی لیلة مبارکة،کے معنی کے جواب میں فرماتے ہیں۔
شب قدر وہ رات ہے جو ہر سال ماہ رمضان کی آخری تاریخوں میں اجاگر ہوتی ہے یہ وہ شب ہے جس میں نہ صرف قرآن نازل ہوا ہے بلکہ خدا وند عالم نے اس رات کے لۓ فرمایا ہے:۔{ فیھا یفرق کل امر حکیم...} اس قدر کی رات میں ہر وہ حادثہ اور امور جو سال بھر میں ظاہر ہوگا جیسے نیکی برائی اطاعت اور معصیت یا وہ اولاد جسکو پیدا ہونا ہے یا وہ موت جو آئیگی یا وہ رزق جو ملے گا سب کے سب تقدیر میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔
اسی بناء پر قرآن کریم میں شب قدر اور تقدیر الھی کی جانب خاص توجہ پائی جاتی ہے کہ جو خصو صیت جھان اور انسان کے رابطہ کو خدا سے بیان کرتی ہے اگر ہر شخص اس رابطہ پر عقیدہ رکھے اور اسی کے مطابق حرکت کرے تو اسکی سال بھر کی تقدیر لکھے جانے میں زیادہ موٴثر ہوگی۔
روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شب قدر پیغمبراکرم(ص) کی رسالت کے دوران سے اختصاص نہیں رکھتی ہے بلکہ گذشتہ زمانہ میں بھی اسکا وجود تھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
عرفان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20