Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187849
Published : 14/6/2017 14:13

شب قدر اور اہل بیت(ع) کا باہمی تعلق

اس رات میں بندوں کے ایک سال کےمقدرات کو معین کیا جاتا ہے اور اس پرالہی دستخط ہوتے ہیں اور پھر وہ قابل تغییرنہیں ہوتے ، تاہم امام زمانہ علیہ السلام کی شفاعت تقدیرکی تبدیلی میں مؤثر ہے،انیس اور اکیس کی رات کو تمام مقدرات امام زمانہ علیہ السلام کے حضور میں پیش ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل:حوزہ  اور یونیورسٹی کی محققہ محترمہ خدیجہ محمدی نے شب قدراور اہل بیت علیہم السلام کے باہمی رابطے کو بیان کرتے ہوئے  کہا ہے کہ قرآنی آیات اور احادیث کی بنا پرشب قدرکا مقام بہت بلند ہے،اس رات کی اہمیت اتنی زیادہ ہےکہ قرآن کریم کی مختلف آیات اس رات کی خصوصیات کے بارے میں نازل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مستقل سورہ اس بارے میں نازل ہوا ہے اور وہ سورہ قدر ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ خلقت کےآغاز سے لےکرقیامت تک لیلۃ القدرکا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں قرآن کریم کے نزول اور اس رات کی قدر و منزلت کہ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، کے بارے میں گفتگو کی ہے یعنی اس رات میں عبادت ایک انسان کی پوری زندگی یعنی ۸۳سال کی عبادت سے افضل ہے۔
محترمہ محمدی نےکہا ہےکہ اس رات کو فرشتے اور روح  اہل بیت علیہم السلام پرنازل ہوتے ہیں اور بندوں کے ایک سال کے کاموں کے نظم وضبط اوران کی تقدیر کو ہردور کے امام کے سامنے پیش کرتے ہیں، کلی طور پراس رات میں انسانوں کی روزی، موت اورسعادت اور دیگر امور کو مقدرکیا جاتا ہے، اس کے علاوہ فرشتے اس رات کو عبادت کرنے والے بندوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ تفسیردرالمنثور میں ایک روایت ہے کہ ساتویں آسمان پر حظیرۃ القدس نامی ایک مقام  ہےکہ جہاں پر رہنے والے فرشتوں کو روحانیون کہا جاتا ہے،جب شب قدرآتی ہے تو وہ اس دنیا میں آنےکےلئے اپنے پروردگار سےاجازت طلب کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں اجازت دے دیتا ہے، پس وہ جس مسجد کے اوپر  سے بھی گزرتے ہیں وہاں پرنماز پڑھتے ہیں اور راستے میں جس کسی سے بھی ملتے ہیں اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اس بندے کو ان سے برکت اورنیکی ملتی ہے،اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق لیلۃ القدرکو نازل ہونے والے فرشتے امت کی شفاعت اور دستگیری کرتے ہیں۔
علوم حدیث کی اس محققہ نےایک اورحدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ جو شخص اس  رات کو سویا ہوتا ہے فرشتےاسے سترمرتبہ آواز دیتے ہیں تاکہ وہ آج کی رات کے اجر و ثواب سے محروم نہ رہے،لہذا مفسرین کہتے ہیں کہ فرشتے زمین پرآتے ہیں تاکہ تلاوت قرآن مجید، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اذکارکو سنیں۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ احادیث میں مختلف تعبیرات کے ساتھ آیا ہےکہ فرشتے ہر دور کے امام پرنازل ہوتے ہیں او راس رات میں بہت زیادہ فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ مسلسل صبح تک نازل ہوتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا ہے اور خاص علوم کے ساتھ امام زمانہ علیہ السلام پرنازل ہوتے ہیں کہ جنہیں انسانوں کے غیرحتمی امور اور واقعات کا علم کہا جاتا ہے،یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے امورکا علم اور ان کی تقدیرکو کلی طورپرامام کے لئے پہنچاتا ہے۔
محترمہ محمدی نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ: اس رات میں بندوں کے ایک سال کےمقدرات کو معین کیا جاتا ہے اور اس پرالہی دستخط ہوتے ہیں اور پھر وہ قابل تغییرنہیں ہوتے ، تاہم امام زمانہ علیہ السلام کی شفاعت تقدیرکی تبدیلی میں مؤثر ہے،انیس اور اکیس کی رات کو تمام مقدرات امام زمانہ علیہ السلام کے حضور میں پیش ہوتے ہیں اورآپ ان سب کو دیکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تئیس کی رات کو دعائے اللھم کن لولیک۔ ۔ ۔ کے پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہےکہ اس رات میں امام زمانہ علیہ السلام سے جتنابھی توسل کیا جائے اور ان سےقلبی ارتباط قائم کیا جائے وہ حتماً اثر رکھتا ہے۔
شبستان



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24