Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187874
Published : 15/6/2017 15:1

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے محفوظ گھر؟

بچوں کی بہتر تربیت کے لئے وہ گھر مناسب اور محفوظ ہے کہ جہاں اچھے خواب دیکھے جاتے ہوں اور بچوں کے خوابوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو اور بڑے بڑے خوابوں (Visions) پر گفتگو ہوتی ہو،ان کی بات غصے میں آئے بغیر سنی جاتی ہو، اور انہیں مُسکراتی ماں اور مشفق باپ میسر ہو۔

ولایت پورٹل:
بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لئے سب محفوظ اور مناسب وہ گھر ہوسکتا ہے کہ جہاں:
۱۔بچے گھر کی نوے فیصد چیزوں کو چھو سکتے ہوں،تجربہ کر سکتے ہوں۔(دس فیصد میں وہ چیزیں شامل ہیں کہ جو بچے کی زندگی یا صحت کےلیے نقصان دہ ہیں مثلا بجلی کے سوئچ، چولہا، تیز دھار چھری، نوکیلے کونے وغیرہ۔)
۲۔بچے آزادی سے کھیل سکتے ہوں،مرضی کے کھیل ایجاد کر سکتے ہوں۔
۳۔ بچوں کو اُن کی مثبت سرگرمیوں پر نوٹس کیا جاتا ہو۔
۴۔ بچوں کی بات غصے میں آئے بغیر سنی جاتی ہو ۔
۵۔ انہیں مُسکراتی ماں اور مشفق باپ میسر ہو۔
۶۔ بچوں کو اچھا خاصا وقت دیا جاتا ہو۔
۷۔ بچوں کے«گند»کو خوشی سے برداشت کیا جاتا ہو۔
۸۔ ان کے شور شرابے پر غصہ نہ کیا جاتا ہو۔
۹۔ ان کی شرارتیں اچھی لگتی ہوں۔
۱۰۔ ہر وقت ہدایات نہ دی جاتی ہوتی ہوں کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو۔
۱۱۔ گھر کے دیگر افراد ایک دوسرے پر چیختے چلاُتے نہ ہوں۔
۱۲۔ بچوں کی عزت ایسے ہو کہ جیسے وہ بہت بڑی شخصیت ہوں۔
۱۳۔ انہیں زبردستی کاموں کے لیے تیار نہ کیا جاتا ہو اور نہ لالچ کے ذریعے بہلا پھسلا کر۔
۱۴۔ بچے کی رائے کا احترام ہو۔
۱۵۔بچے مشورہ مانگیں تو دیا جاتا ہو اور مشورہ قبول نہ ہونے پر برا نہ مانا جاتا ہو۔
۱۶۔ بچوں کے لیے دلچسپ کتابیں ہوں مگر انہیں پڑھنے کے لیے مجبور نہ کیا جاتا ہو۔
۱۷۔ انہیں زبر دستی سکول نہ بھیجا جاتا ہو۔
۱۸۔وہ اپنی ماں اور باپ وغیرہ کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف دیکھتا ہو۔ مثلاً کتابیں پڑھتے، قرآن پڑھتے، آپس میں باتیں کرتے، لکھتے، کھیلتے وغیرہ۔
۱۹۔ ٹی۔وی نہ ہو دیگر سکرین کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہو جیسے موبائل وغیرہ۔
۲۰۔ گھر میں مادی چیزوں کی محبت نہ ہو اور نہ اس پر بات کی جاتی ہو،مہنگی چیزوں کے خریدنے کی خواہش نہ ہو۔
۲۱۔ اکثر گھومنے پھرنے جایا جاتاہو اور وہ بھی فطری خوبصورتی کی جگہوں پر۔
۲۲۔ بے پناہ محبت ملتی ہو۔ بوسہ کرنا، گلے لگانا، بچوں کی باتیں سننا وغیرہ۔
۲۳۔ بچوں پر اعتماد کیا جاتا ہو،شک کا مرض نہ ہو۔
۲۴۔ بچوں کی غلطیوں پر برا نہ منا جاتا ہو۔
۲۵۔ بچوں کو دھمکیاں نہ دی جاتی ہوں۔
۲۶۔ انہیں محلے کے دوسرے بچوں سے ، ان کے کزنز یا آپس میں موازنہ نہ کیا جاتاہو،ہر بچے کے مختلف ہونے کو سراہا جاتا ہو۔
۲۷۔ بچوں سے ہونے والےنقصان پر دل گرفتگی نہ ہوتی ہو بلکہ یہ سوچا جاتا ہو کہ بچوں نے اپنی غلطیوں سے کیا سیکھا؟           
۲۸۔ امی اور ابو کے باہمی تعلقات شاندار ہوں۔
۲۹۔ بچوں کی شکایتیں اُن کے ابو سے بچوں کے سامنے نہ لگائی جاتی ہوں۔
۳۰۔ صحت مند غذا کا استعمال ہو اور مصنوعی خوراک سے پرہیز کیا جاتا ہو۔
۳۱۔ بچوں کو بڑوں کی مجلس میں بیٹھنے کا بھرپور موقع دیا جاتاہو۔
۳۲۔ امی ابو بچوں کے سامنے نہ لڑتے جھگڑتےنہ ہوں۔
۳۳۔ بچوں پر کسی قسم کا خوف نہ ہو(بڑے ہونے پر صرف اللہ کا خوف ہو)
۳۴۔ بچوں کے سوالات پر انہیں مطمئن کیا جاتا ہو۔
۳۵۔ بچوں کی دوستیوں پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔
۳۶۔ ایک صحت مند ، سرگرم، خوش ماں ہر وقت بچے کے لیے میسر ہو۔ بیمار مائیں بچوں کو بیمار کردیتی ہیں۔
۳۷۔ گھر کے کاموں کی نہیں بلکہ بچوں کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہو۔
۳۸۔ بچے کا باپ بچوں کا گہرا دوست ہو۔
۳۹۔ مہمانوں کے سامنے بے عزتی نہ ہوتی ہو،اور نہ مہمانوں کی خاطر انہیں روٹین سے ہٹ کر ہدایات دی جاتی ہوں۔
۴۰۔ اپنے والدین سے بچے شکریہ، معذرت ، ان شاء اللہ ، الحمدللہ السلام علیکم ، مجھے تم سے محبت ہے جیسے الفاظ بکثرت سنتے ہوں۔
۴۱۔ اعلیٰ خیالات زیر بحث آتے ہوں،لوگوں کی غیبتیں نہ ہوتی ہوں۔
۴۲۔ ابو امی سے بے پناہ پیار کرتے ہوں اور بچے اس بات کو جانتے ہوں۔
۴۳۔ سب رشتے داروں کے یہاں آنا جانا ہو۔
۴۴۔ گھر میں سامان کم اور کتابیں زیادہ ہوں، لکھنے ،آرٹ والی چیزیں، بکثرت ہوں کھیل کا سامان وافر ہو۔
۴۵۔ بچوں کو علمی مجالس میں لے جایا جاتا ہو۔
۴۶۔ گھر کا مسجد سے تعلق گہرا ہو۔
۴۷۔ رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اُٹھنے کا ماحول ہو۔
۴۸۔ والدین اپنی تربیت کے لیے کسی علمی حلقے ، صاحب علم یا مربی سے جڑے ہوئے ہوں۔
۴۹۔ یہ نہ کہا جاتا ہو کہ تم بڑے ہو کر یہ بنو گے بلکہ ماحول دیا جارہا ہو۔
۵۰۔ بچوں کی خودی ، عزت نفس اور انا محفوظ ہو۔
۵۱۔ بچوں کی بات کو بڑوں کی طرح اہمیت دی جاتی ہو۔
۵۲۔ دنیا کی فکر نہ ہو آخرت کی تیاری ہو لیکن حکمت اور دانائی سے۔
۵۳۔ بچوں کو انتخاب کا پورا حق حاصل ہو۔
۵۴۔ گھر دیکھ کر لگے کہ یہ گھر بچوں کا گھر ہے۔
۵۵۔ گھر تنگ گلیوں کی بجائے کسی کشادہ جگہ پر ہو اگرچہ شہر سے دور ہو لیکن آوازوں، دھویں، گرد مٹی وغیرہ آلودگی سے دور ہو، رات کو صحن یا چھت سے تارے نظر آتے ہوں۔
۵۶۔ گھر میں تازہ ہوا اور سورج کی روشنی آتی ہو۔
۵۷۔ گھر میں بکثرت پودے ہوں اور بچوں کو کیڑے مکوڑوں سے کھیلنے پر آزادی ہو۔
۵۸۔ والدین بچوں سے بات بات پر ضد نہ لگاتے ہوں۔
۵۹۔ گھر میں اچھے خواب دیکھے جاتے ہوں اور بچوں کے خوابوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو اور بڑے بڑے خوابوں (Visions) پر گفتگو ہوتی ہو۔
۶۰۔ تمام بچوں سے یکساں سلوک ہوتا ہو،چھوٹے بڑے بیٹا بیٹی کی تفریق نہ ہوتی ہو۔
۶۱۔ گھر میں شور نہ ہو چیزوں کا اور نہ ہی انسانوں کا(بچے کی باتیں شور نہیں ہوتیں)۔
۶۲۔ گھر میں پر تعیش ماحول نہ ہو مثلاً صوفے، اے سی، قیمتی ڈیکوریشن پیس، شیشے کی میزیں وغیرہ۔
۶۳۔ بچے گھرکے کاموں میں حصہ لیتے ہوں۔
۶۴۔ شجاعت بہادری کے کام بچوں کو دکھائے جاتے ہوں اور انہیں کرنے کی ترغیب دی جاتی ہو۔
۶۵۔ گھر میں بچوں کے سامنے فکر معاش کی باتیں نہ ہوتی ہوں۔
۶۶۔ بچوں کو کہانیاں سنائی جاتی ہوں اور بچوں کی کہانیاں سنی جاتی ہوں۔
۶۷۔ بچوں سے ایسی زبان میں بات نہ کی جاتی ہو جسے وہ سمجھتے نہ ہوں(جیسے انگریزی وغیرہ)
۶۸۔ گھر میں سادگی کا ماحول ہو۔
۶۹۔ بچوں کے بات نہ ماننے پر غصہ نہ کیا جاتا ہو بلکہ یہ سوچا جاتا ہو کہ ایسا کیوں ہے؟
۷۰۔بچے گھر میں یہ الفاظ نہ سنیں:«جلدی کرو»،«لوگ کیا کہیں گے»،«تم بڑے کب ہو گے»،«خاموش ہو جاؤ» وغیرہ
۷۱۔بچوں کی ہر وقت نگرانی نہ ہوتی ہو بلکہ انہیں تنہائی بھی میسرہونی چاہیے۔                                                             
۷۲۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا تصور ابتدائی عمر سے دیا جاتا ہو۔
تحریر: انجینئر نوید قمر
ڈائریکٹر(FEEL)پاکستان
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19