Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187877
Published : 15/6/2017 15:53

شب قدر کی اھمیت و برکت(2)

شیخ طبرسی بھی اس سلسلہ میں ابوذر غفاری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابوذرنے پیغمبر اکرم(ص) سے سوال کیا٬ یا رسول اللہ(ص) کیا شب قدر اور فرشتوں کا اس شب میں نازل ہونا فقط پیغمبروں کے زمانہ میں ہے اور پیغمبروں کے بعد شب قدر کا وجود نہیں ہے؟رسول اکرم(ص) نے فرمایا: نہیں٬ بلکہ شب قدر کا وجود قیامت کے دن تک ہے۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ شب قدر وہ رات ہے جو ہر سال ماہ رمضان کی آخری تاریخوں میں اجاگر ہوتی ہے یہ وہ شب ہے جس میں نہ صرف قرآن نازل ہوا ہے بلکہ خدا وند عالم نے اس رات کے لۓ فرمایا ہے:۔{ فیھا یفرق کل امر حکیم...} اس قدر کی رات میں ہر وہ حادثہ اور امور جو سال بھر میں ظاہر ہوگا جیسے نیکی برائی اطاعت اور معصیت یا وہ اولاد جسکو پیدا ہونا ہے یا وہ موت جو آئیگی یا وہ رزق جو ملے گا سب کے سب تقدیر میں لکھ دیئے جاتے ہیں،لہذا آج کے کالم کو پڑھنے سے پہلے گذشتہ کالم کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
شب قدر کی اھمیت و برکت(1)
گذشتہ سے پیوستہ:علامہ مجلسی امام محمد تقی(ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے:(...لقد خلق اللہ تعالی لیلة القدر اول ما خلق الدنیا ولقد خلق فیھا اول نبی یکون واول وصی یکون...) خداوند نے شب قدر کو اس دنیا کی خلقت کے آغاز میں خلق کیا ہے اور اسی شب میں اس نے اپنے پہلے نبی اور وصی کو قرار دیا ہے۔
دوسری جانب رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے(ان اللہ وھب لامتی لیلة القدر لم یعطھا من کان قبلھم ) خدوند عالم نے میری امّت کو شب قدر کی نعمت سے نوزا ہے جبکہ پہلے والی امّتوں کو یہ نعمت عطا نہیں ہوئ تھی۔
ان دونوں روایتوں کو جمع کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شب قدر کا وجود پہلے سے تھا لیکن اسکی فضیلتوں کو خداوند نے امّت اسلام سے مخصوص کر دیا جو پہلے والی امّتوں کو عطا نہیں ہوئی تھیں۔
اس لیۓ شب قدر ایک حقیقی اور واقعی چیز ہے جس کو خداوند عالم نے قرار دیا ہے۔
سورہٴ قدر کی آیتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر سال میں ایک شب «قدر» کے نام سے موسوم ہے،کہ جس کی فضیلت ہزار ماہ سے زیادہ ہے اس شب میں اللہ کے فرشتہ بالخصوص روح الامین اللہ کے ہر فرمان اور تقدیر کو کہ  جو ایک سال کے لیۓ مقّرر ہوتی ہے لیکر نازل ہوتے ہیں۔
وہ احادیث جو سورہ قدر اور سورہ دخان کی شروع کی آیتوں کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں ان احادیث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شب قدر میں اللہ کے فرشتے ایک سال کی تقدیر کو امام زمانہ(عج) کی خدمت میں عرض کرتے ہیں یہ واقعیت پہلے تھی اور آیندہ بھی رہے گی۔
پیغمبر اکرم(ص) کی حیات میں اللہ کے فرشتے تقدیر سال کو رسول اکرم(ص) کی خدمت میں پیش کرتے تھے اس بات کو سبھی نے قبول کیا ہے۔
اور پیغمبر(ص) کی رحلت کے بعد بھی شب قدر کا وجود قرآن کی آیات اور روایات سے ثابت ہے۔
رشیدالدین میبدی اھل سنّت کے معروف مفسر کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شب قدر پیغمبر(ص)کے زمانہ میں تھی اور ان کے بعد ختم ہو گئ۔
لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ تمام اصحاب پیغمبر(ص)اور علماء اسلام اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ شب قدر قیامت تک باقی رہے گی۔
شیخ طبرسی بھی اس سلسلہ میں ابوذر غفاری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابوذرنے پیغمبر اکرم(ص) سے سوال کیا٬ یا رسول اللہ(ص) کیا شب قدر اور فرشتوں کا اس شب میں نازل ہونا فقط پیغمبروں کے زمانہ میں ہے اور پیغمبروں کے بعد شب قدر کا وجود نہیں ہے؟رسول اکرم(ص) نے فرمایا: نہیں٬ بلکہ شب قدر کا وجود قیامت کے دن تک ہے۔
اس بات میں شک نہیں ہے کہ شب قدر ماہ رمضان کی ایک شب ہے کیونکہ یہ بات قرآن کی آیات سے ثابت ہے چنانچہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:«شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن»بقرہ: 185
دوسری جانب ارشاد فرماتا ہے:«انّا انزلناہ فی لیلة القدر»
لیکن یہ کہ رمضان کی کون سی شب ہے اس کے لئے روایات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
شیعہ اور اھل سنّت کی روایات میں شب قدر کے سلسلہ میں مختلف احتمالات دیئے گئے ہیں۔
مثلاً شب 29٬27٬23٬21٬19٬17وغیرہ۔
لیکن شیعوں کے درمیان ائمہ(ع) کی روایات کی بنیاد پر شب 23٬21٬19 کا احتمال زیادہ ہے۔
انہوں نے روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : سید ابن طاووس نے کتاب اقبال الاعمال میں شب قدر کے سلسلہ سے متعدد روایتوں کو جمع کیا ہے،جنمیں مجموعی طور سے شب 23٬21٬19میں عبادت اور دعا کرنے کی بہت تاٴکید کی گئی ہے،امام صادق(ع) سے سوال کیا گیا شب قدر کو معیّن کریں آپ نے فرمایا اسکو اکیسویں اور تئیسویں شب میں تلاش کرو،جب راوی نے چاہا امام ایک شب کو بیان کریں کہ کون سی شب٬ شب قدر ہے تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے کیا مشکل ہے کہ تم دو شبوں میں سے شب قدر کو تلاش نہیں کرسکتے ہو جبکہ مختلف روایتوں میں یہ بات آئی ہیکہ شب قدر رمضان کی تئیسویں شب ہے،البتہ ائمہ اطہار(ع) کے لئے شب قدر واضح ہے کیونکہ اس شب میں فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں لیکن ائمہ(ع) کا اصرار کئی شبوں کے لئے صرف اس وجہ سے ہے تاکہ بندگان خدا زیادہ سے زیادہ خدا کی عبادت کرسکیں۔
ان تمام باتوں پر توجہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شب قدر ہر سال میں ہوتی ہے اور صرف ایک بار ہوتی ہے تاریخ اور وقت کا اختلاف باعث نہیں ہوتا ہے کہ کئی شب قدر ہوں۔
اس بنا پر روایات میں تاٴکید کی گئ ہے کہ رمضان کے آخری 10 دن یا حد اقل شب ٬19 ٬21 23 میں زیادہ سے زیادہ عبادت کی جائے،خود پیغمبر اکرم(ص) دھہ آخری رمضان میں اعتکاف کرتے تھے، بعض بزرگان شیعہ نے شب قدر کو درک کرنے کے لیۓ پورے سال کی راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارا ہے تاکہ وہ یقینی طور سے شب قدر کے ثواب کو حاصل کر سکیں بہر حال شب قدر صرف ایک شب ہے اور زیادہ احتمال یہ ہیکہ ماہ رمضان کی آخری 10 شبوں بالخصوص اکیسویں یا تییسویں شب میں سے کوئی ایک شب ہے۔
موٴمنین اس شب کو درک کرنے کی کوشش کریں اور راتوں کو جاگ کر عبادت میں بسر کریں
چونکہ شب قدر میں فرشتوں کے نازل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی بر تیں بھی نازل ہوتی ہیں جنمیں اھم ترین سال بھر کی تقدیر کا معین ہونا ہے اسکے علاوہ فرشتوں کا جمعی طور سے نازل ہونا نورانیت اور برکت کا باعث ہوتا ہے یہ انسان کے لئے توبہ اور دعا کا بہت اچھا موقع ہوتا ہے اس میں انسان اپنے درجات کو خداکی بارگاہ میں بلند کرسکتا ہے اس طرح سے کہ انسان ایک شب کی عبادت سے ایک ہزار ماہ کا فائدہ  حاصل کر سکتا ہے۔
erfan
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22