Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187880
Published : 15/6/2017 16:15

جو قوم شب قدر میں اپنی قسمت کو سنوارے وہ کبھی بدقسمتی کا شکار نہیں ہوسکتی:رہبر انقلاب

جو قوم اپنے دل کو اس طرح پاکیزہ بنا کر اپنے خدا کے در پر حاضری دیتے ہوئے اس کی پناہ حاصل کرے گی وہ کبھی بھی بدقسمتی کا شکار ہوکر ذلیل و خوار نہیں ہوگی،وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل و رسوا نہیں ہوگی اور نہ ہی دشمن کے دام فریب میں مبتلا ہوگی اور داخلی اختلاف کا شکار نہیں ہوگی۔

ولایت پورٹل:شب قدر بھی ان تین راتوں (۱۹، ۲۱ ،۲۳ )میں  سے ایک ہے، مرحوم محدث قمی کے ذریعہ نقل کی جانے والی روایت کے مطابق سوال کیا گیا کہ ان دو یا تین راتوں اکیسویں یا تیئیسویں کی شب میں سے کون سی شب، شب قدر ہے؟ جواب میں فرمایا: کتنا آسان ہے کہ آدمی دو یا تین شب کو شب قدر کے عنوان سے ملاحظہ کرے اس کی کیا اہمیت ہے کہ تین راتوں میں شک کیا جائے، آخر تین راتیں ہیں کتنی؟ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سارے رمضان کے مہینہ کی پہلی سے لے کر آخر تک کی راتوں کو شب قدر شمار کیاکرتے تھے اور اعمال انجام دیا کرتے تھے!اس کی قدر ومنزلت کو پہچانیں!
جو قوم اپنے دل کو اس طرح پاکیزہ بنا کر اپنے خدا کے در پر حاضری دیتے ہوئے اس کی پناہ حاصل کرے گی وہ کبھی بھی بدقسمتی کا شکار ہوکر ذلیل و خوار نہیں ہوگی،وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل و رسوا نہیں ہوگی اور نہ ہی دشمن کے دام فریب میں مبتلا ہوگی اور داخلی اختلاف کا شکار نہیں ہوگی،جو قومیں ذلیل و خوار ہوتی ہیں اور بد نصیبی و مصیبت ان کا مقدّر بن جاتی ہے:«فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ»۔
وہ اس لئے ہے کہ خودہم اپنی غلطیوں، گناہوں اور خطائوں کے سبب اپنی تقدیر کو ایسا بناتے ہیں، جو کوئی درگاہِ ایزدی کا رخ کرتا ہے وہ گناہ سے محفوظ ہونے اور خود کو بچانے اور عصمت سے قریب ہونے میں ایک قدم آگے بڑھا لیتا ہے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17