Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187882
Published : 15/6/2017 16:40

امیرالمؤمنین(ع)تاریخ کی سب سے شجاع مگر مظلوم شخصیت ہیں:رہبر انقلاب

آپ(ع) کا اقتدارآپ(ع) کی قوت ارادی سے، آپ(ع)کے فولادی ارادہ سے آپ(ع) کے عزم راسخ سے،مشکل ترین لشکری وفوجی زمرے میں قیادت کرنے سے ،اذہان و افکارکی بلند ترین اسلامی و انسانی مفاہیم کی طرف راہنمائی کرنے سے اور مالک اشتر، عمار، ابن عباس اور محمد بن ابی بکر جیسے عظیم لوگوںکی تربیت کرنے نیز تاریخ بشر میں ایک تحرّک پیدا کرنے سے عبارت ہے۔

ولایت پورٹل:حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت و حیات اور شہادت میں تین عنصر ایسے جمع ہوگئے ہیں جن میں بظاہر کوئی ہم آہنگی نہیں ہے، یہ تین عنصر ،اقتدار، مظلومیت اور کامیابی سے عبارت ہیں۔
آپ(ع) کا اقتدارآپ(ع) کی قوت ارادی سے، آپ(ع)کے فولادی ارادہ سے آپ(ع) کے عزم راسخ سے،مشکل ترین لشکری وفوجی زمرے میں قیادت کرنے سے ،اذہان و افکارکی بلند ترین اسلامی و انسانی مفاہیم کی طرف راہنمائی کرنے سے اور مالک اشتر، عمار، ابن عباس اور محمد بن ابی بکر جیسے عظیم لوگوںکی تربیت کرنے نیز تاریخ بشر میں ایک تحرّک پیدا کرنے سے عبارت ہے، آپ(ع) کے اقتدار کا مظہر، منطق کا اقتدار، فکر و سیاست کا اقتدار اور حکومت و دبدبہ کا اقتدار اور شجاعت کا اقتدار تھا، امیرالمومنین(ع)کی شخصیت میں کسی بھی لحاظ سے کمزوری نہیں ہے اس کے باوجود آپ(ع) تاریخ کے مظلوم ترین انسان ہیں اور آپ(ع) کی زندگی کے ہر حصہ میں مظلومیت ہے جوانی کے زمانہ میں بھی مظلوم تھے، رسول(ص)کے بعد جوانی میں مظلوم واقع ہوئے خلافت کے دوران مظلوم ہوئے، شہادت کے بعد بھی مظلوم رہے ایک عرصہ تک منبر سے آپ(ع)کو برابھلا کہا گیا، آپ(ع)کی طرف جھوٹ کی نسبت دی گئی، آپ(ع) کی شہادت بھی مظلومانہ تھی۔
تمام اسلامی آثار میں ہمیں دو اشخاص ایسے نظر آتے ہیں، جنہیں «ثاراللہ»کہا گیا ہے، فارسی میں ہمیں کوئی لفظ ایسا نہیں ملتا جو عربی اصطلاح «ثار» کے مکمل مفہوم کو ادا کردے،اگر کسی خاندان سے کوئی شخص ظلم کے ساتھ قتل کردیا جائے تو اس کا خاندان اس کے خون کا وارث ہوتا ہے،اس کو ثار کہتے ہیں اور یہ خاندان اس کا خونبہا طلب کرسکتا ہے،ثار کو اگر خونِ خدا کہتے ہیں تو یہ تعبیر بھی نارسا ہے اور پورا مفہوم ادا کرنے سے قاصر ہے «ثار» یعنی خون خواہی و خونبہا طلبی کا حق، اگر کوئی شخص ایک خاندان کا ثار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خاندان اس کا انتقام لینے کا حق رکھتا ہے،تاریخ اسلام میں دو نام آتے ہیں کہ جن کے خون کا منتقم اور خونخواہی کا حق رکھنے والا خدا ہے ایک امام حسین(ع) اور دوسرے امیرالمؤمنین(ع) «یَا ثَارَ اللّٰہِ وَابْنَ ثَارِہ»   ان کے پدر بزرگوار امیرالمؤمنین(ع)کی خونخواہی کا حق بھی خدا کو ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24