Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187891
Published : 17/6/2017 14:33

رہبرمعظم کی نظر میں امریکہ کی حقیقت

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کی شام تہران میں صدر مملکت، حکومتی اراکین، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے سربراہوں اور سینئر حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی حقیقی ماہیت کا ذکر کیا-

ولایت پورٹل:رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کی شام تہران میں صدر مملکت، حکومتی اراکین، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے سربراہوں اور سینئر حکام کے ساتھ ایک ملاقات میںاسلامی جمہوریہ ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ کے غیرشائستہ اور بیہودہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ استکباری طاقتیں اپنی خواہشات اور مطالبات کو مسلط  کرنے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتی ہیں اورنام نہاد عالمی اصول و ضوابط کی آڑ میں سامراجی قوتوں کے مقاصد کو پورا کیا جاتا ہے جس کا مقصد آزاد اور خودمختار ممالک کو جو ظلم و بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، قانون توڑنے کا ملزم ٹھہرایا جائے،رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں ایران کے بارے میں امریکیوں کے حالیہ بیانات کا ذکر کیا کہ جو اپنے تشہیراتی پروپیگنڈوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے علاقے میں عدم استحکام کے مسئلے کو بین الاقوامی اصول و ضوابط اور معیار کا نام دے رہے ہیں ،رہبر انقلاب اسلامی کا بیان درحقیقت بین الاقوامی اصول و ضوابط کے تعلق سے امریکی اہداف کی قلعی کھولنا ہے کہ اگر اس بارے میں صحیح طریقے سے غور وفکر کیا جائے تو بہت سی مشکلات و مسائل کے اصلی علل و اسباب واضح ہوجائیں گے،امریکہ کے مشہور سیاستداں اور نظریہ پرداز نوام چامسکی نے کچھ دنوں قبل ایک انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ امریکی حکام ایران کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں کہا تھا کہ " امریکہ ، ایران کو امن و سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قراردیتا ہے لیکن خود امریکی عوام کے  سروے اور گیلپ کے سروے کے مطابق اقوام عالم کا یہ خیال ہے کہ امریکہ ہی عالمی امن و سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے،البتہ چامسکی وہ واحد فرد نہیں ہیں کہ جو اس سلسلے میں امریکہ کے آشکار وپنہاں اہداف کی ماہیت کے بارے میں حقائق کو بیان کرتے ہیں اسی طرح کے حقائق کا اظہار امریکہ کے ریپبلکن سینیٹر " رنڈ پال"  نے بھی کچھ مہینہ قبل سینٹ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایران کے بارے میں اس حد تک بے چینی کا شکار ہیں کہ علاقائی جھڑپوں میں سعودی عرب کے انتہا پسند وہابیوں کے کردار اور اسی طرح عالمی دہشت گردی کو فراموش کر بیٹھے ہیں- انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حمایت سعودی عرب کرتا ہے نہ کہ ایران ،بین الاقوامی تنازعات اور جنگیں کرانے میں امریکہ کا کردار ، اسی طرح امریکہ کے توسط سے  ٹوکیو کے آب و ہوا کنوینشن سے لے کر پیرس کے آب وہوا سمجھوتے اور دیگر بین الاقوامی معاہدے توڑنا  نیز این پی ٹی معاہدے کو نظر انداز کرنا ، ایٹمی ہتیھیاروں کا استعمال کرنا ، اور دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنا  ، عالمی سطح پر امریکی خلاف ورزیوں اور قوانین کی پامالی کا واضح نمونہ ہیں- بین الاقوامی سطح پر یہ خلاف ورزیاں اور تخریبی اقدامات ہی اقوام عالم کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ علاقائی اورعالمی میدان میں امریکہ کے حقیقی کردار کا رخ کس جانب ہے اور یہ کہ کیا واقعی میں امریکہ عالمی مسائل حل کرنا چاہتا ہے یا یہ کہ خود ہی مسائل و مشکلات، خطروں، بحرانوں اور جنگوں  کو وجود میں لانے والا ہے،بلاشبہ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے اعلی حکام سے اپنے خطاب میں جن اہم مسائل کا ذکرکیا  وہ کئی جہات سے اہمیت کے حامل ہیں کہ جن میں سے ایک امریکہ کی حقیقی ماہیت کی شناخت اور اس پر توجہ ہے ،لیکن اس سے اہم ، عالمی سطح پر ایران مخالف امریکی رویوں ، پروپیگنڈوں اور دھمکیوں کے مقابلے میں اسلامی جمہوری نظام کی عظیم حکمت عملیاں ہیں،ان تمام مسائل اور امریکی پالیسیوں میں پائی جانے والے آشکارہ و پنہاں حقائق ہی اس بات کا باعث بنے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ  امریکہ کے ساتھ  اکثر مسائل کا حل ممکن نہیں اورامریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام یا انسانی حقوق سے تکلیف نہیں بلکہ اس کا اصل مسئلہ ایران میں قائم اسلامی جمہوری نظام ہے،آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی طرح ایران کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، دہشت گردی اور علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے دعوے کو ایران کے نظام کے خلاف امریکی بہانہ قرار دیا اور فرمایا : امریکہ خود دہشت گرد اور دہشت گردوں کو وجود میں لانے والا اور صیہونی حکومت جیسی غاصب اور غیرقانونی حکومت کا حامی ہے کہ جو دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کی بنیاد ہی دہشت گردی اور قتل وغارتگری پر استوار ہے اس لئے امریکہ کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا جاسکتا-    
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19