Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187912
Published : 18/6/2017 15:40

شب قدر کے بہترین اعمال کیا ہیں؟

شہید مطہری فرماتے ہیں: خدا کی قسم ایک ورزش ایک دن کی ہے اس کا ایک گھنٹہ ایک گھنٹہ ہے اگر ایک رات کی تاخیر کریں تو اشتباہ کیا ایسا مت کہئے کہ کل کی رات تئیسویں کی رات ہے، شب قدر کی ایک رات ہے اور توبہ کے لئے بہتر ہے کہ نہیں، آج کی رات کل کی رات سے بہتر ہے،آج کا ایک گھنٹہ آنے والے کل کے گھنٹہ سے بہتر ہے،ہر ایک لمحہ آنے والے لمحہ سے بہتر ہے،عبادت توبہ کے بغیر قبول نہیں ہوتی،پہلے توبہ کرلینا چاہیے،پہلے اپنے آپ کو دھونا چاہیے،پھر اس پاک و پاکیزہ جگہ میں وارد ہونا چاہیے۔

ولایت پورٹل:
شب قدر کی فرصت کو غنیمت سمجھنا:
خداوند متعال نے قرآن کریم میں حضرت رسول اکرم (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) سے مخاطب ہو کر فرمایا:«إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِی لَیلَةِ الْقَدْرِ. وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیلَةُ الْقَدْرِ»۔ہم نے قرآن کو شب قدر نازل میں کیا ہے مگر آپ کیا جانتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے؟
شب قدر کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس رات میں انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے، اور جو انسان اس سے با خبر ہو وہ زیادہ ہوشیاری سے اس قیمتی وقت سے استفادہ کرے گا،لہٰذا شب قدر کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل یہی ہے کہ انسان اس فرصت کو غنیمت سمجھے یہ فرصت انسان کو ہر بار نہیں ملتی ہے۔
توبہ:
اس رات کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل توبہ ہے جیسا کہ شہید مطہری فرماتے ہیں: خدا کی قسم ایک ورزش ایک دن کی ہے اس کا ایک گھنٹہ ایک گھنٹہ ہے اگر ایک رات کی تاخیر کریں تو اشتباہ کیا ایسا مت کہئے کہ کل کی رات تئیسویں کی رات ہے، شب قدر کی ایک رات ہے اور توبہ کے لئے بہتر ہے کہ نہیں، آج کی رات کل کی رات سے بہتر ہے،آج کا ایک گھنٹہ آنے والے کل کے گھنٹہ سے بہتر ہے،ہر ایک لمحہ آنے والے لمحہ سے بہتر ہے،عبادت توبہ کے بغیر قبول نہیں ہوتی،پہلے توبہ کرلینا چاہیے،پہلے اپنے آپ کو دھونا چاہیے،پھر اس پاک و پاکیزہ جگہ میں وارد ہونا چاہیے، ہم توبہ نہیں کرتے ہیں تو کیسی عبادت کرتے ہیں؟! ہم توبہ نہیں کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور حج پر چلے جاتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور ذکر کہتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں میں شرکت کرتے ہیں؟! خدا کی قسم اگر آپ پاک ہونے کے لئے ایک توبہ کریں تاکہ پھر توبہ اور پاکیزگی کی حالت میں ایک دن اور ایک رات نماز پڑھیں وہی ایک دن رات کی عبادت آپ کو دس سال آگے بڑھائے گی،اور پروردگار کے مقام قرب کے قریب پہنچائے گی، ہم نے دعا کے سوراخ کو گم کیا ہے اور اس کے راستے کو بھی نہیں جانتے ہیں،چنانچہ امام علی(علیہ السلام) توبہ کے چھ رکن بیان کرتے ہیں:
١۔ اپنے گناہوں پر پشیمان ہونا۔
2۔ ارادہ کرے کہ اب دوبارہ کبھی بھی گناہ نہیں کرے گا۔
٣۔ حقوق الناس ادا کرنا۔
٤۔ حقوق الہیٰ ادا کرنا ۔
٥۔ جو گوشت رزق حرام سے بدن پر چڑھا ہے وہ پگھل کے رزق حلال سے نیا گوشت بدن پر چڑھے ۔
6۔ جس طرح بدن نے گناہوں کا مزہ چکھا ہے اس طرح اطاعت کا مزہ چکھنا چاہئے تو اسی صورت میں خدا نہ صرف اس کو دوست رکھتا ہے بلکہ اپنے محبوب بندوں میں اسے قرار دیتا ہے (۱)۔
دعا:
اب جبکہ بندہ گمراہی اور ضلالت کے راستے کو چھوڑ کے ہدایت اور نور کے راستے کی طرف چل پڑا ہے اور اپنے خدا کی جانب رواں دواں ہے، اب خدا کو پکارے اور اس کے ساتھ ارتباط برقرار کرے، دعا کرے، دعا کے اصل معنی یہی ہیں کہ انسان اپنے دل کا حال بیان کرکے در واقع خدا سے ارتباط پیدا کرے ۔
تفکر اور معرفت:
اس کے بعد کہ انسان نے فرصت کو غنیمت سمجھ کے اپنے افکار اور اعمال کے اشتباہات سے واقفیت حاصل کرکے یہ ارادہ کر لیا کہ اب کبھی بھی گناہ نہیں کرے گا اپنی اصلاح کرے گا دل شناحت اور معرفت کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے،اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے بڑی معرفت ہے اور اس سے دل نورانی ہو جاتا ہے،اور حقیقی معرفت انسان کو بندگی کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا کے خلافت الہی کا وارث بنا دیتی ہے، البتہ خودشناسی اس معرفت حقیقی کے لئے پیش خیمہ ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے:من عرف نفسه فقد عرف ربه»یعنی خود شناسی خداشناسی کا سبب بنتی ہے ۔
گوہر نقوی



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17