Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189582
Published : 14/9/2017 13:23

سعودی عرب میں حکومت مخالف شہزادوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

سعودی عرب کے حکمران خاندان میں بادشاہت کی کرسی کو لے کر رسہ کشی جاری ہے، خاص طور پر محمد بن سلمان نے اپنے والد کا جانشین بننے کے لئے کافی عرصے سے جوڑ توڑ شروع کر دیا تھا،باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہی دربار کے بعض افراد، سعودی عرب کے ناتجربہ کار وزیر دفاع اور ملک سلمان کے فرزند و جانشین محمد بن سلمان کو جنگ یمن کے دلدل میں پھنسنے کا ذمہ دارسمجھتے ہیں۔

ولایت پورٹل:رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دسیوں مخالف شہزادوں کو گرفتار کرکے نظر بند کردیا گیا ہے۔
بن سلمان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومتی اہلکاروں نے 6 ستمبر کو شہزادہ محمد بن عبدالرحمن کو بھی سیاسی وجوہات کی بنا پر گرفتار کرلیا ہے ان پر الزام ہے کہ وہ بادشاہت کے خلاف جاری مہم کو مزید ہوا دے رہے تھے۔
6ستمبر کو ہی سعودی عرب کے سابق بادشاہ فہد بن عبدالعزیز کے فرزند عبدالعزیز بن فہد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عبدالعزیز نے سوشل میڈیا پر اظہار خیال کرتے ہوئے سعودی نظام حکومت کے خلاف موقف اپنایا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیج پر لکھا تھا کہ میں حج ادا کرنے کے بعد اپنے چچا سے ملاقات کرنے کا سوچ رہا ہوں لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں وہ مجھے جان سے  نہ مار نہ دیں،اس پوسٹ کے بعد شاہ فہد کے بیٹے کی کسی کو کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے۔
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر ایک نوجوان سعودی شہزادے سعود بن عبدالعزیز بن مساعد بن سعود بن عبدالعزیز آل سعود کو دارالحکومت الریاض میں پولیس نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔
واضح رہے کہ عرصہ پہلے یورپ میں رہنے والے تین سعودی شہزادے بھی لاپتہ ہو چکے ہیں،یہ تینوں شہزادے بھی سعودی بادشاہی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور ان کی گمشدگی کے بارے میں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اغوا کر کے سعودی عرب لے جایا گیا ہے اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔
آل سعود کے شاہی خاندان کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نے امریکی حکام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آل سعود خاندان میں اس سے زیادہ اختلافات بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن بھی محمد بن سلمان کے اقدامات سے کہ جو امریکیوں کے بقول ریاض کے استحکام کو درہم برہم کررہے ہیں، خوش نہیں ہے۔
سعودی عرب کے حکمران خاندان میں بادشاہت کی کرسی کو لے کر رسہ کشی جاری ہے، خاص طور پر محمد بن سلمان نے اپنے والد کا جانشین بننے کے لئے کافی عرصے سے جوڑ توڑ شروع کر دیا تھا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہی دربار کے بعض افراد، سعودی عرب کے ناتجربہ کار وزیر دفاع اور ملک سلمان کے فرزند و جانشین محمد بن سلمان کو جنگ یمن کے دلدل میں پھنسنے کا ذمہ دارسمجھتے ہیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19