Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189593
Published : 14/9/2017 16:18

مباہلہ کیا؟بغیر ہتھیار کی جنگ

حضرت زہرا(س) اپنے بابا کے نقش قدم پہ قدم رکھتی ہوئیں،مصداق کامل(نساءنا)۔اور سب سے آخر میں حریم عصمت و نبوت کے یکتا و بے نظیر مدافع،شیر خدا علی مرتضی(ع) نفس رسول بن کر میدان مباہلہ کی طرف روانہ ہوئے۔


ولایت پورٹل:پیغمبر اکرم(ص) خراماں خراماں مسجد سے نکلے،چھوٹے نواسے کو آغوش میں لئے اور بڑے نواسے کی انگلی پکڑے یہی«ابناءنا» رسول اللہ(ص) تھے۔
حضرت زہرا(س) اپنے بابا کے نقش قدم پہ قدم رکھتی ہوئیں،مصداق کامل(نساءنا)۔اور سب سے آخر میں حریم عصمت و نبوت کے یکتا و بے نظیر مدافع،شیر خدا علی مرتضی(ع) نفس رسول بن کر میدان مباہلہ کی طرف روانہ ہوئے۔
اگرچہ مباہلہ کے میدان میں رسول خدا(ص) بظاہر ان چند لوگوں کو ساتھ آئے،لیکن کمال کے لوگ،وجہ تخلیق کائنات،یعنی ان سے بڑھ کر کوئی اللہ کی نظر میں محترم نہیں تھا۔
رسول خدا میدان میں ایک بڑی جنگ کے لئے نکلے تھے،یعنی مسیحیت اور اسلام  کی جنگ ،تثلیث و توحید کی جنگ،لیکن نہ کوئی ہتھیار تھا ،نہ کوئی رسمی فوج،اس جنگ میں نہ کسی نے تیر چلایا نہ شمشیر،نہ کشتے گرے نہ کوئی قتل ہوا،نہ کسی کا خون بہا،نہ کسی کی حرمت پامال ہوئی،یہ عیجیب تکنیکی جنگ تھی،یہاں تلواروں کا تصادم و ٹکراؤ نہیں تھا،بلکہ نظریات و افکار کی لڑائی تھی،جس میں کچھ لوگ عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہنے پر مصر تھے تو کچھ لوگ عیسیٰ کو بندہ خدا کہنا شرف جانتے تھے،آخرکار جیت ان افراد کو نصیب ہوئی جو دعوائے بندگی کو پایہ ثبوت تک پہونچانے کے لئے میدان میں آئے تھے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15