Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189610
Published : 16/9/2017 18:24

عقیدہ مہدویت:

غیبت اور اس کافلسفہ(1)

کہا جاسکتاہے کہ آپ(ع)کو محفوظ رکھنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ خدا معجزہ کے ذریعہ آپ(ع) کے وجود کی حفاظت کرے اس صورت میں نہ کوئی اسلحہ آپ(ع) کے بدن پر کارگر ہوگا اور نہ ہی کوئی زہر آپ(ع) کو نقصان پہونچائے گا اس طرح امام(ع) ظاہر بھی ہوں گے اور لوگ آپ(ع) کے وجود سے بھر پور فائدہ اٹھاسکیں گے اور آپ(ع) کے وجود کو کوئی خطرہ بھی نہ ہوگا۔


ولایت پورٹل:انبیاء الٰہی کی تاریخ میں غیبت کا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں تھا کبھی ایسے حالات پیش آجاتے تھے جن کے باعث انبیاء تھوڑی مدت کے لئے اپنی قوم اور امت سے کنارہ کش ہو کر غیبت اختیار کر لیا کرتے تھے جس کے نمونہ جناب یونس(ع)،جناب موسیٰ اور پیغمبر اکرم(ص)کی زندگی میں بخوبی نظر آتے ہیں۔
جناب یونس(ع)ایک مدت تک قوم سے غائب رہے،حضرت موسیٰ(ع) چالیس روز تک اپنی قوم کے درمیان نہیں رہے ،پیغمبر اکرم (ع) بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوران چند دنوں تک قوم کے درمیان نہیں تھے۔(۱)لیکن ان انبیاء کی غیبت سے کبھی بھی ان کی نبوت یا رسالت مخدوش نہیں ہوئی۔
بدیہی سی بات ہے کہ اگر غیبت نبوت یا امامت کے منافی ہوتی تو غیبت کے مختصر یا طولانی ہونے میں کوئی فرق اثر نہیں ہے لہٰذا امام زمانہ (عجل)کی طولانی غیبت کو آپ کی امامت کے منافی نہیں سمجھنا چاہئے۔
امام زمانہ (عجل)کی غیبت کے اسباب اور فلسفہ کے بارے میں سابقہ معصومین(ع)سے منقول روایات میںجو مطالب بیان ہوئے ہیں ان کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے:
۱۔غیبت: الٰہی راز
بعض روایات میں اس نکتہ پر بہت تاکید کی گئی ہے کہ امام زمانہ (عج)کی غیبت کا فلسفہ اور اس کی حکمت ظہور سے قبل مکمل طور پر واضح نہ ہوگی اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب آنحضرت (عج)کے وجود پر دلیل پائی جاتی ہے تو انسان سرتسلیم خم کردے اور آپ کی غیبت کے فلسفہ کے ادراک سے عاجزی کو آپ کے وجود میں تردید کا بہانہ قرار نہ دے۔
شخ صدوق(ع) نے عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ:میں امام جعفر صادق(ع)کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ«اس امر کے صاحب (متولی امر امامت)کے لئے غیبت ہے۔غیبت سے گریز ممکن نہیں ہے اور اہل باطل اس میں شک وتردید کا اظہار کریںگے۔
میں نے امام(ع)کی خدمت میں عرض کی:آخر کیوں؟امام(ع)نے فرمایا:اس کی وجہ ہے مگر ہمیں وجہ بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
میں نے عرض کی:غیبت امام (ع)کی حکمت کیا ہے؟امام(ع)نے فرمایا:ان کی غیبت کی بھی وہی حکمت ہے جو سابق میں خدا کی حجتوں کی غیبت کی حکمت تھی اورجب تک امام کا ظہور نہ ہو جائے اس کی وجہ ظاہر نہیں ہوگی جیسے کہ جناب خضر نے جو کام انجام دئیے تھے ان کی حکمت موسیٰ کے لئے اس وقت تک واضح نہ ہو سکی کہ جب تک موسیٰ خضر سے جدا نہیں ہو گئے۔
اے فضل کے فرزند یہ امر اسرار الٰہی میں سے ہے جب ہم خدا کی حکمت کے قائل ہیں اور اسے حکیم مانتے ہیں تو اس کا تمام افعال کوحکیمانہ مانناچاہئے چاہے ان کی حکمت ہمیں معلوم نہ ہو۔(۲)
۲۔قتل کا خوف
بہت سی روایات میں قتل کے خوف کو امام زمانہ (عج)کی غیبت کے اسباب میں سے ایک سبب کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔(۳)چنانچہ زرارہ امام محمد باقر(ع)سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع)نے فرمایا:قائم آل محمد(ص)ظہور سے قبل غیبت کی زندگی بسر کریں گے۔میں نے دریافت کیا کیوں؟آپ(ع) نے فرمایا:«یخاف القتل»۔(۴)
قتل سے خوف کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ انسان زندہ رہ کر دنیاوی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے لہٰذا موت کو پسند نہیں کرتا دوسرے یہ کہ اس کے کاندھوں پر عظیم ذمہ داری ہے جسے انجام دینے کے لئے اپنی حیات کا خواہاں ہے۔
پہلی وجہ قابل مذمت اور دوسری وجہ ممدوح بلکہ واجب ہے جیسا کہ آنحضرت(ص) نے بھی اپنی جان بچانے کے لئے غار میں پناہ لی۔
امام منتظر (عج )کے سلسلہ میں بھی موت سے خوف کی یہی وجہ ہے اس لئے کہ عقل ونقل سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت (عج)روئے زمین پر خداکی آخری حجت ہیں اور آپ(ع) کی ذمہ داری ہے کہ مناسب حالات میں اذن وامر پروردگار سے روئے زمین پر اسلامی قوانین کی حکومت قائم کریں اور پوری دنیا پر توحید کا پرچم لہرادیں دوسری جانب ظالم اورجابر حکمراں آپ(ع) کے وجود اقدس کے اپنے ناجائز اہداف ومقاصد کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ایسے میں فطری بات ہے کہ آپ کو قتل کرنے کے لئے کسی بھی سازش یا اقدام سے گریز نہ کریں گے ان حالات میں غیبت ہی آپ کی حفاظت کی بہترین راستہ ہے۔
کہا جاسکتاہے کہ آپ(ع)کو محفوظ رکھنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ خدا معجزہ کے ذریعہ آپ(ع) کے وجود کی حفاظت کرے اس صورت میں نہ کوئی اسلحہ آپ(ع) کے بدن پر کارگر ہوگا اور نہ ہی کوئی زہر آپ(ع) کو نقصان پہونچائے گا اس طرح امام(ع) ظاہر بھی ہوں گے اور لوگ آپ(ع) کے وجود سے بھر پور فائدہ اٹھاسکیں گے اور آپ(ع) کے وجود کو کوئی خطرہ بھی نہ ہوگا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ معجزہ کے ذریعہ افراد کی جان کی حفاظت ایک استثنائی امر ہے اور صرف مخصوص موارد میں ہی استعمال ہوتا ہے رہبران الٰہی اور خدائی حجتوں کے سلسلہ میں خدا کی مشیت یہ ہے کہ یہ حضرات لوگوں کے درمیان طبیعی طریقہ سے زندگی بسر کریں اور چند استثنائی اور نادر موارد کو چھوڑ کر دیگر افراد کی مانند طبیعی قوانین ان پر بھی نافذ ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوگا تو لوگوں کے امتحان اور آزمائش کامرحلہ محقق نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اگر امام ایسی عام اور طبیعی زندگی بسر نہ کرے تو تمام افراد قہری طور پر ایمان لے آئیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے مافوق بشر موجود سمجھ اس کی پرستش کرنے لگیں۔
عالم ظہور میں امام(ع)کے وجود کو معجزہ کے ذریعہ محفوظ رکھنے کا لازمہ ایسے نا مطلوب اور بھی ہیں۔
شیخ طوسی(رح)اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:اگر کہا جائے کہ خداوند عالم نے آپ(ع) کے اورآپ کے قاتل کے درمیان حائل و مانع ایجاد کرکے آپ(ع)کو قتل سے محفوظٖ کیوں نہیں رکھا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیز احکام و تکالیف کے فلسفہ کے منافی ہے اس لئے کہ احکام سے مکلف کرنے کا مقصد جزا یا سزا کا استحقاق ہے اور اس طرح مانع ایجاد کرنے سے یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔(۵)
اگر کہا جائے کہ امام مہدی(ع) اور دیگر ائمہ(ع) میں کیا فرق ہے کہ دیگر ائمہ(ع)نے غیبت اختیار نہیں کی اور لوگ ان کی خدمت میں پہونچ سکتے تھے لیکن امام مہدی (عج) غائب ہو گئے اور لوگ ان کی خدمت میں نہیں پہونچ سکتے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو آپ(ع) کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ(ع) اگر ظاہر ہوں گے تو ظالموں اور دشمنوں کے ساتھ تقیہ نہ فرمائیں گے اس صورت میں آپ(ع)کے قتل کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا دوسرے یہ کہ سابقہ ائمہ(ع) میں سے اگر ایک امام شہید ہوجا تا تو دوسرا امام امامت کی ذمہ داری سنبھال لیتا تھالیکن امام مہدی (عج)آخری امام ہیں آپ (ع) درجہ شہادت پر فائز ہوجائیں تو آپ(ع) کے بعد اس عظیم ذمہ داری کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔جیسا کہ بعثت کے آغاز میں آپ تین سال تک نے اپنی نبوت کو عام لوگوں سے مخفی رکھا اور چند خواص کے علاوہ دیگر افراد آپ کی نبوت سے واقف نہ تھے لہٰذا آنحضرت(ص)اس تین سال کے عرصہ میں نبی تھے لوگوں کے درمیان زندگی گذارتے تھے لیکن وہ آپ(ص) کو نبی کی حیثیت سے نہیں جانتے تھے،امام زمانہ (عج)بھی غیبت کے زمانہ میں پیغمبر اکرم(ص)کے جانشین اور امام المسلمین ہیں لوگوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن خواص شیعہ کے علاوہ کوئی آپ(ع)کو نہیں پہچانتا۔امام زمانہ (عج)کی غیبت کو جناب یونس(ع) جناب موسیٰ اور پیغمبر اکرم(ص) کی غیبت سے بہت سی روایات میں تشبیہ دی گئی ہے۔«کمال الدین»شیخ صدوق ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔علل الشرائع ،ص۲۴۴،باب ۱۷۹۔
۳۔بحارالانوار، ج۵۲،ص۹۰ تا ۹۸ ملاحظہ فرمائیں۔
۴۔الغیبۃ شیخ طوسیؒ،ص۲۰۱۔
۵۔کتاب الغیبۃ ،ص۲۰۰    ۔
۶۔کتاب الغیبۃ ،ص۲۰۰    ۔


 
 
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20