Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189766
Published : 27/9/2017 16:40

میانمار کے سلسلہ میں رہبر ایران کے بیانات سو فیصد صحیح:سابق امریکی سفارتکار

جو بھاگتے ہیں وہ سرحد پر بچھائے گئے مائنز کی زد میں آکر اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں اور جو نہیں جاتے ہیں انھیں اپنے ہی گھر وں میں زندہ جلا دیا جاتا ہے۔


ولایت پورٹل:سابقہ امریکی سفارتکار اور معروف تجزیہ نگار Michael Springman نے ایک انٹرویو میں کہاہے  کہ :میری نظر میں ایران کے رہبر کے بیانات سو فیصد صحیح ہیں  اس لیے کہ مذہب یا قوم کی بنیاد  پر مسلمانوں یا کسی بھی قوم پر ظلم کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے، لہذا سب اسلامی حکومتوں  بلکہ پوری دنیا کو  برمہ کی حکومت کی اس بے رحمی اور ظلم کے خلاف  قدم اٹھا نا چاہیے،امریکی وزارت خارجہ میں  ایک سفارتکار کی حیثیت سے  کام کر چکے Michael Springman نے  میانمار حکومت کی سربراہ اینگ سان سوچی کے اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے  کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا : میری نظر میں اس کے نہ آنے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں  ایک یہ کہ اس کو معلوم تھا  کہ روہنگیا مسلمانوں کے سلسلہ میں سوالوں کی بوچھار ہوگی جن میں سے ایک کا بھی جواب اس کے پاس نہیں تھا دوسرے یہ کہ اگر وہ اس سلسلہ میں وہاں کی فوج کے خلاف کچھ بولتی ہے تو پھر سے گرفتار کر لی جائے گی،امریکی تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ بی بی سی اور سی این این کی رپورٹ کے مطابق وہاں مسلمان نہایت ہی کس مپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں  جو بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں وہ سرحد پر لگائے گے مائنز کی زد میں آکر اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں اور جو وہاں رہ جاتے ہیں انھیں یا تو زندہ جلا دیا جاتا ہے یا اتنا مارا جاتا ہے کہ مر جاتے ہیں، آخر میں انھوں نے اس سلسلہ میں بین الاقوامی برادری کی خاموشی کی وجہ اس علاقہ کا دور افتادہ ہونا بتائی اور کہا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ  کی کمی ہے کہ انھوں نے اس سلسلہ میں مناسب رپورٹ دنیا تک نہیں پہنچائی۔
فانوس




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15