Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189781
Published : 28/9/2017 17:13

شہید حججی کا وصیت نامہ

ولایت فقیہ سے غافل نہ رہیے ،جان لیجئے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ امام خامنہ ای امام زمانہ (عج) کے نائب بر حق ہیں۔


ولایت پورٹل:شہید محسن حججی سپاہ پاسدارن کی نجف اشرف 8بٹالین کے جوان اور شہید احمد کاظمی فاؤنڈیشن کے سرگرم رکن  تھے،آپ اصفہان کے رہنے والے پچیس سال کے جوان تھے جو عراق اور شام کی سرحد پر داعش کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور اس کے دو دن بعد ان درندوں نے آپ کے سر وتن میں جدائی کرکے آپ کے جسم مبارک کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، شہید کا ایک دوسالہ بچہ آپ کی یادگار ہے،شہادت کے 50 دن بعد آپ کا جنازہ وطن میں لایا گیا جہاں تہران میں اصفہان میں تشییع ہونے کے بعد آج اپنے آبائی قبرستان  نجف آباد میں سپرخاک کیا گیا، اسی کے ساتھ آپ کا وصیت نامہ بھی منظر عام پر آیا ہے جس کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلام ہو آپ پر ائےخاتون سلطان عشق
سلام ہوآپ پر ائے خاتون صبر دمشق
ائے زینب دنیا اور عقبائے علی
شرح مدح لافتی الا علی
شام کے راستہ میں کہرام مچانے والی
شہرمیں ہلچل مچانے والی
بے کسی حسین کا خطبہ پڑھنے والی
کربلا کو دنیا میں زندہ کرنےوالی
اگر آپ نہ ہوتیں کربلا نہ ہوتی
گریہ وفغاں ونوحہ سرائی نہ ہوتی
آپ نے بہت دکھ دیکھے ہیں
لٹتے، جلتے ہوئے خیمے دیکھے ہیں
کٹتا گلا،حرملا اور شمر کا خنجر دیکھے ہیں
بسم الله النور...
صَلی الله علیک یا اُماه یا فاطمه الزهرا"سلام علیک"
وَلاتَحسَبن الذینَ قُتلوا فی سَبیل الله اَمواتا، بَل احیاء عند رَبِهم یُرَزقون
جس کا دل عشق  میں دھڑکتا ہو اس کو ہر گز موت نہیں آسکتی،ہماری بقا صفحۂ ہستی پر لکھی جاچکی ہے۔
میرے جانے میں کچھ ہی گھنٹے بچے ہیں  جانے کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے میری چینی بڑھتی چلی جارہی ہے، مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا لکھوں اور کیسے اپنے دل کی کیفیت بیان کروں ، کیسے اپنی خوشی کو بیان کروں  اور کس زبان سے اپنے پروردگار کا شکر ادا کروں ،فریضہ کوادا کرتے ہوئے  وصیت کے نام پر کچھ سطریں تحریر کر رہا ہوں : مجھے نہیں معلوم کیسے قسمت نے مجھے عشق کی ان وادیوں  میں اتار دیا، مجھے نہیں معلوم اس کی کیا وجہ ہے لیکن اتنا جانتا ہوں میری ماں کا پاک دودھ، میرے باپ کا حلال رزق، زوجہ کا انتخاب اور بہت ساری دوسری چیزیں اس میں اثر انداز ہیں، میں نے شہادت کے شوق میں زندگی گذاری ہے ، میرا عقیدہ  تھا اور ہے کہ شہادت کے ذریعہ میں بندگی کی اعلیٰ منزل تک پہنچ جاؤں گا، میں نے اس مقام کو حاصل کرنے کی بہت کوشش کی ہے اب نہیں معلوم کس حد تک کامیاب ہوا ہوں ، مجھے صرف خد ا اور اہلبیت ؑ کے کرم کی امیدہے کہ وہ اس گنہگار کو بھی قبول کرلیں ، اس خطاکار پر بھی نظر کرم فرمادیں، اگر ایسا ہوجاتا ہے تو الحمدالله رب العالمین اگر حقیر سراپا تقصیر کی شہادت کی خبر آپ کو ملے تو اس کی وجہ صرف اور صرف خدا کا کرم  ہی سمجھئے گا کہ اس نے مجھ جیسےگنہگارکو بھی بخش دیا ہے۔
میری عزیززوجہ زہرا جان!
اگر ایک دن میری شہادت کی خبر سنو کو سمجھ لو تم سے شادی کرنے کا میرا اصلی مقصد پورا ہوگیا ہے اور میں اپنی آرزؤ کو پاگیا ہوں ،تم فخر کرنا کہ تمہارا شوہر جناب زینب پر قربان ہوا ہے،نہ رونا اور نہ ہی بے قراری کرنا بلکہ صبر سے کام لینا،ہر وقت اپنے آپ کو جناب زینب کی بارگاہ میں تصور کرنا کہ انھوں نے تم سے کہیں زیادہ مصیبتیں  برادشت کی ہیں ۔
والد گرامی!
والد گرامی آپ پوری زندگی میرے لیے نمونۂ عمل رہے ہیں ، جب آپ کومیری شہادت کی خبر ملے تو اس وقت کا تصور کیجئے گا جب امام حسین علیہ السلام  جناب علی اکبرؑ کے سرہانے پہنچے تھے، آپ کا غم امام حسین علیہ السلام کے غم سے زیادہ نہیں ہے  پس صبر کیجئے گا ، مجھے معلوم ہے کہ یہ کام بہت مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ۔
مادر گرامی!
اے ماں ! جناب ام البنین نے اپنے چار بیٹوں کو امام حسین ؑ اور جناب زینب سلام اللہ علیہا پر قربان کردیااور پیشانی پر شکن تک نہیں لائیں  یہاں تک کہ جب انھیں بیٹوں کی شہادت کی خبر دی گئی تو انھوں نے امام حسین ؑ کے بارے میں پوچھا،مادر گرامی ! جب آپ کو میری شہادت کی خبر ملے تو جناب ام البنین کی طرح صبر سے کام لیجئے گا او رفخر سے کہیے گا کہ میں نے اپنے بیٹے کو امام حسین اور جناب زینب کے راستہ میں قربان کیا ہے،کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی بے قراری سے دشمن خوش ہوجائے۔
بھائی جان!
میرے بھائی اگر آپ نے مجھےشہادت کے لباس میں دیکھا  تو اس وقت کو یاد کیجئے گا جب امام حسین ؑ جناب عباس کے سرہانے پہنچے اور بھائی کے غم نے امام کی کمر جھکادی،
میری پیاری بہنو!
جب میں آپ لوگوں سے اور والدین سے رخصت ہورہا تھا تو مجھے وہ وقت یاد آگیا جب جناب علی اکبرؑ خیموں سے رخصت ہوکر میدان میں جارہے تھے، پس اگر میں سرخ رو ہو گیا تو آپ لوگ اپنے گریے اور اشکوں کو  جناب علی اکبرکے لیے بہائیے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے غم کو اہل حرم کے غم سے زیادہ سمجھیں ۔
میرے  پیارےبیٹے علی جان!
علی جان مجھے معاف کردینا کہ میں تم کو بڑے ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا،تمہارے مرد بننے کا نظارہ نہ کر سکا، تم میرے راستہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنا،کوشش کرنا کہ ایسا کام کرو جس کا انجام شہادت ہو۔
میری زوجہ کے والدین!
میں نے آپ کو ہمیشہ اپنے ماں باپ کی طرح سمجھا ہے، میں خوشحال ہوں کہ آپ کے خاندان سے میری رشتہ داری ہے، آپ کو بھی میں صبر و تحمل کی تلقین کرتا ہوں ،میں سب سے چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کردیں ، اگر میں نے کسی کا حق ضائع کیا ہے ، کسی کی غیبت کی ہے، کسی کا دل دکھایا ہے  یا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو مجھے معاف کردیں ، اگرمیں شہید ہوگیا تو جتنی مجھے اجازت ملے گی آپ لوگوں کی شفاعت کروں گا۔
کچھ عمومی وصیتیں
ولایت فقیہ سے غافل نہ رہیے ،جان لیجئے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ امام خامنہ ای امام زمانہ (عج) کے نائب بر حق ہیں ، میں اپنی تمام بہنوں اور امت رسول خد اﷺ کی تمام خواتین سے گذارش کرتا ہوں کہ پردہ کا خاص خیال رکھیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آ پ کا ایک بال  یا چہرے کا میک اپ نامحروموں کو توجہ کا باعث بنے،ہمیشہ چادر اوڑھ کر باہر نکلیں ، آپ کی نمونۂ عمل جناب زہرہ اور اہلبیتؑ کی خواتین ہونا چاہیے، میں  رسول خدا ﷺ کی امت کے تما م مردوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مغربی ثقافت اور تمدن کا دھوکہ نہ کھائیں ، آپ ہمیشہ حضرت علی ؑ کو اپنے لیے نمونہ ٔ عمل قرراد یجئے اور شہدا سے درس حاصل کیجئے،اپنے آپ کو امام زمانہ (عج) کے ظہور  اور کفار خاص طور پر اسرائیل سے جنگ کے لیے تیار کیجئے کہ وہ دن  بہت قریب ہے، ہمیشہ خد اکے بندے بنے رہیے۔
اللهم عجل لولیک الفرج
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصَارِهِ وَ أَعْوَانِهِ وَ الذَّابِّینَ عَنْهُ وَ الْمُسَارِعِینَ إِلَیْهِ فِی قَضَاءِ حَوَائِجِهِ وَ الْمُحَامِینَ عَنْهُ وَ السَّابِقِینَ إِلَى إِرَادَتِهِ وَ الْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْه
نیوز چینل






آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24