Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189939
Published : 11/10/2017 19:21

فکر قرآنی:

قرآن کی نظر میں ولی کون؟

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:«اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا» سے مراد علی(ع) اور آپ کی اولاد ائمہ علیہم السلام ہیں جو قیامت تک کے لئے ہی،پس آپ کی اولاد میں سے جو بھی درجۂ امامت پر فائز ہوا اس خصوصیت میں وہ انھیں جیسا ہے جو حالت رکوع میں صدقہ دیتے ہیں۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام!ہم نے فکر قرآنی  نام کی جس سیریز کا آغاز کیا ہے اسی کی ایک اہم کڑی آپ کی بابرکت خدمت میں حاضر ہے، ہم اس کا آغاز اس سوال سے کرتے ہیں کہ قرآن کی نظر میں ولی کون ہے؟ اور یہ حق  ولایت،قرآن کسے دیتا ہے؟
شاید بات عجیب سی ہو لیکن اگر قرآنی آیات میں تدبر و فکر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ولایت ایک ایسا حق ہے جسے صرف اللہ عطا کرتا ہے بندہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو کسی کا ولی بنا سکے،چونکہ منصب ولایت حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص  ہے اب وہ جس کو چاہے ولی بنادے:( الله ولي  الذين آمنوا)جس طرح انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے اس دنیاوی وجود کے لئے اپنے والدین کی تعیین کرسکے اور کسی کو اپنا ولی بنا سکے تو اسی طرح اسے یہ حق کیسے مل سکتا ہے کہ وہ دین میں کسی کو بھی اپنا ولی بنا کر اسکا اتباع اور پیروی کرنے لگے،اب چاہے یہ ولایت کسی معصوم کی ہو یا معصوم کی جانب سے کسی فقیہ اور عالم کو ملے،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ وَالَّذینَ آمَنُواالَّذینَ یُقِیْمُونَ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ۔( سورۂ مائدہ، آیت:۵۵)
ترجمہ:ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے، اس کا رسول ہے اور وہ صاحبانِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں۔
اس آیۂ شریفہ کی شان نزول میں آیا ہے کہ ایک محتاج سائل مسجد میں داخل ہوا اور لوگوں سے مدد کی درخواست کی اور کسی نے اس کو کچھ نہیں دیا،حضرت علی(ع) نے حالت نماز میں رکوع کی حالت میں ایک انگھوٹھی اس سائل اور فقیر کو بخش دی اس بخشش کی تکریم میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اس واقعہ کو اصحاب میں سے دس لوگوں نے دیکھا،جیسے ،عمار یاسر، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، ابوذر،انس بن مالک،بلال وغیرہ نے نقل کیاہے جس بنا پرسارے شیعہ اور سنی مفسرین کا اس شان نزول پر اتفاق ہے۔(۱)
جناب عمار یاسر کہتے ہیں کہ حالت نماز میں جب امیر المؤمنین(ع)نے سائل کو انگوٹھی دے دی تو اس کے بعد رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا:«مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ»۔(۲)
پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی(ع) کے مقام کو بیان کرنے کے لئے اس آیۂ کریمہ:«إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ وَالَّذینَ آمَنُواالَّذینَ یُقیْمُوْنَ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ» کی تلاوت فرمائی۔(۳) اور خود امیر المؤمنین حضرت علی(ع) بھی اپنی حقانیت کو بیان کرنے کے لئے بارہا اس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔(۴)
صحابیٔ رسول(ص) جناب ابوذر کہ جو خود اس واقعہ کے شاہد تھے انہوں نے مسجد الحرام میں مذکورہ داستان کو بیان کیاہے۔(۵)
کلمۂ«ولی» اس آیت میں«دوست» اور«یاور و مددگار»کے معنی میں نہیں ہے اس لئے کہ دوستی تمام مسلمانوں سے مربوط ہے نہ کہ ان لوگوں سے جو حالت رکوع میں انفاق کرتے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:«اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا» سے مراد علی(ع) اور آپ کی اولاد ائمہ علیہم السلام ہیں جو قیامت تک کے لئے ہی،پس آپ کی اولاد میں سے جو بھی درجۂ امامت پر فائز ہوا اس خصوصیت میں وہ انھیں جیسا ہے جو حالت رکوع میں صدقہ دیتے ہیں۔(۶)
مرحوم فیض کاشانی کتاب نوادر میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ اس کی بناء پر دوسرے ائمہ طاہرین نے بھی حالت رکوع میں فقیروں کو صدقہ دیا ہے اور یہ عمل آیت میں استعمال شدہ جمع کے الفاظ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔(۷)
حضرت امام محمد باقر(ع)نے فرمایا خداوند عالم نے اپنے حبیب(ص) کو حکم دیا تا کہ وہ علی(ع) کی ولایت پیش کریں تب یہ آیت نازل ہوئی۔(۸)
سب سے بہتر اور اچھی تعریف یہ ہے کہ کسی کے خصوصیات کو بیان کیا جائے اور مخاطب خود اس مصداق کو تلاش کرے۔( آیت میں علی(ع) کے نام کو ذکر نہیں گیا بلکہ ان کے اوصاف و افعال کو پیش کیا ہے)۔
حضرت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:غدیر خم کے میدان میں حضرت علی(ع) کے ہزاروں شاہد تھے مگر پھر بھی حضرت(ع) کا حق انھیں حاصل نہیں ہو سکا اور اگر کسی مسلمان کے دو گواہ ہوں تو وہ آسانی سے اپنا حق لے سکتا ہے۔(۹)
ولایت فقیہ ولایت امام معصوم کا ہی ایک حصہ ہے
مقبولۂ عمر بن خطاب میں صادق آل محمد(ص) حضرت امام جعفر صادق(ع) سے نقل ہوا ہے کہ: اس آدمی کو دیکھیں جو ہماری احادیث کو نقل کرتا ہے اور ہمارے حلال و حرام میں دلائل پیش کرتا ہے، محکم رائے دیتا ہے اور ہمارے احکامات سے آشنائی رکھتا ہے توآپ کو اس کی حکومت و ولایت پر راضی ہو جاناچاہیئے کہ میں نے ان کو آپ پر حاکم قرار دیا ہے۔«فَاِنِّی قَدْجَعَلْتُہٗ عَلَیْکُمْ حَاکِماً»۔(۱۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الغدیر، ج:۲ ،ص:۵۲ ا،حقاق الحق، ج: ۲، ص: ۴۰۰ اور کنز العمال، ج:۶ ،ص:۳۹۱۔
۲۔تفسیر المیزان۔
۳۔تفسیر صافی۔    
۴۔تفسیر مجمع البیان۔    
۵۔تفسیر مجمع البیان۔
۶۔کافی ج۱ ص ۲۸۸۔
۷۔یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃ وَیُؤْتُوْنَ،اَلرَّاکِعُوْنَ۔
۸۔تفسیر نورالثقلین،و کافی، ج۱ ،ص ۲۸۱۔
۹۔ تفسیر نورالثقلین۔
۱۰۔کافی،ج۱ ،ص۶۷۔

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17