Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189962
Published : 12/10/2017 15:27

رہبر انقلاب کی نظر میں شہادت کی اعلیٰ قدری کا راز

اگر کسی نے خدا کے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لئے سعی و کوشش کی اور مجاہدت کے بعد مارا گیا تو اس کا مقصد زندہ رہے گا اور اس انسان کی موجودگی بھی اس کا وہی مقصد ہے اور اس کی حقیقی شخصیت و وجود بھی باقی و قائم رہے گا۔

ولایت پورٹل:شہید،یعنی وہ جو معنوی اقدار کی راہوں میں مارا جاتا ہے اور اپنی جان کو (جو ہر انسان کا اصلی سرمایہ ہے) مقصد الٰہی کے لئے کام میں لگاتا ہے اور جواب میں خداوندعالم بھی اس عظیم فداکاری و ایثار کے بدلہ میں، قوموں میں اس کی یاد و فکر اور موجودگی کو دوام عطا کرتے ہوئے اس کے اقدار کو حیات نو عطا کرتا ہے،چونکہ خدا کی راہ میں مارے  جانے کی یہ خصوصیت ہے،جو لوگ  بھی خدا کی راہ میں مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں، ان کا جسم زندہ نہیں ہوتا لیکن ان کا حقیقی وجود زندہ رہتا ہے۔
کسی بھی انسان کی حقیقت،اس کے مطالبات و خواہشات اور افکار و مقاصد پر مشتمل ہوتی ہے،جو کوئی ذاتی و دنیاوی مقصد و غایت کی خاطر مارا جاتا ہے جو مقصد اور ہدف کسی انسان کی وجہ سے قائم رہتا ہے وہ اسی سے متعلق ہوتا ہے اور اس آدمی کے گذرجانے کے بعد وہ مقصد بھی فوت ہوجایا کرتا ہے لیکن وہ مقصد جو خدائی ہوتا ہے اور غیب نیز خدا کی خواہش و مرضی کے اوپر قائم ہو اور انسان اس کی راہ میں کوشش و فداکاری کرتا ہے تو انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے مقصد کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے، البتہ ممکن ہے کہ یہ خدائی مقاصد بھی ختم ہوجائیں، لیکن ان مقاصد کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان مقاصد کی راہ میں جدوجہد عمل میں نہ لائی جائے۔
اگر کسی نے خدا کے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لئے سعی و کوشش کی اور مجاہدت کے بعد مارا گیا تو اس کا مقصد زندہ رہے گا اور اس انسان کی موجودگی بھی اس کا وہی مقصد ہے اور اس کی حقیقی شخصیت و وجود بھی باقی و قائم رہے گا۔
اور اس کے بالکل برخلاف مسئلہ یہ ہے کہ مقصد اس کی وجہ سے قائم نہیں بلکہ وہ مقصد کی وجہ سے قائم ہے اس لئے وہ زندہ رہتا ہے اور اس کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور منادیان حق آج بھی زندہ ہیں،کیونکہ انہوں نے انسانوں کے لئے جن فضائل و کمالات کو جاری رکھا تھا، ان کے جانے کے بعد بھی ان کا خاتمہ نہیں ہوا اور تدریجی طور پران کے مقاصد نے عالم حقائق اور تاریخی ادوار میں عملی جامہ پہنا، حالانکہ ان کے وہ سبھی مقاصد ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں تاہم آج ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا میں انصاف و آزادی کا نعرہ بلند ہے اور عالمی روشن خیال افراد ایسے اعلیٰ مقاصد کا نام زبان پر لاتے ہیں جو انھیں انبیاء والے مقاصد شمار کئے جاتے ہیں،حالانکہ وہ خود بھی یہ نہیں جانتے ہیں کہ یہ مقاصد کن لوگوں کے ہیں۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17