Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189965
Published : 12/10/2017 16:14

اہل بیت(ع)کی معرفت کیوں ضروری ہے؟

ہمیں معصوم کی معرفت اور شناخت کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اپنی قیمتی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتے ہیں اور حیرانی اور پریشانی کا شکار نہیں ہوناچاہتے لہٰذا ہر چیز سے پہلے ہماری اہم ترین ذمہ داری معصوم ہادیوں کی معرفت ہے خاص طور پر اپنے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کو پہچاننا ضروری ہے،کیونکہ ان سے رابطہ کے بغیر ہم سرگرداں اور حیران و پریشان ہی رہیں گے۔


ولایت پورٹل:اہل بیت(ع) کو پہچانے بغیر ہمارے اور ان کے درمیان صحیح معنی میں رابطہ ممکن نہیں ہے،اور ان سے صحیح طور پر رابطہ کے بغیر صراط مستقیم اور سعادت وخوش بختی کے راستے پر چلنا ممکن نہیں ہے۔
یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی شخص کو اہل بیت(ع) کی اچھی طرح سے معرفت حاصل ہو جائے اور اس کے بعد وہ کسی دوسرے کو اپنا ہادی اور نمونۂ عمل تسلیم کرلے،ہمارے ارد گرد اگر ایسے لوگوں کی کافی تعداد موجود ہے جو ابھی تک اہلبیت(ع) سے صحیح طور پر رابطہ برقرار نہیں کرسکے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھیں ابھی تک اہلبیت(ع) اور ان کی تعلیمات کی صحیح معرفت حاصل نہیں ہو سکی ہے جیسا کہ خود امام رضا(ع) نے ارشاد فرمایا ہے:«انّ النّاس لو علموا محاسن کلامنا لاتّبعونا»۔(۱)لوگوں کو اگر ہماری  باتوں کی خوبیاں معلوم ہو جائیں تو یقینی طور پر وہ ہمارے پیروکار بن جائیں گے۔
اسی لئے معرفت اہلبیت(ع) سے بے بہرہ افراد اپنے لئے نمونہ عمل تلاش کرتے وقت شک و تردید اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں اور ایسی شخصیتوں کے درمیان بھٹکتے رہتے ہیں جو انسانی وجود کے پہلوئوں سے بالکل ناواقف ہیں،کبھی کسی صاحب قلم کو آئیڈیئل بناتے ہیں تو کبھی کسی کھلاڑی کو،کبھی کسی فلمی ستارے یا سیاسی شخصیت کو تو کبھی کسی غیر ملکی شخصیت یا پروفیسر کو اپنا آئیڈیئل سمجھنے لگتے ہیں۔
اور آخر میں جب انہیں ہوش آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری عمر جس کے ایک ایک لمحہ کا حساب روز قیامت دینا ہے اسے وہ نقلی اور بہروپئے آئیڈیلوں کے سراب میں مبتلا ہو کر برباد کرچکے ہیں اور ابدی سعادت یا قابل اعتماد زندگی کا کوئی بھی حصہ انہیں حاصل نہیں ہوا،اس کے نتیجہ میں وہ ایسے تباہ و برباد کر دینے والے غم کا شکار ہو جاتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ ایسے افراد زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ یعنی اپنی جوانی اور عزم و حوصلے والے دنوں کوجھوٹے معشوقوں اور کھوکھلے آئیڈیلوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہوتے ہیں۔
اس بناء پر معصومین(ع) کی معرفت اور شناخت ضروری ہے کیونکہ فطری طور پرہم«معصوم» نمونۂ عمل (آئیڈیل) کے محتاج ہیں،یہ انسان اتنا عظیم الشان ہے کہ پروردگار عالم اس کی ہدایت کے لئے «معصوم»سے کمتر کسی بھی راہنما پر راضی نہیں ہے اور جو شخص اپنے کو معصوم سے کمتر راہنما کے حوالے کرے اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے یاجو شخص کسی دوسرے کو کسی غیر معصوم رہبر وقائد کی نشاندہی کرے وہ خود اپنی ذات اور اس دوسرے شخص کے ساتھ عظیم خیانت کرتا ہے،لہٰذا «معصوم»کو پہچاننا ضروری ہے کیونکہ اس سے کمتر ہمارے شایان شان نہیں ہے۔
ہمیں معصوم کی معرفت اور شناخت کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اپنی قیمتی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتے ہیں اور حیرانی اور پریشانی کا شکار نہیں ہوناچاہتے لہٰذا ہر چیز سے پہلے ہماری اہم ترین ذمہ داری معصوم ہادیوں کی معرفت ہے خاص طور پر اپنے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کو پہچاننا ضروری ہے،کیونکہ ان سے رابطہ کے بغیر ہم سرگرداں اور حیران و پریشان ہی رہیں گے، ان سے رشتہ جوڑے بغیر در در بھٹکنے اور ٹھوکریں کھانے کے علاوہ ہمیں کچھ نصیب نہ ہوگا،ان سے رابطہ کے بغیر ہمارے تمام کام اور زحمتیں بے نتیجہ ہونگی،جیسا کہ ہم امام زمانہ (عج) کی زیارت میں آنحضرت(ع) سے یہ عرض کرتے ہیں:السلام علیک یا سبیل اللّٰہ الذی من سلک غیرہ ھلک۔(۲)سلام ہو آپ پر اے وہ راہ خدا،جس سے ہٹنے والا ہلاک ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔وسائل الشیعہ: ج۲۷، ص۹۲۔
۲۔مفاتیح الجنان، زیارت امام زمانہ(عج)۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22