Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189974
Published : 12/10/2017 18:36

مفتی محمد علی صاحب

سن ۱۳۲۵ ہجری میں عراق کے لئے روانہ ہوئے،اور وہاں کے جید علماء سے کسب فیض کیا،آپ کو نجف اشرف میں آقای حکمی اور فاضل ہندی کہا جاتا تھا،اساتذہ اور طلباء میں عزت و وقار کی نظر سے دیکھے جاتے تھے،قیام نجف ہی کے دوران ایک رسالہ عربی میں لکھا جس سے استدلال و فقاہت و اجتہاد کی قوت معلوم ہوتی تھی۔

ولایت پورٹل:حجۃ الاسلام مولانا مفتی سید محمد علی بن مفتی سید محمد عباس صاحب جزائری شوستری لکھنؤ میں مفتی صاحب کہلاتے اور عربی ادب کے امام مانے جاتے تھے،آپ ۱۳ رجب سن ۱۲۹۸ ہجری محلہ توپ دروازہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے،شفیق،عالم،جلیل القدر باپ کے دامن علم و فقہ و ادب کے سائے میں ہوش سنبھالا،ابتدائی مراحل میں تھے کہ ۲۵ رجب ۱۳۰۶ ہجری کو یتیم ہوگئے،بڑی بہن اور والدہ نے پرورش کی اور بڑے بہنوئی جناب نجم الملت نے مدرسہ ناظمیہ میں داخلہ کرلیا۔
سن ۱۳۱۳ ہجری یا ۱۳۱۴ ہجری تک مدرسہ میں مولانا جعفر حسین صاحب،مولانا پیارے مرزا صاحب اور مولانا محمد مہدی صاحب ادیب سے صرف و نحو و ادب و معقولات کا درس لیا،شعر و ادب کا ذوق میراث میں ملا تھا،چنانچہ ۱۵ ،۱۶ برس کی عمر میں عربی منظومات و قصائد لکھنے لگے۔
سن ۱۳۲۵ ہجری میں عراق کے لئے روانہ ہوئے،اور وہاں کے جید علماء سے کسب فیض کیا،آپ کو نجف اشرف میں آقای حکمی اور فاضل ہندی کہا جاتا تھا،اساتذہ اور طلباء میں عزت و وقار کی نظر سے دیکھے جاتے تھے،قیام نجف ہی کے دوران ایک رسالہ عربی میں لکھا جس سے استدلال و فقاہت و اجتہاد کی قوت معلوم ہوتی تھی۔
ذی الحجہ ۱۳۳۲ ہجری میں لکھنؤ پلٹے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا،جید طلباء و ادباء و شعراء آپ سے رجوع کرنے لگے،غرض بڑے بڑے علماء کو آپ سے تلمذ پر ناز ہے،آخر کار ۲۰ جمادی الثانیہ سن ۱۳۶۱ ہجری کو لکھنؤ میں رحلت فرمائی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22