Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189978
Published : 12/10/2017 19:8

بچوں میں کیسے ایمان کو پروان چڑھائیں(3)

بچوں کے اندر جذبہ ایمان کو پروان چڑھانا اس امر کا ضامن ہے کہ یہ اخلاق حسنہ اور ایمان و خلوص کے سہارے اپنے گھر والوں،سماج اور معاشرہ کا احترام کریں، چونکہ جو بچہ نیک و باکردار والدین کے دامن میں تربیت پاکر بڑا ہوگا اسے دوسرے تمام بچوں پر ایک امتیاز حاصل رہے گا چونکہ اس نے اپنی زندگی کے ہر ہر موڑ پر اپنے خدا کو حاضر و ناظر پایا ہے،لہذا وہ کبھی گناہ کی طرف قدم بڑھانے کی جرات نہیں کرے گا۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم نے عرض کیا تھا کہ ایک سالم معاشرہ کی تشکیل کے لئے ایک فرد کی تربیت بہتر انداز میں ہونا چاہیئے چونکہ افراد ہی سے اجتماع اور معاشرہ وجود میں آتا ہے،اور کسی بھی فرد کی تربیت میں اس کے والدین اہم کردار ادا کرتے ہیں،بچے کی تربیت کے اصلی ستون اس کے والدین کے ہاتھوں تعمیر پاتے ہیں،لہذا کسی بھی بچے کی صحیح تربیت والدین کا اولین فریضہ ہے؛آئیے اس موضوع کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بچوں میں کیسے ایمان کو پروان چڑھائیں(2)
گذشتہ سے پیوستہ:ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ:بچے کو ۶ سے ۷ برس کی عمر میں نماز یاد کرانی چاہیئے۔(شیخ حرّ عالمی، وسایل الشیعه، ج 2، ص 3)۔
ممکن ہے کہ بچہ اس عمر میں نماز کے کلمات کے معنیٰ کو تو نہ سمجھ پائے لیکن اللہ سے راز و نیاز کو وہ بچپن میں بھی درک کرسکتا ہے جس کے سبب اسے اپنے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے گا کہ وہ ایک مطمئن و مضبوط پناہگاہ میں داخل ہوگیا ہے،چنانچہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:حقیقی مؤمن کو اللہ کے ذکر اور اس کی یاد ہی سے سکون میسر آتا ہے۔(رعد:28)۔
بچوں کے اندر جذبہ ایمان کو پروان چڑھانا اس امر کا ضامن ہے کہ یہ اخلاق حسنہ اور ایمان و خلوص کے سہارے اپنے گھر والوں،سماج اور معاشرہ کا احترام کریں، چونکہ جو بچہ نیک و باکردار والدین کے دامن میں تربیت پاکر بڑا ہوگا اسے دوسرے تمام بچوں پر ایک امتیاز حاصل رہے گا چونکہ اس نے اپنی زندگی کے ہر ہر موڑ پر اپنے خدا کو حاضر و ناظر پایا ہے،لہذا وہ کبھی گناہ کی طرف قدم بڑھانے کی جرات نہیں کرے گا۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20