Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189980
Published : 12/10/2017 20:4

ابن تیمیہ اور یزید کا دفاع

تاریخ سے بالکل واضح ہے کہ یزید کا ارادہ یہی تھا کہ اگر امام حسین(ع) بیعت نہ کریں تو آپ کو قتل کردے،جیسا کہ یعقوبی نے اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے: یزید نے مدینہ میں اپنے گورنر ولید بن عقبہ بن ابو سفیان کو یہ تحریر کیا: جس وقت میرا یہ خط تمہیں ملے حسین بن علی اور عبد اللہ بن زبیر کو طلب کرکے ان دونوں سے میرے لئے بیعت لے لینا اور اگر وہ بیعت کرنے سے انکار کریں تو ان دونوں کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دینا۔


ولایت پورٹل:یزید کا پیروکار ابن تیمیہ چونکہ اہل بیت(ع)کا پکا دشمن ہے اس لئے اس نے یزیدی ظلم کا بچاؤ کیا ہے، اس کی کوشش یہی ہے کہ جیسے بھی ہوسکے یزید کو امام حسین(ع)کے قتل سے بری رکھا جائے۔
ابن تیمیہ کہتاہے کہ:یزید امام حسین(ع)کے قتل پرراضی نہیں تھا بلکہ اس نے تو اس سلسلہ میں اپنی ناراضگی بھی ظاہر کی ہے۔
اسی طرح وہ امام حسین(ع) کا سرشام لے جانے اور اہل بیت(ع)کو قید بنائے جانے کا بھی انکار کرتاہے۔
وہ لکھتاہے کہ یزید نے امام حسین(ع) کے قتل کا حکم نہیں دیا (شہداء کے)سر اس کے پاس نہیں لائے گے اور یزید نے امام حسین(ع) کے دندان مبارک (دانتوں)پر چھڑی نہیں ماری بلکہ اصل میں یہ سارے کام عبید اللہ ابن زیاد نے انجام دیئے۔
اس مقام پر ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریںگے کہ امام حسین(ع) کی شہادت اگر چہ ابن زیاد کے ذریعہ ہوئی ہے لیکن اس کا حکم براہ راست خود یزید نے دیا تھا، اس سلسلہ میں ہم تاریخی شواہد اور دلائل پیش کریں گے۔
۱۔ابن زیاد کوفہ میں یزید کا گورنر
تاریخ کے اوراق پر تحقیقی نگاہ ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید نے ہی ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنایا تھا جبکہ اس سے پہلے وہ معاویہ کے دور میں بصرہ کا گورنر تھا اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے یزید کا مقصد امام حسین(ع) کا مقابلہ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اسی لئے اس کی نظر میں اس کام کے لئے ابن زیاد سے بہتر اور لائق کوکی شخص نہیں تھا۔
دوسرے یہ کہ یزید اور ابن زیاد کے تعلقات کچھ اچھے نہیں تھے حتی کہ وہ اسے بصرہ کی گورنری سے  بھی معزول کرنا چاہتا تھا کیونکہ نعمان بن بشیر کو وہ جناب مسلم بن عقیل اور امام حسین(ع) کے مقابلہ کے لئے مناسب نہیں سمجھتا تھا لہٰذا اس نے ابن زیاد سے مدد مانگی اور نہ صرف یہ کہ اس سے رضایت کا اعلان کیا بلکہ بصرہ کی گورنری کے ساتھ کوفہ کی گورنری بھی اس کے سپرد کردی جیسا کہ ایک خط میں اسے یہ تحریر کیا ہے:مسلم کا پیچھا کرو اور اگر ان کو پکڑ لیا تو انھیں قتل کرڈالنا۔
واضح رہے کہ اس وقت جناب مسلم بن عقیل امام حسین(ع) کے سفیر اور ایلچی بن کر کوفہ آئے ہوئے تھے تا کہ لوگوں کو امام حسین(ع) کی کوفہ کی طرف حرکت سے آگاہ کر سکیں۔
۲۔یزید سے ابن زیاد کا مشورہ
تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنایا تو اسے یہ حکم دیا تھا کہ امام حسین(ع) سے متعلق تمام کاموں میں اس سے مشورہ لیتا رہے اس لئے ابن زیاد کے تمام کام حتی کہ امام حسین(ع)کو شہید کرنا، یزید کے مشورہ کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
طبری کا بیان ہے: عبید اللہ بن زیاد (مسلم و ہانی کو شہید کرنے کے بعد ان کے سر تن سے جدا کرکے ایک خط کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دیئے۔یزید نے اس خط کے جواب میں کچھ یاد دہانی کرنے کے بعد یہ اشارہ کیا ہے: مجھے اطلاع ملی ہے کہ حسین بن علی عراق کی طرف روانہ ہوچکے ہیں جاسوسوں اور مسلح افراد کو معین کردو اور معمولی سے شک اور الزام پر لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دینا اور جو حادثہ بھی رونما ہو مجھے اس سے باخبر کرنا والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔
اس سے واضح ہے کہ نہ صر ف یہ کہ یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر اس لئے بنایا تھا کہ وہ امام حسین(ع) کا مقابلہ کرسکے بلکہ وہ براہ راست اس کا ذمہ دار اور اس میں دخیل تھا اور باقاعدہ اپنے احکامات صادر کررہا تھا اس لئے ابن زیاد جو کچھ کرتا تھا اس سے یزید کو ضرور مطلع کرتا تھا۔
ابن زیاد کے کاموں میں یزید کی مشارکت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ یزید نے اس خط میں ابن زیاد کی تعریف کی ہے۔
۳۔حکم یزید، قتل یا بیعت
تاریخ سے بالکل واضح ہے کہ یزید کا ارادہ یہی تھا کہ اگر امام حسین(ع) بیعت نہ کریں تو آپ کو قتل کردے،جیسا کہ یعقوبی نے اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے: یزید نے مدینہ میں اپنے گورنر ولید بن عقبہ بن ابو سفیان کو یہ تحریر کیا: جس وقت میرا یہ خط تمہیں ملے حسین بن علی اور عبد اللہ بن زبیر کو طلب کرکے ان دونوں سے میرے لئے بیعت لے لینا اور اگر وہ بیعت کرنے سے انکار کریں تو ان دونوں کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دینا۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ امام حسین(ع) کے انکار بیعت کی صورت میں یزید نے ان کے قتل کرنے کا مستحکم ارادہ کرلیا تھا۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26