Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189983
Published : 14/10/2017 15:40

استغفار شیطان سے مقابلہ کا بہترین راستہ ہے:آیت اللہ جوادی آملی

رسول اکرم (ص) کے ایک نورانی بیان میں نقل ہوا ہے کہ فرمایا:«تعطروا بالاستغفار» انسان کے لئے مستحب ہے کہ جب نماز پڑھے یا مسجد میں جائے معظر ہو لیکن اس کے مقابلہ میں فرمایا ہے ایک دوسرا عطر بھی ہے کہ وہ عطر رسوائی کو دور کرتی ہے ! استغفار سے خود کو معظر کرو ورنہ تمہارے گناہ کی بدبو تم کو رسوا کر دے گی ! فرمایا استغفار ، توبہ کرنا ، خداوندعالم سے راز و نیاز کرنا، نالہ و فریادکرنا ، آنسو بہانا یہ سب عطر ہے جو آبروریزی کی حفاظت کرتے ہیں۔


ولایت پورٹل:حوزہ علمیہ قم کے مشہور و معروف مفسر آیت اللہ جوادی آملی استاد نے شہر دماوند کے احمد آباد محلہ کے لوگوں کے ساتھ اپنے ہفتگی درس اخلاق میں زیارت جامعہ کی شرح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ :حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے علوم الہی کی نشر و اشاعت ،تفسیر قرآن مجید اور روایات رسول خدا(ص) کو ہم تک پہونچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی ایک مثال زیارت جامعہ کبیرہ ہے۔
انہوں نے وضاحت  فرمائی کہ:زیارت جامعه كبیرہ حقیقت میں امامت و ولایت و عترت کی حقیقت کی تفسیر ہے؛ عترت طاہرہ، عِدل قرآن كریم ہیں جس طرح قرآن کریم کو تفسیر کی ضرورت ہے، اسی طرح عترت کی حقیقت، امامت کی حقیقت اور ولایت کو بھی تفسیر کی ضرورت ہے،دعائیں،مناجاتیں اور زیارتیں جو ان الہی خاندان اور ذوات مقدسہ سے نقل  ہوئی ہیں یہ سب ان کی سیرت و سنت کی تفسیر ہو سکتی ہیں لیکن زیارت جامعہ کبیرہ جو کہ امام علی نقی الهادی (ع) سے ہم تک پہوچی ہے اس کی مشارکت اس میدان میں کافی زیادہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : امام علی نقی (ع) نے مشخص کیا ہے کہ دنیا کیا ہے اور اس دنیا میں ہم لوگوں کا کیا مقام ہے؟آیت اللہ جوادی آملی نے فرمایا:دنیا ایک بازار کی طرح ہے کہ اس منڈی سے کچھ لوگ فائدہ ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کو اس میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے،امام علیہ السلام کے نورانی بیان کے مطابق کہ یہ دنیا ایک بازار ہے تو ہم لوگوں کو توجہ کرنی چاہیئے کہ کس چیز کا سودا کریں اور کس چیز کی خریداری نہ کریں،اور کس شخص سے سامان خریدیں اور کس چیز کو بیچیں،ان میں سے کچھ چیزوں کو قرآن کریم نے اچھی طرح بیان کیا ہے اور فرمایا جب چاہتے ہو نیک کام انجام دو تو خدا کے ساتھ سودا کرو؛ قرآن کریم کی تعبیر کے مطابق خداوند عالم ہمارے نیک اعمال کو خریدتا ہے اور اس کے عوض میں بہشت ، عزت اور دنیا و آخرت کی نیکی ہم لوگوں کو عطا کرتا ہے۔
قرآن کریم کے مشہور و معروف مفسر نے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا:خداوند عالم نے سورہ مبارکہ صف میں فرمایا:کہ دنیا تجارت خانہ ہے لیکن کیا تم چاہتے ہو کہ میں تم کو بتاؤں کہ کون سی تجارت تمہارے فائدہ میں ہے جس سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکو؟ فرمایا بہترین تجارت یہ ہے کہ اپنے کاموں کو خداوند عالم کی رضایت کے لئے انجام دو اور اس کے ساتھ معاملات کرو،انسان جب خداوندعالم سے بیعت کرتا ہے،پیغمبر اکرم (ص) سے بیعت کرتا ہے یعنی اپنے جان و مال کو بیچ دیتا ہے اور خداوند عالم اس کے مقابلہ میں جو قیمت ان کو عطا کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے،لیکن وہ چیز جو امام علی نقی علیہ السلام کے نورانی بیان سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی ایسی ذات سے معاملہ کرتا ہے کہ وہ کریم ہے ، بزرگ ہے ، بخشنے والا ہے ، عوض و معوّض،دونوں کو ہمیں واپس دینے والا ہے !مثال کے طور ایک محترم خریدار ہمارے فرش کو کہ جس کی قیمت سو درہم ہو اس کو دو سو درہم میں خریدتا ہے اور اس کے بعد دو سو درہم کے ساتھ فرش بھی ہم کو واپس کر دیتا ہے!؟اللہ کے ساتھ تجارت بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔
انہوں نے رسول اکرم (ص) کی نورانی بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استغفار کو شیطان سے مقابلے کا بہترین راستہ جانا ہے اور بیان کیا: خیال کرنا،احتیاط کرنا، استغفار کرنا اور توبہ کرنا یہ سب اسی لئے ہے کہ انسان مسلسل خداوندعالم سے سودا کرنے کے راہ میں رہے اور شیطان سے سودا کرنے سے دوری اختیار کرے،چنانچہ  رسول اکرم (ص) کے ایک نورانی بیان میں نقل ہوا ہے کہ فرمایا:«تعطروا بالاستغفار» انسان کے لئے مستحب ہے کہ جب نماز پڑھے یا مسجد میں جائے معظر ہو لیکن اس کے مقابلہ میں فرمایا ہے ایک دوسرا عطر بھی ہے کہ وہ عطر رسوائی کو دور کرتی ہے ! استغفار سے خود کو معظر کرو ورنہ تمہارے گناہ کی بدبو تم کو رسوا کر دے گی ! فرمایا استغفار ، توبہ کرنا ، خداوندعالم سے راز و نیاز کرنا، نالہ و فریادکرنا ، آنسو بہانا یہ سب عطر ہے جو آبروریزی کی حفاظت کرتے ہیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24