Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189985
Published : 14/10/2017 16:4

رہبر انقلاب کی نظر میں امام سجاد(ع) کی زندگی کے بنیادی خطوط

میرا خیال یہ ہے کہ وہ اسلحہ، انقلابی سرداری کا رمز ہے اور کتاب، اسلامی آئیڈیالوجی کی فکر کا راز ہے اور یہ چیزیں ایک امام نے دوسرے امام کے سپرد کی ہیں،امام زین العابدین(ع) نے نہایت ہی اطمینانِ قلب اور مطمئن ضمیر اور بارگاہ خدا میں سرخروئی اور آگاہ انسانوں کی نظر میں انتہائی سرفرازی کے ساتھ دنیا سے کوچ کیا،یہ تھا امام زین العابدین(ع) کی حیات طیبہ کا پورا نقشہ۔

ولایت پورٹل:حضرت امام زین العابدین(ع) روز عاشورہ  ۶۱ہجری کو منصب امامت پر فائز ہوئے اور ۹۴ ہجری میں زہردغا سے شہید کئے گئے، اس پوری مدت میں آپ(ع)اسی مقصد کے حصول کے لئے کوشاں رہے۔ اب اس نظریہ سے آپ حضرات امام زین العابدین(ع) کے کام کے جزئیات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ آپ کن مراحل سے گزرے ہیں اور کن تدبیروں کو بروئے کار لائے ہیں اور کتنی کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے ہیں،آپ نے جو جملے بیان کئے ہیں اور جو تحریکیں چلائی ہیں اور جو دعائیں پڑھی ہیں اور جو مناجات اور راز و نیاز کئے ہیں وہ صحیفۂ سجادیہ کی صورت میں ڈھل گئے ہیں،ان سب کی اس کلی روش کو مدنظر رکھتے ہوئے تفسیر ہونی چاہیئے اور اسی طرح پوری مدتِ امامت میں امام کے موقف کی تفسیر ہونی چاہیئے:
۱– عبیداللہ بن زیاد اور یزید کے مقابلہ میں آپ کا موقف نہایت ہی شجاعانہ اور فداکارانہ تھا۔
۲–مسرف(مسلم) بن عقبہ کے مقابلہ میں آپ(ع) کا موقف نرم تھا،اس شخص نے یزید کی حکومت کے تیسرے سال اور یزید کے حکم سے مدینہ کو ویران اور لوگوں کے اموال وناموس کو تاراج کردیا تھا۔
۳–عبدالملک بن مروان کے مقابلہ میں آپ(ع) کا موقف کبھی سخت اور کبھی نرم ہوتا تھا کیونکہ وہ بنی امیہ کے خلفاء میں قوی ترین اور ہوشیار خلیفہ تھا۔
۴–عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ آپ(ع) کا برتاؤ معتدل تھا۔
۵–اپنے اصحاب اور اپنے دوستوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور انہیں کیاوصیتیں کی تھیں۔
۶–درباری علماء اور ظالم حاکم کے دربار سے وابستہ علماء کے بارے میں آپ(ع) کا موقف کیا تھا۔
ایسے مواقع اور سلوک کا نہایت ہی غائر نظر سے جائزہ لیا جانا چاہیئے ،میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس کلی روش کو مدّنظر رکھنے سے ہی تمام جزئیات اور حوادث کے معنی واضح طور پر سامنے آتے ہیں اور اپنا خاص نہج پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر امام زین العابدین(ع) کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہم آپ کو ایسا انسان پائیںگے کہ جس نے اس مقدس مقصد(جو کہ روئے زمین پر خدا کی حکومت بنانے اور اسلام کے نظام کو نافذ کرنے سے عبارت ہے) کے حصول کے لئے پوری کوشش کی اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور اسلامی قافلہ کو جو کہ واقعۂ عاشورہ کے بعد بکھر گیا تھا اور پراگندہ تھا اسے جمع کرکے بہت آگے لے گئے اور دو عظیم اور اصلی ذمہ داریوں کو انجام دیا ہے اور اپنے امور میں سیاست، شجاعت، غور و فکر اور ظرافت و باریک بینی سے کام لیا ہے،آپ(ع) نے تمام انبیاء اور تاریخ کے کامیاب لوگوں کی مانند پچیس سال بعد ایک انتھک جہاد اور ذمہ داری کو انجام دے کر سرفرازی و سربلندی کے ساتھ جام شہادت نوش کیا اور اپنے بعد کی ذمہ داری بعد والے امام یعنی امام محمد باقر(ع) کے سپرد کی،امامت کی منتقلی اور روئے زمین پر خدا کی حکومت کی تشکیل کی عظیم ذمہ داری۔ امام محمدباقر(ع) کی طرف امامت کی منتقلی۔روئے زمین پر حکومت خدا کی عظیم ذمہ داری کا ذکر روایات میں واضح طور پر ہوا ہے،ایک روایت میں آیا ہے کہ امام زین العابدین(ع) نے اپنے سارے بچوں کو جمع کیا اور پھر محمد بن علی(یعنی امام محمد باقر(ع))کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ صندوق اٹھالو، یہ اسلحہ لو، یہ تمہارے پاس امانت ہے جب آپ(ع) نے صندوق کھولا تو دیکھا کہ اس کے اندر قرآن اور کتاب ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ وہ اسلحہ، انقلابی سرداری کا رمز ہے اور کتاب، اسلامی آئیڈیالوجی کی فکر کا راز ہے اور یہ چیزیں ایک امام نے دوسرے امام کے سپرد کی ہیں،امام زین العابدین(ع) نے نہایت ہی اطمینانِ قلب اور مطمئن ضمیر اور بارگاہ خدا میں سرخروئی اور آگاہ انسانوں کی نظر میں انتہائی سرفرازی کے ساتھ دنیا سے کوچ کیا،یہ تھا امام زین العابدین(ع) کی حیات طیبہ کا پورا نقشہ۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19