Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189993
Published : 14/10/2017 17:40

نہج البلاغہ میں یاد خدا کی اہمیت

حضرت علی علیہ السلام نے یاد خدا کے ذریعہ دلوں پر مرتب ہونے والے عجیب و غریب اثرات کو بیان کیا ہے،یہاں تک کہ(الہامی آواز میں)کلام کرتا ہے،ذکر الٰہی سے دل الہامی اور خدا سے مکالمہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔


ولایت پورٹل:عبادت میں جتنے بھی اخلاقی واجتماعی و معنوی آثار ہیں ان سب کی بنیاد ایک ہی چیز پر ہے اور وہ ہے خدا کی یاد اور غیر خدا کو دل سے نکال دینا ،قرآن مجید ایک مقام پر عبادت کے تقویتی پہلوؤں اور تربیتی آثار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:نماز تمام برائیوں سے روکتی ہے۔
اور دوسری جگہ کہتا ہے:میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان جب نماز پڑھتا ہے اور خدا کو یاد کرتا ہے تو اسے ہر وقت اس بات کا احساس رہتا ہے کہ ایک دانا اور بینا ذات اسے دیکھ رہی ہے اور وہ اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرتا کہ وہ خود ایک بندہ ہے۔
ذکر خدا اور یاد خدا جو عبادت کا ایک مقصد ہے دل کو جلا اور پاکیزگی بخشتا ہے اور اس کو تجلیات الٰہی کے لئے آمادہ بناتا ہے،حضرت علی علیہ السلام یاد خدا کے بارے میں کہ جو روح عبادت ہے،اس طرح فرماتے ہیں:اِنَّ اللّٰہَ سُبْحَانُہٗ تَعَالیٰ جَعَلَ الذِّکْرَجِلَاءً لِلْقُلُوْبِ تَسْمَعُ بِہٖ بَعْدَ الْوَقْرَۃِ وَتَبْصُرُبِہٖ بَعْدَ الْعَشْوَۃِ وَتَنْقَادُ بِہٖ بَعْدَ الْمُعَانَدَۃِ وَمَابَرِحَ اَللّٰہُ عَزَّتْ آلَائُہٗ فِیْ الْبُرْھَۃِ بَعْدَ الْبُرْھَۃِ وَفِیْ اَزْمَانِ الْفَتَوَاتِ عِبَادٌ نَاجَاھُمْ فِیْ فِکَرِھِمْ وَکُلُّھُمْ فِیْ ذَاتِ عُقُوْلِھِمْ ۔
ترجمہ:اللہ نے اپنی یاد کو دلوں کے صیقل ہونے کا ذریعہ قرار دیا ہے،قلوب اس کے وسیلہ سے بہرے پن کے بعد سننے لگے اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگے اور دشمنی وسرکشی کے بعد مطیع وفرماں بردار ہوگئے ہمیشہ یہ ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے کہ یکے بعد دیگرے زمانہ کے ہر عہد میں اور جو دور انبیاء(ع)سے خالی رہا ہے اس میں بھی اللہ کے کچھ ایسے مخصوص بندے ہمیشہ موجود تھے اور ہیں کہ جن کی فکروں میں سرگوشیوں کی صورت راز و نیاز کی باتیں القاء کرتا ہے اور ان کی عقلوں کے ذریعہ ان سے (الہامی آواز میں)کلام کرتا ہے۔
ان کلمات میں حضرت علی علیہ السلام نے یاد خدا کے ذریعہ دلوں پر مرتب ہونے والے عجیب و غریب اثرات کو بیان کیا ہے،یہاں تک کہ(الہامی آواز میں)کلام کرتا ہے،ذکر الٰہی سے دل الہامی اور خدا سے مکالمہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22