Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190005
Published : 15/10/2017 17:40

امام سجاد(ع) اور احیاء فکر حسینی

واقعہ عاشورا نے ہر منافق کے چہرے سے نقاب کو نوچ لیا تھا،خصوصاً اموی مشینری میں کام کرنے والے ہر تملق باز اور چاپلوس کو سر بازار رسوا کردیا تھا اور یہ کام امام سجاد علیہ السلام کی مسلسل کاوش اور جد وجہد ہی کے سبب میسر ہوا کہ امت مسلمہ کے سامنے امویوں کا نفاق برملا ہوا خصوصاً کوفہ و شام میں امام سجاد علیہ السلام کے وہ خطبے اس امر کے غماز ہیں۔


ولایت پورٹل:امام سجاد علیہ السلام کا اکثر زمانہ امامت،عبدالملک بن مروان کے دور میں گذرا،چنانچہ عبد الملک بن مروان ہی وہ پہلا اموی خلیفہ تھا جس نے قانونی طور پر امر بالمعروف اور نہی از منکر پر پابندی عائد کی تھی،چنانچہ اس نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے بعد ایک عام خطاب میں لوگوں سے کہا:جو شخص بھی مجھے تقوٰی الہی کی طرف دعوت دے گا میں اسے قتل کردوں گا! یہی وجہ ہے کہ بعد شہادت امام حسین(ع) امت مسلمہ کچھ برسوں کے لئے بیدار ہوئی تھی لیکن اس نے عملی طور پر ایسے گھناؤنے کام انجام دیئے کہ بیداری کی چنگاریاں کچھ وقت کے لئے پھر دب گئیں تھیں،چونکہ عبدالملک لوگوں کو خاموش رکھنا چاہتا تھا اور وہ اس کے لئے ہر حد سے گذرجاتا تھا لہذا ان حالات کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اس دور  پرمحن کس طرح پھونک پھونک کر قدم رکھے اور کن مشکلات میں اپنے بابا کے مشن کو زندہ رکھا۔
احیاء فکر حسینی کے طریقے:
حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آل محمد(ص) کا طریقہ عمل ہمیشہ یہ رہا کہ وہ نہضت و قیام کربلا کو ہر دور میں پہچنواتے رہے،چونکہ قیام کربلا،جمال الہی کا آئینہ،اور دینی غیرت و حمیت و شجاعت کا مظہر تام تھا،لہذا تمام آئمہ(ع) اس نہضت کو زندہ رکھنا چاہتے تھے تاکہ معاشرہ میں انسانی اقدار زندہ رہے اور خصوصاً امام سجاد علیہ السلام نے قیام کربلا کی بقا اور احیاء کے لئے ایک عظیم کردار ادا کیا چونکہ آپ نے مسلسل ۳۵ برس کی پربرکت حیات میں ہر لمحہ فکر کربلا اور مقصد قیام کو برملا کرنے میں صرف کی اور آپ نے متعدد طریقوں سے واقعہ عاشورا کے خدوخال کو پہچنوایا،آپ نے جن طریقوں سے مقصد امام حسین(ع) کو پہچنوایا ان کو مندرجہ ذیل سطور میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
۱۔سید الشہداء علیہ السلام پر مسلسل گریہ کرنا۔
۲۔عاشورا کے واقعات کو تفصیل کے ساتھ لوگوں کے لئے بیان کرنا۔
۳۔لوگوں کو امام حسین(ع) کی زیارت کی ترغیب دلانا۔
۴۔خاک شفا پر سجدہ کرنا اور لوگوں کو تربت پاک پر سجدہ کرنے کی تاکید فرمانا۔

۵۔چہرہ امویت سے نقاب اسلام کھینچنا۔
واقعہ عاشورا نے ہر منافق کے چہرے سے نقاب کو نوچ لیا تھا،خصوصاً اموی مشینری میں کام کرنے والے ہر تملق باز اور چاپلوس کو سر بازار رسوا کردیا تھا اور یہ کام امام سجاد علیہ السلام کی مسلسل کاوش اور جد وجہد ہی  کے سبب میسر ہوا کہ امت مسلمہ کے سامنے امویوں کا نفاق برملا ہوا خصوصاً کوفہ و شام میں امام سجاد علیہ السلام کے وہ خطبے اس امر کے غماز ہیں۔
۶۔شیعت کے بنیادی اصول و ضوابط کو ترسیم کرنا۔
جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ اموی حکومت کی مسلسل یہ کوشش تھی کہ امت ایک مرتبہ پھر خواب غفلت میں چلی جائے اور وہ اپنی خلافت کو مزید مستحکم کرتے چلے جائیں لیکن ایک امام ہونے کے سبب امام سجاد علیہ السلام کی ذمہ داری نہایت سنگین تھی اور آپ کا کام لوگوں کی ہدایت کرنا تھی،جبکہ آپ علی الاعلان بھی اس ظالم حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکتے تھے،لہذا آپ نے تلوار سے جنگ کرنے کے بجائے امت کی کردار سازی پر توجہات مرکوز فرمائیں اور اب تلواروں کو صیقل کرنے کے بجائے کرداروں کو ڈھالنے کا کام شروع کیا اور اس کے لئے جس میدان میں قدم رکھنا تھا اس کا نام تھا میدان «عبادت و دعا»،اگرچہ ظاہر میں امام کی یہ تحریک ایک اخلاقی عمل تھی،لیکن حقیقت میں آپ کی یہ تحریک دشمن کے مقابلے میں ایک بنیادی مشق جنگ تھی جس میں آپ نے معارف،توحید،اخلاق و ہدایت کے نہ جانے کتنے چراغ روشن کئے جو رہتی دنیا تک ہر بابصیرت کو حق کا راستہ دکھلاتے رہیں گے۔
چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کی ان کوششوں کا ہی طفیل ہے کہ آج شیعیت اور شیعہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں،جہاں انسانیت کا نام آتاہے،جہاں شرافت کا تذکرہ ہوتا ہے وہاں کربلائی فکر کو یاد کیا جاتا ہے،چونکہ کربلائی فکر کے سامنے کوئی ایسا کردار نظر نہیں آتا جس نے انسانیت و آدمیت و مذہب کی اتنی بڑی خدمت کی ہو،یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ کی اموی حکومت جب امام سجاد(ع) کی اس تحریک سے مطلع ہوئی تو اس سے رہا نہ گیا اور آخرکار ۲۵ محرم سن ۹۵ ہجری کو حضرت کو شہید کردیا جاتا ہے۔
سلام علیہ یوم ولد و یوم مات و یوم یبعث حیاً
ترجمہ :سجاد ربانی

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23