Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190011
Published : 15/10/2017 19:0

فکر قرآنی:

گمراہوں کے سلسلہ میں مؤمنین کا فریضہ

اس آیت میں جو کچھ بیان ہوا اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے دین کی دعوت پر مبنی آیتوں نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے کیوں کہ یہ آیت مؤمنوں کو اس بات سے منع کرتی ہے کہ گمراہوں کو ہدایت کا راستہ دکھانے کی وجہ سے خود کی ہدایت کو نہ بھلا بیٹھیں اور لوگوں کو نجات دلانے کی وجہ سے خود کو معنوی ہلاکت میں نہ ڈالیں۔

ولایت پورٹل:جو چیز ہر مؤمن پر واجب ہے وہ لوگوں کو خداوندعالم اور امرب المعروف و نہی عن المنکرکی جانب دعوت دینا ہے اور مختصر یہ کہ معمولی طور پر ان کی ہدایت کے اسباب کی فراہمی ہے تاہم اس کے اثر کو خدا پر چھوڑ دینا چاہیئے کیوںکہ سارے امور اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔
اسی کے ساتھ لوگوں کو معنوی ہلاکت سے نجات دلانے کے لئے خود کو ہلاکت میں ڈالنا بھی صحیح نہیں ہے کیوںکہ خدا نے اس طرح کا کوئی حکم نہیں دیا ہے اور نہ ہی کسی کو کسی کی برائی کی خاطر مواخذہ کیا ہے اور کوئی بھی کسی دوسرے پر خدا کا وکیل نہیں ہے۔
چنانچہ اللہ کا ارشاد ہوتا ہے:«فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلَی آثَارِہِمْ إِن لَّمْ یُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِیْثِ أَسَفاً  إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْأَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَیُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً  وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْداً جُرُزاً»۔(سورہ کہف:۶)
ترجمہ:اے محمد! کیا آپ صرف اس لئے کہ آپ کی قوم ایمان نہیں لارہی ہے خود کو غم و اندوہ سے ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ زمین پر ہے وہ ہم نے اس کے لئے زینت قرار دی تاکہ لوگوں کو آزماسکیں کہ ان میں سے کون نیک عمل کرتا ہے، اسی کے ساتھ جو کچھ زمین پر ہےاسے ہم مٹی میں بھی ملا سکتے ہیں۔
اس آیت میں جو کچھ بیان ہوا اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے دین کی دعوت پر مبنی آیتوں نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے کیوں کہ یہ آیت مؤمنوں کو اس بات سے منع کرتی ہے کہ گمراہوں کو ہدایت کا راستہ دکھانے کی وجہ سے خود کی ہدایت کو نہ بھلا بیٹھیں اور لوگوں کو نجات دلانے کی وجہ سے خود کو معنوی ہلاکت میں نہ ڈالیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17