Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190014
Published : 15/10/2017 19:33

رہبر انقلاب کی نظر میں امام زین العابدین(ع)کے اہداف و مقاصد

امام زین العابدین(ع) کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کو اہلبیت(ع) کی حقانیت سے اور اس بات سے آگاہ کریں کہ منصب ولایت و امامت اور حکومت ان کا حق ہے اور یہ رسول(ص) کے حقیقی جانشین ہیں اور لوگوں کو بھی چاہیئےکہ وہ اس مسئلہ سے آگاہ و آشنا ہوں اور یہ بات اسلامی فکر و آئیڈیالوجی کا جز ہونے کے ساتھ، سیاسی ماہیت سے بھی خالی نہیں ہے،یعنی یہ ظالم حکومت کے خلاف ایک سیاسی تحریک ہے۔


ولایت پورٹل:کربلا کے بعد امام زین العابدین(ع) کے کام کا میدان روشن اور ہموار ہوگیا،اب امام انہیں حالات میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام زین العابدین(ع)کا آخری مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا تھا اور جیسا کہ امام صادق(ع) کی روایت میں آیا ہے کہ خدا نے ۷۰ہجری  کو حکومت کے لئے مخصوص کیا تھا لیکن چونکہ ۶۱میں امام حسین بن علی(ع) کی شہادت ہوگئی تھی لہٰذا اس کے لئے ۱۴۷ ۔۱۴۸ ہجری تک مؤخّرکردیا ہے۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ امام زین العابدین(ع) اور تمام ائمہ(ع) کا آخری مقصد اسلامی حکومت کی تشکیل ہی تھا،لیکن اُن حالات میں اسلامی حکومت کیسے بن سکتی ہے؟ اس کے لئے چند چیزوں کی ضرورت ہے:
۱۔صحیح اسلامی فکر درکار ہے، جس کے حقیقی حامل و مالک ائمہ(ع) ہیں اور اسی فکر کی بنیادوں پر اسلامی حکومت کو استوار ہونا چاہیئے، اسی کی تدوین و تبلیغ اور نشر و اشاعت ہونا چاہیئے،چونکہ ایک عرصۂ دراز تک اسلامی معاشرہ صحیح فکر و نظر سے دور رہا ہے تو اصلی اسلامی فکر کی بنیاد پر اسلامی حکومت کیسے بنائی جاسکتی ہے خصوصاً جب لوگوں کے درمیان صحیح فکر کے رائج کرنے کے لئے کوشش بھی نہ کی گئی ہو اور اصلی و حقیقی احکام کی تدوین بھی نہ ہوئی ہو۔
امام زین العابدین(ع) کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ(ع) نے اصلی اسلامی فکر یعنی توحید و نبوت انسان کا معنوی مرتبہ اور انسان کے خدا سے اور دوسری چیزوں سے رابطہ کی تدوین کی ہے چنانچہ صحیفۂ سجادیہ کی اہم ترین خصوصیت یہی ہے،آپ صحیفۂ سجادیہ کا مطالعہ کریں اور پھر اس زمانہ کے لوگوں کے حالات و کوائف کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دونوں میں کتنا فرق ہے،عین اسی وقت جب عالم اسلام کے سارے لوگ مادی سمت کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور ان کی ساری فعالیتیں و کوششیں مادی اشیاء کی حصولیابیوں میں صرف ہو رہی تھیں۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان سے لے کر اس کے حاشیہ نشین علماء تک (ان میں محمد بن شہاب زہری بھی شامل ہے) سب ہی اپنی خودخواہی اور اپنی دنیا کی فکر میں ہیں۔ اس وقت امام زین العابدین(ع) لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں اور اس طرح فرماتے ہیں:أَوَلا حُرٌّ یَدَعُ ھٰذِہِ اللُّماظَةَ لِاَھْلِھَا»۔
ترجمہ:کیا کوئی آزاد مرد نہیں ہے جو اس کُتّے کے جھوٹے (یعنی دنیا)کو دنیادار کے لئے چھوڑ دے؟
اس جملہ میں اسلامی تفکر، معنویات کو اصل مقصد قرار دینے اور معنوی و اسلامی آرزؤں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قدم اٹھانے اور انسان کو اس کے خدا سے مرتبط کرنے اور اسے اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے سے عبارت ہے اور یہ ٹھیک اس چیز کا نقطۂ مقابل ہے جو اس زمانہ کے لوگوں کی مادی فکر نے ایجاد کی تھی،یہ ایک نمونہ تھا جس کو ہم نے بیان کیا۔ایسے ہی بہت سے نمونوں کے لئے امام زین العابدین(ع) کام کررہے تھے تاکہ ان کاموں کے نتیجہ میں درست اور صحیح اسلامی فکر اپنی حقیقی صورت میں اسلامی معاشرہ کی فضا میں رچ بس جائے اور ختم نہ ہو، یہ امام زین العابدین(ع) کا اولین کارنامہ تھا۔
۲–لوگوں کو ان اشخاص کی حقانیت سے روشناس کرانا؛ جن کے ذریعہ حکومت کی تشکیل ہونا چاہیئے،حالانکہ دسیوں سال کے طویل عرصہ سے، امام زین العابدین(ع) کے زمانہ تک خاندانِ رسول(ص) کے خلاف تبلیغات اور پروپیگنڈے کی وجہ سے ایک شور بپا تھا، عالم اسلام میں اسی کا چرچا تھا اہل بیت(ع) کے خلاف راستہ اختیار کرنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں گڑھ لی گئی تھیں،بعض موقعوں پر تو یہ حدیثیں اہل بیت(ع) پر سبّ و شتم اور لعن و طعن پر مشتمل ہوتی تھیں اور لوگوں کے درمیان نشر ہوچکی تھیں،لوگ اہل بیت(ع) کے معنوی و حقیقی مرتبہ سے قطعاً ناواقف تھے،ایسی صورت حال میں اہل بیت(ع) کے ذریعہ کیسے حکومت قائم ہوسکتی تھی؟
اس بناء پر امام زین العابدین(ع) کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کو اہلبیت(ع) کی حقانیت سے اور اس بات سے آگاہ کریں کہ منصب ولایت و امامت اور حکومت ان کا حق ہے اور یہ رسول(ص) کے حقیقی جانشین ہیں اور لوگوں کو بھی چاہیئےکہ وہ اس مسئلہ سے آگاہ و آشنا ہوں اور یہ بات اسلامی فکر و آئیڈیالوجی کا جز ہونے کے ساتھ، سیاسی ماہیت سے بھی خالی نہیں ہے،یعنی یہ ظالم حکومت کے خلاف ایک سیاسی تحریک ہے۔
۳–امام زین العابدین(ع) کو ایسے انتظامات کرنا چاہئیں جو مستقبل میں سیاسی تحریکوں کا اصلی محور بن جائیں جس معاشرہ میں لوگ گھٹن، ناداری و مالی پریشانی میں مبتلا ہوں،اپنی نوع سے جدائی و تنہائی کے اور دور رہنے کے عادی ہوگئے ہوں،یہاں تک کہ شیعہ ایسے دہشت زدہ اور خوف کی حالت میں زندگی گزاررہے تھے کہ ان کی تنظیم ختم ہوچکی تھی پراگندگی کا شکارتھے،ایسے ماحول میں تن تنہا امام زین العابدین(ع) چند پراگندہ اور بکھرے ہوئے لوگوں کے ساتھ اپنے کام کا آغازکیسے کرسکتے تھے۔
اس بناء پر امام زین العابدین(ع) کا دوسرا کام یہ ہے کہ آپ(ع) شیعوں کو منظم کریں ان کی تنظیم بنائیں،ہمارے نقطۂ نظر سے یہ چیز امیرالمومنین(ع) کے زمانہ سے چلی آرہی تھی البتہ واقعۂ عاشورہ، حادثۂ حَرّہ اور جناب مختار کی شورش سے یہ تنظیم بکھر گئی تھی۔ امام زین العابدین(ع) کا کام اسے دوبارہ منظم و زندہ کرنا تھا۔
نتیجہ میں امام زین العابدین(ع) کے تین اہم کام تھے:
۱–اسلامی فکر کی صحیح صورت اور تنزیلِ خدا کے مطابق تدوین کیوںکہ یہ فکر ایک طویل عرصہ سے تحریف و فراموشی کا شکار تھی۔
۲–اہل بیت(ع)کی حقانیت کا اثبات اور ان کا امامت و ولایت اور حکومت کا استحقاق۔
۳–پیروانِ آلِ محمد(ص) اور تشیع کا اتباع کرنے والوں کی تنظیم و تشکیل نو کے لئے کوشش۔
یہ تین بنیادی کام ہیں جن کا ہمیں جائزہ کرلینا چاہیئے،اور یہ دیکھنا چاہیئے کہ امام زین العابدین(ع) کی زندگی میں ان تینوں کاموں میں سے کون سا کام انجام پایا،ان تین کاموں کے ساتھ کچھ دوسرے امور بھی تھے جو ضمنی تھے،منجملہ ان کے بعض کا اظہار کبھی امام زین العابدین(ع) کی طرف سے اور کبھی آپ(ع) کے شیعوں کی طرف سے ہوتا تھا تاکہ اس گھٹن کی فضا کو کسی حد تک کم کیا جاسکے۔
متعدد واقعات میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام(ع) کے شیعہ یا خود امام(ع)، اجتماعات میں (البتہ اس وقت جب اچھے خاصے مستحکم ہوچکے تھے) ایسی باتوں کا اظہار کرتے ہیں کہ جن سے گھٹن کی فضا کو چاک کیا جاسکے اور اس محدود فضا میں ایک صاف وشفاف اور لطیف وخوشگوار ہوا آئے،یہ ایک جدا کام ہے،میں آئندہ اس کے نمونے بیان کروںگا۔
گھٹن کی اس محدود فضا کو وسیع کرنے کے لئے ایک ضمنی کام حکومت کی مشینری اور اس سے وابستہ لوگوں سے مقابلہ کرنا ہے جیسے امام زین العابدین(ع) اور عبدالملک کے درمیان بارہا کچھ مسائل پیدا ہوئے یا آپ(ع) کے اور عبدالملک سے وابستہ علماء جیسے محمد بن شہاب زہری کے درمیان کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ اسی طرح ائمہ(ع) کے اصحاب اور گذشتہ خلفاء کے درمیان کچھ معرکے ہوئے ہیں، ان سب کا مقصد لوگوں کو اس گھٹن کی فضا سے آزاد کرانا تھا۔
اگر کوئی شخص اتنی ہی معلومات کے ساتھ کہ جو میں نے بیان کئے ہیں اخلاقی روایات، مواعظ و نصائح، مخطوطات و مکتوبات اور امام زین العابدین(ع) سے نقل ہونے والی روایات یا آپ(ع)کی زندگی میں پیش آنے والے حوادث کا مطالعہ کرے گا تو یہ سب چیزیں اس کے لئے بامعنی ہوجائیںگی یعنی وہ محسوس کرے گا کہ یہ سارے اظہارات اور بیانات ان تینوں خطوط (اہم کاموں)میں سے کسی ایک کے گرد گھومتے ہیں جو ہم نے بیان کئے ہیں اور ان سب کا مقصد اسلامی حکومت کی تشکیل ہے البتہ امام زین العابدین(ع) کو یہ فکر نہیں تھی کہ اسلامی حکومت خود انہیں کے زمانہ میں بن جائے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ حقیقت میں یہ حکومت آئندہ(یعنی امام صادق(ع) کے زمانہ میں) بن پائے گی۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20