Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190044
Published : 17/10/2017 16:18

مرنے کے بعد والدین کے ساتھ احسان؟

پس نیک اولاد،والدین کے مرنے کے بعد کہ جب ان کا نامہ اعمال بند ہوچکا تھا وہ اسے کھلا رکھ سکتے ہیں،یعنی مسلسل ان کے لئے دعا،استغفار،اور نیکی کرکے انھیں خوش رکھا جاسکتا ہے۔

ولایت پورٹل:خیرات و استغفار اور ان جیسے بہت سے ایسے اعمال ہیں کہ جو بہ صورت احسان والدین کے مرنے کے بعد بھی ان تک پہونچائے جاسکتے ہیں،چونکہ پیغمبر اکرم(ص) سے منقول ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کے شروع کردہ نیک اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے لیکن چند صورت میں اس کے ان اعمال کا سلسلہ باقی رہتا ہے:
۱۔صدقہ جاریہ: اپنی زندگی میں کوئی ایسا کام کرے جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے مثال کے طور پر کسی خیراتی ادارے یا ہسپتال کی بنیاد رکھے لہذا اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ثواب ملتا رہے گا۔
۲۔سنت حسنہ:اگر انسان اپنی زندگی میں کوئی ایسا کام کرے کہ جس سے لوگ مسلسل فائدہ اٹھاتے رہیں،مثال کے طور پر کوئی کتاب لکھے اور لوگ اسے پڑھ کر ہدایت پاتے رہیں تو اس کا ثواب اسے ملتا رہے گا۔
۳۔دعا کرنے والی اولاد چھوڑے:تیسری چیز کہ جو انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے کام آسکتی ہے وہ مہذب و مکرم اولاد ہے چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ:کبھی جنت میں کسی انسان کا درجہ بڑھادیا جائے گا تو وہ سوال کرے گا:مجھے اس نئے درجہ میں کیوں رکھا گیا ہے؟ تو اسے جواب ملے گا:چونکہ تیری اولاد نے تیرے لئے استغفار کیا ہے اس وجہ سے تجھے اس مقام تک پہونچایا گیا ہے۔
پس نیک اولاد،والدین کے مرنے کے بعد کہ جب ان کا نامہ اعمال بند ہوچکا تھا وہ اسے کھلا رکھ سکتے ہیں،یعنی مسلسل ان کے لئے دعا،استغفار،اور نیکی کرکے انھیں خوش رکھا جاسکتا ہے،چنانچہ سورہ اسراء،انعام،بقرہ اور نساء میں اللہ کی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کو بیان کیا گیا ہے جبکہ سورہ احقاف و لقمان میں والدین کے ساتھ احسان کا تذکرہ مستقل طور پر ہوا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22