Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190049
Published : 17/10/2017 16:32

امام سجاد(ع) کی زندگی کے چند اہم پہلو

لہذا جب بھی کوئی حضرت کی پناہ میں آنا چاہتا تھا آپ اسےمنع نہیں فرماتے تھے،غرض! آئمہ معصومین(ع) لوگوں کے لئے امان الھی ہیں اسی وجہ سے مروان بھی اپنی اور اپنے اہل عیال کے لئے بہترین پناگاہ کی تلاش میں تھا اور اسے معلوم تھا کہ یہ خاندان عفو و کرم ہے لہذا حضرت نے اسے پناہ دی۔

ولایت پورٹل:جو چیز ایک جویائے حقیقت کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرتی ہے وہ تحریک عاشورا میں امام سجاد(ع) کا بے نظیر کردار ہے،چونکہ سن ۶۱ ہجری کے دلخراش واقعہ کے بعد آپ تقریباً ۳۵ برس بقید حیات رہے اور آپ مسلسل اس طویل عرصہ میں لوگوں کو بیدار فرماتے رہے اور مقصد امام حسین(ع) سے آگاہ فرماتے رہے لہذا ہم اس مضمون میں امام سجاد(ع) کی زندگی کے کچھ اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے:
پہلا پہلو:میدان کربلا میں امام سجاد(ع)،اللہ کی مصلحت کے پیش نظر شدید مرض میں مبتلاء ہوگئے جس کے سبب جہاد کا وظیفہ آپ سے ساقط ہوگیا اگرچہ کوفی اور شامیوں کی سازش تو یہ تھی کہ کربلا،حسین یا حسینی نام کی کوئی شئی اس زمین پر باقی نہ بچے لیکن:مکروا مکر اللہ واللہ خیرالماکرین ۔اور تدبیر الہی سے پیغام عاشورا کی حفاظت اور لوگوں تک اسے پہونچانا آپ کے ذمہ تھا چنانچہ سبط ابن جوزی تذکرۃ الخواص میں لکھتے ہیں:چونکہ علی بن الحسین(ع) بیمار تھے اس وجہ سے قتل نہیں کئے گئے۔( تذکره الخواص، ص 324.)۔
دوسرا پہلو:اسلامی بیداری میں امام سجاد(ع) کا کردار
بغیر شک و شبھہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ امام زین العابدین(ع) نے امت کو بیدار کرنے اور ان کے خفتہ ضمیروں کو جھنجوڑنے کے سلسلہ میں اہم کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے بیداری کے لئے کوفہ ہی سے اپنی تحریک کا آغاز کیا اور پھر شام میں یزید کا دربار اور دمشق کی جامع مسجد اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔
اگرچہ بنی امیہ کی سازش یہ تھی کہ وہ لوگوں کو فریب دیکر انھیں گمراہی میں سرگراں رکھے لیکن حضرت کے خطبوں کا اثر تھا کہ اس قافلہ کو خارجیوں کا قافلہ کہنے والے الٹے یزید کی ملامت کرنے لگے۔
تیسرا پہلو:واقعہ حرہ اور امام سجاد(ع)
واقعہ کربلا کے بعد امام سجاد(ع) کے بصیرت افروز بیانات کے سبب اموی حکومت کی دسیسہ کاریاں اور شیطنت لوگوں پر واضح ہونے لگی اور اب بنی امیہ کے تخت کے پائے لرزنے لگے اور اس طرح اسلامی دنیا میں چھوٹی چھوٹی تحریکیں وجود پانے لگیں انھیں میں سے ایک تحریک مدینہ کے لوگوں کی تھی اگرچہ امام سجاد(ع) نے ان تحریکوں کی رہبری نہیں فرمائی بلکہ یہ اس بیداری کے نتیجہ میں لوگوں کی طرف سے اٹھنے والی صدائے احتجاج تھی جو اب رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی،صدائے اعتراض جتنی بلند تھی اسے دبانے کی کوشش بھی ویسی ہی کی گئی اور مسلم بن عقبہ کی سرکردگی میں یزید نے ایک بڑا لشکر مدینہ والوں کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا جس میں ۳ دن تک اہل یثرب کا جان و مال و ناموس مباح کردی گئیں،روضہ رسول(ص) میں لشکریوں نے گھوڑے باندھے اور مدینہ میں خون پانی کی طرح بہنے لگا۔
چوتھا پہلو:امام سجاد(ع) کا مروان کو پناہ دینا
شیعہ عقائد کی رو سے آئمہ معصومین(ع) صفات الہی کا مظہر ہیں اور ان حضرات(ع) کے وجود میں اخلاق حسنہ اپنے اعلٰی مراتب میں پایا جاتا ہے: «صِبْغَةَ اللَّهِ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً»، اللہ کا رنگ، اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہے ۔
لہذا جب بھی کوئی حضرت کی پناہ میں آنا چاہتا تھا آپ اسےمنع نہیں فرماتے تھے،غرض! آئمہ معصومین(ع) لوگوں کے لئے امان الھی ہیں اسی وجہ سے مروان بھی اپنی اور اپنے اہل عیال کے لئے بہترین پناگاہ کی تلاش میں تھا اور اسے معلوم تھا کہ یہ خاندان عفو و کرم ہے لہذا حضرت نے اسے پناہ دی۔

ترجمہ:سجاد ربانی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17