Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190055
Published : 17/10/2017 19:0

عقیدہ وہابیت کی رد:

روضہ رسول(ص) کی زیارت،سیرت صحابہ و تابعین سے ثابت

عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ لوگ رسول اسلام(ص) کے منبر پر ہاتھ پھیرتے ہیں ، اس کو چومتے ہیں اور اسی طرح آنحضرت(ص) کی قبر مطہر کو مس کرتے ہیں اور بوسہ دیتے ہیں، اس سوال کے جواب میں احمد نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہر قوم میں اپنے بزرگوں کی یادگاروں کو محفوظ رکھنا اور ان کا احترام کرنا ایک معمول کی بات ہے لہذا اس حیثیت سے مسلمان بھی دوسری اقوام عالم سے مستثنٰی نہیں ہیں،بلکہ رسولان برحق اور اولیاء الہی کی یادگاروں کی حفاظت اور ان کی زیارت دین اسلام کے مسلمات میں سے ایک ہے چنانچہ تمام اسلامی فرقے اس امر پر متحد ہیں کہ روضہ رسول(ص) کی زیارت کرنا  صرف یہی نہیں کہ تعظیم شعائر اللہ کے مصادیق میں سے ہے بلکہ خود رسول اکرم(ص) کی حدیث موجود ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا:من حج البیت و لم یزرنی فقد جفانی
ترجمہ:جو شخص حج کے لئے آئے اور میری زیارت کئے بغیر لوٹ جائے اس نے مجھ پر جفا کی ہے۔
لہذا تمام فرزندان توحید فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد اللہ کے رسول (ص) کی زیارت کے لئے جاتے ہیں لیکن آج کل حرم نبوی میں ایک خاص طرح کی مشکلات پائی جاتی ہیں اور وہ ہیں آل سعود کے کارندے،یہ لوگ صرف اس وجہ سے رکھے گئے ہیں کہ وہ قبر پیغمبر(ص) پر جانے والوں کے لئے مشکلیں ایجاد کریں ،آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ کیا رسول خدا(ص) کی زیارت واقعاً حرام ہے جیسا کہ وہابیت کے غلام ہر روز چلا چلا کر کہہ رہے ہیں؟ یا نہیں ؟ بلکہ رسول خدا(ص) کی قبر اطہر کی زیارت کو خود  صحابہ اور سلف صالح جایا کرتے تھے، تو اس سلسلہ میں ہم خود علماء اھل سنت کی تحریر کردہ کتب سے  استفادہ کرتے ہوئے اس موضوع کی حقیقت کو آشکار کرنا چاہیں گے:     
طبری ، قاسم ابن محمد سے روایت کرتے ہیں کہ میں جناب عائشہ کے پاس گیا اور عرض کی اے اماں جان! پیغمبر(ص) اور ان کے پاس جو دو لوگ دفن ہیں، مجھے ان کی زیارت کرائیے، جناب عائشہ نے مجھے ان تینوں قبروں کو دکھایا، جو نہ زمین سے اونچی تھیں اور نہ ہی زمین کے برابر(یعنی تھوڑی سی بلند تھیں) اور ان پر لال رنگ کے سنگریزے یا لال رنگ کا ریت (بالو) بچھا ہوا تھا اور میں نے دیکھا کہ آنحضرت(ص)کی قبر مبارک سب سے آگے تھی اور حضرت ابوبکر کی قبر ان کے پیچھے  تھی اورحضرت عمر کی قبر آنحضرت(ص) کے پیروں کی طرف تھی۔{ تاریخ طبری،ج۴،ص۲۱۳۱ ۔}
آنحضرت(ص)کی قبر کے صندوق کے بارے میں
سمہودی تحریر کرتے ہیں: آنحضرت(ص) کی قبر مطہر کے صندوق کی ابتداء کے بارے میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مسجد میں پہلی بار آگ لگنے{ وفاء الوفاء،ج۱،ص۴۲۷} سے پہلے(یعنی  ۶۵۴ہجری) صندوق موجود تھا، کیونکہ جس وقت تعمیر مسجد کے متولی نے اس کو اس کی جگہ سے نکالاتو اس کے نیچے صندوق عتیق کے ستون ظاہر ہوئے تھے جس پر آگ کے نشان موجود تھے، گویا مسجد کی تجدید کے وقت اس عتیق کے صندوق کو نئے صندوق کے اندر رکھا گیا تھا، ابن سمہودی کی بات تائید چھٹی صدی کے مشہور ومعروف سیاّح ابن جبیر کے بیان سے ہوتی ہے جیساکہ لکھتا ہے:
وہ آبنوس کا صندوق (Apnus) جس پر صندل کی لکڑی کا کام تھااور چاندی کے ورق سے سجایا گیا تھا آنحضرت ؐکے سرہانے موجود ہے، جس کی لمبائی پانچ بالشت ، عرض تین بالشت اور اونچائی چار بالشت ہے اور آنحضرت(ص) کی قبر کے سامنے چاندی کی ایک میخ (کیل) ہے جس کے سامنے کھڑے ہوکر لوگ آنحضرت(ص) کو سلام کیا کرتے ہیں۔
دروازے کے نزدیک تقریباً بیس عدد قندیلیں چھت میں لگی ہوئی تھیں، جس میں سے دوعدد سونے کی اور باقی چاندی کی ہیں۔روضہ مقدس کے اندر کا ایک حصہ پرسنگ مرمرکا فرش ہے اور قبلہ کی طرف ایک محراب نما جگہ ہے جس کو بعض لوگ حضرت فاطمہ زہرا(س) کا گھر اور بعض لوگ اس کوحضرت فاطمہ زہرا(س) کی قبر مطہر کہتے ہیں، اسی طرح روضہ رسول(ص) کے سامنے ایک بڑا صندوق شمع اور چراغ جلانے کے لئے ہے اورہر شب میں اس میں چراغ جلائے جاتے ہیں۔{رحلۃ ابن جبیر،ص۱۴۸}
آنحضرت(ص)کی قبر مطہر کی زیارت  اور بوسہ لینے کے سلسلےمیں ایک اور وضاحت
جناب سمہودی نے جن پر تمام اہل سنت اور وہابی حضرات بھی اعتماد کرتے ہیں بہت سے ایسے موارد ذکر کئے ہیں کہ لوگ آنحضرت(ص) کی قبر کے نزدیک جاتے تھے اور قبر مطہر کے اوپر ہاتھ رکھتے تھے، یہاں تک کہ لوگ (تبرک کے لئے) آنحضرت(ص) کی قبر کی مٹی اٹھالیتے تھے اور جب سے جناب عائشہ کے حکم سے دیوار بنادی گئی اس کے بعد بھی لوگ دیوار میں موجود سوراخوں کے ذریعہ قبر مطہر کی مٹی اٹھالیا کرتے تھے۔ { وفاء الوفاء،ج۱،ص۳۸۵ }
سمہودی انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جو قبر آنحضرت(ص) پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا میں نے اس کو منع کیا، اس کے بعد بعض علماء کا قول نقل کرتے ہیں کہ اگر صاحب قبر سے مصافحہ کرنے کے قصد سے قبر پر ہاتھ رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
اس کے بعد کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ لوگ رسول اسلام(ص) کے منبر پر ہاتھ پھیرتے ہیں ، اس کو چومتے ہیں اور اسی طرح آنحضرت(ص) کی قبر مطہر کو مس کرتے ہیں اور بوسہ دیتے ہیں، اس سوال کے جواب میں احمد نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔
ایک دوسری روایت کے مطابق جناب بلال جب شام سے آنحضرت(ص) کی زیارت کے لئے مدینہ تشریف لائے تو آنحضرت(ص) کی قبر منور کے نزدیک روتے ہوئے گئے اور آنحضرت(ص) کی قبر پر اپنے رخساروں کو مَل رہے تھے اور ایک دوسری روایت کے مطابق جب حضرت علی(ص)نے رسول اکرم(ص) کو دفن کیا توجناب فاطمہ زہرا(ص) تشریف لائیں اور آنحضرت(ص)کی قبر مطہر کے سامنے کھڑی ہوئیں اور قبر سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اپنی آنکھوں سے مس کرکے رونا شروع کیا اور ایک دوسری روایت کے مطابق ابن عمر اپنا داہنے ہاتھ قبر منور پر رکھتے تھے اور اسی طرح جناب بلال اپنے رخساروں کو قبر مطہر پر رکھتے تھے، عبد اللہ ابن احمد حنبل نے کہا کہ یہ سب چیزیں بھر پور محبت کا ثبوت ہیں اور یہ تمام چیزیں ایک طرح سے آنحضرت (ص)کا احترام اور تعظیم ہیں۔ { وفاء الوفاء،ج۲،ص ۱۴۰۲ }
قارئین کرام! ہم نے خود علماء اہل سنت کے اقوال کی روشنی میں یہ بات پایہ ثبوت تک پہونچائی کہ خود صحابہ،تابعین اور علماء روضہ رسول(ص) کی زیارت کو جاتے تھے،قبر مطہر کا بوسہ لیتے تھے اور قیمتی تحائف حرم رسول(ص) کو ہدیہ کئے جاتے تھے لیکن آل سعود کی نجس حکومت،اپنے شان و شوکت پر تو اربو ڈالر خرچ کرڈالتی ہے،اپنی عیاشی کی رزم گاہیں تو یوروپ سے افریقہ تک سجاتے ہیں لیکن دور دراز سے شوق زیارت میں آنے والے ایک عاشق رسول(ص) کو جالی کے قریب بھی جانے نہیں دیا جاتا۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24