Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190073
Published : 18/10/2017 17:30

ٹرمپ کی فضول باتوں کا جواب دینے کا وقت نہیں ہمارے پاس:رہبر معظم

رہبر معظم نے مزید کہا کہ میں امریکی صدر کے فضول باتوں کا جواب دے کر اپنا اور آپ جوان دانشوروں کا وقت برباد نہیں کرنا چاہتا۔


ولایت پورٹل:رہبر معظم نے آج صبح  سیکڑوں جوان دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے  انھیں ایران کا روشن مستقبل قرار دیا اور سیاسی میدان میں سرگرم اعلی عہدہ داروں  کو مخاطب کرتے ہوئے  آپ نے ایٹمی معاہدہ سے متعلق  ہام نکات پر روشنی ڈالی، آپ نے کہا : سیاسی وابستگی نہایت ہی خطرناک ہے اس سے قومیں سرنگوں ہوجایا کرتی ہیں ،آپ نے  امریکہ سے ایران کے کسی بھی طرح سے وابستہ نہ ہونے کی طرف اشاروہ کرتے ہوئے کہا:دشمن نے جب یہ دیکھا کہ ایران ایک کمزور اور دور افتادہ ملک سے ایک بااثر اور باوقار ملک بن رہا ہے تو وہ غصہ ہوگیا ، اگرچہ یہ کوئی نئی بات نہیں ا  اس لیے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد سے امریکہ نے ہم دشمنی کرنا شروع کردی جبکہ اس وقت نہ ایٹمی مسئلہ درپیش تھا ، نہ میزائل اور خطہ میں مداخلت کا الزام  لیکن چونکہ انھیں معلوم ہوگیا تھا کہ انقلاب کی وجہ سے ایک مطیع، غلام اور وابستہ ملک ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ، اس کے بعد انھوں نے کسی نہ کسی بہانہ سے ہم پر پابندیاں لگانا شروع کردیں   اور دباؤ بھی ڈالنا شروع کر دیا لیکن  ہم نے نہ صرف یہ کہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ انھیں پابندیوں کی وجہ سے ہم نے ترقی اور پیشرفت بھی کی جس سے دشمن تلملا ک رہ گیا، رہبر معظم نے مزید کہا کہ میں امریکی صدر کے فضول باتوں کا جواب دے کر اپنا اور آپ جوان دانشوروں کا وقت برباد نہیں کرنا چاہتا  یہاں صرف ایک بات عرض کرنا چاہتا  ہوں کہ ہمیں دشمن کی پہچان ہونا چاہیے اس لیے کہ جس نے بھی دشمن کو نہیں پہچانا یا دشمن کو بے طرف یا دوست سمجھا وہ خطرہ میں ہے  اس کے بعد آپ نے نہج البلاغہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تب تک سوتا نہیں ہوں جب تک یہ معلوم نہ کرلوں کہ میرے ارد گرد کیا ہورہا ہے لہذا اہمیں بھی غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے ورنہ دشمن ہم پر شبخون ماردے گااور ہم ختم ہوجائیں گے، آپ نے  مزید کہا کہ امریکی عہدہ داران   ایران شناسی  کے بارے میں  ذہنی عقب ماندگی کا شکار ہے  اسی لیے ایسی فضول  باتیں کررہے ہیں  لیکن  امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے  امریکہ کے بارے میں کتنا خوبصورت اور حقیقت پر مبنی  جملہ کہا تھا کہ یہ شیطان اکبر یا بڑا شیطان ہے  نیز یہ واضح ہے کہ خطرناک اور خبیث بین الاقوامی صہیونی لابی حکومت کر رہی ہے  جو اکثر بیدار اور فعال قوموں کی دشمن ہے ، آگے چل کر آپ نے کہا: اسلامی جمہوریہ سے امریکہ کی دشمنی کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم اس کے ہر منصوبہ کو مٹی میں ملا دیتے ہیں  نیز اس کو ہر میدان میں   ایرانی انقلابی اور مؤمن جوانوں کی وجہ سے منھ کی کھانا پڑتی ہے ، رہبر معظم نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے پاگل پن کی وجہ سے ہمیں دشمن کو کم نہیں سمجھنا چاہیے  اگر چہ مجھے یقین ہے کہ دشمن کبھی بھی ہم سے جنگ کرنے میدان میں نہیں آئے گا لیکن کچھ اور مسائل ہیں جو جنگ  سے کم نہیں ہیں  لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے، اس کے بعد آپ نے ایٹمی معاہدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ معاہدہ کو پھاڑنے کی بات کر رہا ہے  اگر وہ ایسا کرتا ہے تو  ہم اس  معاہدہ ریزہ ریزہ کردیں گے، آخر میں  انھوں نے یورپی ممالک کو بھی انتباہ دیا کہ  وہ ایران کے دفاعی مسائل میں مداخلت سے پرہیز کریں ۔
رود کوف



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20