Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190076
Published : 18/10/2017 18:45

فکر قرآنی:

قرآن مجید کی نظر میں بہترین امت کون؟

سب سے بہترین امت صرف نعرہ بازی اور شعار دینے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق ایمان، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی انجام دہی سے ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! فکر قرآنی سیریز میں ایک بار پھر آپ کا خیر مقدم ہے،ہم مسلمان اپنے کو امت رسول آخرالزمان(ص) ہونے پر فخر کرتے ہیں اور اپنے کو امت مرحومہ تسلیم کرتے ہیں کیا یہ وہی فکر بنی اسرائیل نہیں ہے؟بنی اسرائیل بھی تو اپنے کو منتخب امت اور برگزیدہ قوم تصور کرتے ہیں اور اپنے کو دوسروں سے ممتاز جانتے ہیں تو ہم میں اور بنی اسرائیل میں کیا فرق ہے؟کیا ہمیں فخر و مباہات کا لیبل لگانے سے پہلے قرآن مجید سے اپنی ذمہ داریاں اور فرائض معلوم نہیں کرنے چاہیئے؟یقیناً ہمیں قرآن سے اپنے وظائف و فرائض معلوم کرنا ہونگے ورنہ ہم اس فخر و مباہات کے چکر میں کہیں اپنے کو صراط مستقیم سے دور نہ کرلیں لہذا آئیے قرآن مجید کی بارگاہ میں چل کر اپنے امت مرحومہ ہونے کے آداب ملاحظہ فرمائیں،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:کُنْتُمْ خَیْرَأُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِوَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلَوْآمَنَ أَہْلُ الْکِتابِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفاسِقُونَ۔(سورہ آل عمران:۱۱۰)۔
ترجمہ:تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظرعام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا لیکن ان میں صرف چندہی مؤمن ہیں اور اکثریت فاسقین کی ہے۔
اس آیت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمومی مرحلہ کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جس کے کچھ شرائط اور نکات پائے جاتے ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔سب سے بہترین امت صرف نعرہ بازی اور شعار دینے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق ایمان، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی انجام دہی سے ہے۔{کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ ۔۔۔َتأْمُرُوْنَ}۔
۲۔ڈرپوک اور خاموش امت میں کوئی خیر نہیں۔{خَیْرَاُمَّۃٍ ۔۔۔تَأْمُرُوْنَ ۔۔ ۔ تنھون}۔
۳۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس قدر اہم ہے کہ اس کی انجام دہی امتوں کے امتیاز کا معیار ہے۔{کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ}۔
۴ـامر بالمعروف اور نہی عن المنکراس صورت میں محقق ہوگا کہ سارے مسلمان ایک امت کی شکل میں ہوں ،یعنی حاکمیت رکھتے ہوں۔{کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ}۔
۵۔مسلمان تمام انسانوں کی اصلاح کے ذمہ دار ہیں ۔{اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}
۶۔اچھے کاموں کی سفارش کرنا فساد کا مقابلہ کئے بغیر بے نتیجہ ہے۔{تَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ}۔
۷۔امت کی ہر فرد کو امربالمعروف اور نہی عن المنکرکرناچاہیئے،ایک نو سال کی لڑکی کو بھی صدر مملکت کے لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکرکرنے کا حق حاصل ہے۔{تَأْمُرُوْنَ ۔۔۔تَنْھَوْنَ}۔
۸۔امر بالمعروف میں عمر ،علاقہ ،نسل،علم اور اقتصادی و اجتماعی مقام و منصب کا کوئی کردار نہیں ہے۔{خَیْرَاُمَّۃ ۔۔۔۔تَأْمُرُوْنَ۔۔تَنْھَوْنَ}۔
۹۔مسلمان کوچاہیئے کہ وہ قدرت کے ساتھ نہی از منکر کرے نہ کہ کمزوری اور التماس کے ساتھ ۔{ تَأْمُرُوْنَ}۔
۱۰۔امر بالمعروف نہی از منکر پر مقدم ہے۔{تَأْمُرُوْنَ۔۔۔۔۔۔تَنْھَوْنَ}۔
۱۱۔امر و نہی تبھی مؤثر ثابت ہوگا کہ جب ایمان کے ساتھ ہو۔{تَأْمُرُوْنَ۔۔تَنْھَوْنَ ۔۔۔ تومنون}۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14