Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190087
Published : 19/10/2017 12:44

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی عدلیہ میں حاضری

احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر پر فردِ جرم عائد کردی گئی تاہم انہوں نے صحت جرم کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔


ولایت پورٹل:رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی سربراہی میں سابق وزیر اعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ہوئی، سماعت کے آغاز میں مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے وکلاء کی جانب سے فرد جرم کی کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی جس میں کہا گیا کہ والیم 10 او رتین گواہان کے بیانات کی کاپیاں فراہم کرنے تک فرد جرم روکی جائے، قانون کے مطابق ایف آئی آر اور بیانات کی کاپیاں فراہم کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب نوازشریف کی جانب سے احتساب عدالت میں ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کی گئی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ میں تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی نظر ثانی پر اپیل دائر کر رکھی ہے،اس لئے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیر اعظم نوازشریف کی ٹرائل روکنے جب کہ مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی آج فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواستوں کو مسترد کردیا۔
واضح رہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر پر فرد جرم لندن فلیٹس، فلیگ شپ انویسٹمنٹ، العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز پر عائد کی گئی۔
احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد کئے جانے کے بعد نواز شریف کی جانب سے تینوں ریفرنسوں پر ایک ہی فرد جرم اور ایک ہی مرتبہ جرح کے لئے نئی درخواست دائر کی گئی جس میں تینوں مقدمات میں ایک ہی ٹرائل کرنے کی استدعا کی گئی ہے، عدالت نے شریف خاندان کی ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21