Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190092
Published : 19/10/2017 15:9

پردہ ترقی یا پس ماندگی؟

ہماری گفتگو کی روشنی میں یہ بات کسی حد تک ثابت ہوگئی کہ غرب زدہ لوگوں کی طرف سے یہ دعوٰی کہ :پردہ و حجاب پس ماندگی کی علامت ہے)۔ یہ ایک بیہودہ دعوٰی ہے چونکہ کثیر تعداد میں مغربی خواتین کا اسلام قبول کرنا خود اس امر پہ شاہد ہے کہ وہاں کا لباس اور وہاں کی ترقی کبھی ایک شریف خاتون کو مطمئن نہیں کرسکتی بلکہ ان کی نظر میں مسلمان ہونا اور اس کے بتائے اصول کے مطابق زندگی گذارنا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔


ولایت پورٹل:ترقی اور پسماندگی،آزادی،پہلی دنیا یا دوسری دنیا وغیرہ یہ ایسے عناوین ہیں جن کی بنیاد پر ممالک کی ریکنگ تیار کی جاتی ہے لیکن اس کا خود اپنا معیار کیسا ہے اور کہا سے آیا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔
جیسا کہ بعض مغرب زدہ عورت کے حجاب و پردہ کو پسماندگی کی علامت تصور کرتے ہیں،اب یہ دعوٰی کہاں تک حقیقت رکھتا ہے اس کی تحقیق کرنا ہر متدین انسان اور ہر باحجاب خاتون کے لئے ضروری ہے۔
پس ماندہ کون ہے؟
یقیناً اس کلمہ کا معنی ذھنی پس ماندگی ہے جسمانی نہیں،چونکہ انسان کا عقیدہ اسے حجاب یا دیگر احکام کا پابند بناتا ہے تو کیا وہ ذھن جو انسان کو سلامتی اور امن کی طرف دعوت دیتا ہے وہ پس ماندہ ہے؟ یا وہ لوگ کہ جو برہنگی اور عریانیت کو ترویج کرکے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں وہ پس ماندہ ہیں؟ صحیح بات تو یہ ہے کہ اگر انسان اپنے آپ کو اجتماعی برائیوں اور خطرات سے محفوظ کرلے تو وہ عقل کی نظر میں قابل احترام شخص ہے۔
آج ہر باشعور انسان اس امر کا اقرار کرتا نظر آتا ہے کہ جن ممالک میں امن و امان اور سلامتی موجود ہے ان میں زندگی گذارنا باعث راحت و آرام ہے اگرچہ عملی طور(تبلیغات و ایڈواٹائز کی بدولت) پر اکثر لوگ ان ممالک کا ہی سفر کرتے ہیں کہ جہاں نفسیاتی اور جنسی فساد اپنے عروج پر ہے۔
لیکن وہ افراد کہ جو حجاب کو عورت کی راہ ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ مانتے ہیں انھیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ کبھی بھی پردہ عورت کے اجتماعی امور میں شریک ہونے یا اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنا ہے، اور خود جمہوری اسلامی ایران اور اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک میں خواتین کے شعبہ طب میں فعال ہونے کے سبب یہ بت گمان ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے چونکہ ان ممالک کی خواتین نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پردہ صرف یہ ہی نہیں کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ پس افتادگی سے بھی نجات دیتا ہے۔
اور خود یوروپ کی تازہ مسلمان ہونے والی خواتین کی کثیر تعداد بھی اس کی بہترین دلیل ہیں کہ کسی کا لباس اس کے عقب ماندگی کی علامت نہیں ہوسکتا ورنہ ترقی یافتہ ممالک کی برہنہ  خواتین کبھی اسلام اور اسلامی لباس کا انتخاب نہیں کرتیں۔
چنانچہ RTL  اور France 3 نامی پوروپ کے نیوز چینلز نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا تھا کہ اگرچہ پوروپ میں اسلام فوبیا اپنے عروج پر پے لیکن پھر بھی ہر سال فرانس میں  ۷۰ ہزار،جرمنی میں ۲۰ ہزار،اسپین میں ۵۰ ہزار لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہیں اور اسی طرح اتریش،چک،ڈینمارک،ھولنڈ،پرتغال وغیرہ ایسے ممالک ہیں جن کے باشندوں میں اسلام کی طرف رجحان،غیر معمول انداز میں نظر آتا ہے۔( رهیافتگان )۔
نتیجہ:ہماری گفتگو کی روشنی میں یہ بات کسی حد تک ثابت ہوگئی کہ غرب زدہ لوگوں کی طرف سے یہ دعوٰی کہ :پردہ و حجاب پس ماندگی کی علامت ہے)۔ یہ ایک بیہودہ دعوٰی ہے چونکہ کثیر تعداد میں مغربی خواتین کا اسلام قبول کرنا خود اس امر پہ شاہد ہے کہ وہاں کا لباس اور وہاں کی ترقی کبھی ایک شریف خاتون کو مطمئن نہیں کرسکتی بلکہ ان کی نظر میں مسلمان ہونا اور اس کے بتائے اصول کے مطابق زندگی گذارنا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔
http://www.welayatnet.com/fa/news/105732
ترجمہ:سجاد ربانی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24