Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190096
Published : 19/10/2017 15:52

فکر قرآنی:

انسان کے ساتھ خدا کا عہد و پیمان

عالم ذرسے مراد وہی فطر ی اور تکوینی عہد و پیمان ہے کہ جس وقت آدم(ع) کی اولاد باپ کے نطفہ سے رحم مادر میں جاتی ہے وہ اس وقت ذرات سے زیادہ نہیں ہوتی تو اس وقت خداوند متعال فطرت توحیدی اور حق جوئی کو اس کے سرشت میں ڈال دیتا ہے اور یہ خدائی راز ایک درونی حس کی شکل میں سب کی فطرت میں خدا نے رکھا ہے۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! فکر قرآنی سیریز کی ایک اور کڑی کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں،اس کا عنوان ہے عالم ذر میں انسان کا اللہ کے ساتھ عہد الستُ،یعنی اللہ نے عالم ذر میں تمام انسانوں سے اپنی توحید اور نظام ہدایت کی پابندی اور روز قیامت کے حق ہونے کا عہد لیا تھا اس وقت سبھی لوگوں نے اس عہد کو وفا کرنے کی قسم کھائی تھی،آئیے ہم قرآن مجید کی بارگاہ سے اپنے اس سوال کا جواب طلب کرتے ہیں،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«وَ إِذْ  أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُهُورِہِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَأَشْهَدَہُمْ عَلی أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قالُوا بَلی شَهِدْنا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِیْنَ»۔( سورہ اعراف:۱۷۲)۔
ترجمہ:اور جب تمہارے پروردگار نے فرزندان آدم(ع) کی پشتوں سے ان کی ذرّیت کو لے کر انھیں خود ان کے اوپر گواہ بناکر سوال کیا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں ہوں تو سب نے کہا بیشک ہم اس کے گواہ ہیں،یہ عہد اس لئے لیا کہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ ہم اس عہد سے غافل تھے۔
ذریۃ ،یا ذر سے لیا گیا ہے کہ جس کے معنی غبار کے بہت چھوٹے ذرات کے ہیں یا چھوٹی چیونٹی کے معنی میں ہے لیکن یہاں پر اس سے مراد انسان کے نطفہ کے اجزاء یا کم سن و سال بچوں کے معنی میں ہے یا پھر کلمہ ذرو سے ہے کہ جس کے معنی ہیں الگ کرنا یا پھر (کلمہ ذَرَأَ) سے ہے کہ جس کے معنی ہیں خلق کرنا،لیکن اکثر اولاد کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔(۱)
بنی آدم سے کس طرح خدا نے عہد و پیمان لیا ہے اس آیت میں بیان نہیں ہوا ہے لیکن مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں جن میں سے مشہور دو قول ہیں:
الف۔روایات کے مطابق جناب آدم(ع)کی خلقت کے بعد ان کی تمام اولاد قیامت تک چھوٹے ذرات کی طرح، پراکندہ چیونٹیوں کی مانند،ان کی نسل سے وجود میں آئے ہیں ان سب کو خدا کے سوال کا مخاطب قرار دیا گیا ہے اور سب نے اس کی قدرت اور ربوبیت کا اعتراف کیاہے۔اس کہ بعد آدم(ع) کے صلب اور مٹی میں واپس لوٹ آئے اور طبیعی طور پر اس دنیا میں آئےہیں،لہذا اس عالم کو عالم«ذر» کہا جاتا ہے اور اس عہد و پیمان کو «عَہْدِ اَلَسْتُ» کہا جاتا ہے۔
امام جعفر صادق(ع)نے ارشاد فرمایا:جناب آدم(ع) کی ذریت میں سے بعض نے عالم ذر میں اپنی زبان سے اقرار کیا لیکن ان کا ایمان دل سے نہیں تھا،پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ہوا ہے کہ یہ وعدہ عرفہ کے دن انجام پایا ۔(۲)
ب:عالم ذرسے مراد وہی فطر ی اور تکوینی عہد و پیمان ہے کہ جس وقت آدم(ع) کی اولاد باپ کے نطفہ سے رحم مادر میں جاتی ہے وہ اس وقت ذرات سے زیادہ نہیں ہوتی تو اس وقت خداوند متعال فطرت توحیدی اور حق جوئی کو اس کے سرشت میں ڈال دیتا ہے اور یہ خدائی راز ایک درونی حس کی شکل میں سب کی فطرت میں خدا نے رکھا ہے،اسی طرح ان کی عقل و خرد میں خدا کا تصور نقش کر جاتا ہے اس لئے فطرت اور عقل بشری خدا کی ربوبیت پر گواہی دیتی ہے۔
بعض روایات میں امام صادق(ع) سے فطرت کے بارے میں پوچھا گیا تو امام(ع)نے فطرت کو وہی عالم ذر بیان فرمایا۔(۳)
بعض روایات میں فطرت، عالم ذر کا اثر ہے نہ کہ خود عالم ذر:«ثَبَتَتِ الْمَعْرِفَۃُ فِیْ قُلُوْبِھِمْ وَنَسُوْالْمَوْقَفَ»۔اس بناء پر انسانوں نے ایک خاص وقت اور موقع پر اس بات کا اقرار کیا مگر اس کو بھول گئے ہیں اور اس کا اثر اسی فطرت کا اقرار کرنا ہے جس کی طرف انسان کے دل کا رجحان اوراس کا میلان ہے،بہر حال اس آیت کے ذیل میں مفسرین ،متکلمین اور محدثین نے کافی گفتگو کی ہے اس لئے ہم مزید اس کے بارے میں گفتگو نہیں کریںگے بلکہ اس کو
اس کے اہل یعنی:«راسخون فی العلم» کے سپرد کرتے ہیں۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱تفسیر نمونہ۔
۲۔تفسیر درالمنثور۔
۳۔ تفسیر برہان و نورالثقلین، پیام قرآن، ج،ص:۱۱۷۔
۴۔اس بارے میں مزید اطلاع کے لئے پیام قرآن کہ جو آیۃ اللہ مکارم شیرازی کی ہے، منشور جاوید آیت اللہ سبحانی اور تفسیر طب کی طرف رجوع کریں۔

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20