Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190101
Published : 19/10/2017 17:2

عالمی دہشت گردی؛صہیونیت اور اسلام

تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی عداوت میں امریکہ اور یہودیت کے درمیان ہمیشہ سے غیرمعمولی اتحاد رہا ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر مسلمانوں کے قلب یعنی فلسطین میں اسرائیل کی تشکیل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ورنہ امریکہ، سابقہ سوویت یونین اور جرمنی و لندن میں یہودیوں کی بہت بڑی تعداد آباد تھی اور ان ملکوں میں سے کسی ایک علاقہ میں ملک کے طور پر اسرائیل کی تشکیل کی جاسکتی تھی ۔


ولایت پورٹل:کسی واقعہ کی تفتیش کا عام طریقہ یہ ہے کہ مقررہ قوانین کے مطابق حادثہ کے شکار افراد یا ملک سے یہ معلوم کیا جائے کہ اس کی کسی سے کوئی عداوت یادشمنی تو نہیں تھی؟امریکہ پر ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ہونے والے حملے کے حوالے سے اس سوال کے جواب میں امریکہ کے دشمنوں کی ایک لمبی فہرست دکھائی دینے لگتی ہے،ویتنام،جاپان، عراق،ایران، لبنان، شام، لیبیا، سوڈان اور فلسطین کی امریکہ سے گہری عداوت رہی ہے لیکن خود امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ ان حوادث کا اصلی ذمہ دار منحرف سعودی شہری اسامہ بن لادن ہے اور وہ افغانستان میں چھپا ہواہے!لہٰذا افغانستان پر خوفناک فوجی حملہ کرکے بن لادن کا کام تمام کردیا جائے،اب تک اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے اور جب تک کسی ملزم پر عائد کئے گئے الزام کی تصدیق نہ ہوجائے یعنی ملزم مجرم نہ بن جائے دنیا کا کوئی قانون اس کو کوئی سزا نہیں دے سکتا ہے۔ پھر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر افغانستان پر وحشیانہ امریکی بمباری کیوں کی گئی؟
دوسرا اہم سوال ہے کہ بن لادن کون ہے؟اس کو اتنی بڑی طاقت کہاں سے مل گئی کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کے مدعی امریکہ سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے؟ظاہر ہے کہ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی اس سوال کے جواب میں امریکہ کا نام لے گا لیکن دوسرا سوال ہے کہ امریکہ یہ سب کچھ کیوں کررہا تھا؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے گزشتہ دو دہائیوں کے درمیان اسلامی دنیا میں رونما ہونے والے حالات وحوادث کا اجمالی تجزیہ لازمی معلوم ہوتا ہے۔
فروری ۱۹۷۹ء میں سرزمین ایران میں امام خمینی(رح) کی قیادت میں کامیابی کی منزلیں طے کرنے والے اسلامی انقلاب نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔چونکہ یہ انقلاب ایک عظیم مقصد کے لئے رونما ہوا تھا اس لئے اس کو بڑی سے بڑی قربانیاں بھی پیش کرنی پڑیں۔ اس کی اکثر و بیشتر نعمتوں اور برکتوں کا تعلق تو ایران سے تھا لیکن عالمی سطح پر اس نے تین ایسے اہم کارنامے انجام دئیے ہیں جو یقیناً ناقابل فراموش ہیں۔پہلا کارنامہ عالمی سطح پر اسلام کا احیاء ہے۔ دوسرا کارنامہ ظالم صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطین کی بھرپور حمایت اور تیسرا کارنامہ وحدت اسلامی پر مشتمل قرآنی اور الٰہی پیغام کو عملی جامہ پہنانا ہے اور انقلاب اسلامی ایران کے انہیں تین اہم بین الاقوامی پہلوئوں کی وجہ سے ہی امریکی، صہیونی طاقتوں نے یہ پروپگنڈہ شروع کردیا تھا کہ ایران اپنے انقلاب کو ساری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہے، عالم اسلام کو اس انقلاب سے دور رکھنے کے لئے یہ کہا گیا کہ یہ شیعہ انقلاب ہے تاکہ غیر شیعہ برادران اسلام کہ جن کی اکثریت ہے اس انقلاب سے بیزار ہوجائیں۔ اس کے بعد ایران پر خوفناک وتباہ کن جنگ کا بوجھ لاددیا گیا تاکہ وہ فلسطینی مظلوموں کی حمایت نہ کرسکے،ابھی زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے کہ پاکستانی مسلمانوں نے ۱۹۸۰ ء کی دہائی کے دوران آیت اللہ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی کا ایسا شاندار استقبال کیا تھا کہ ساری دنیا حیران رہ گئی تھی،شاید یہی وجہ تھی کہ امریکی اور یہودی طاقتوں نے پاکستان کو ہی سنی شیعہ اختلاف کا ایسا مرکز بنادیا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ایک جماعت کے اسلحہ بردار اور نام نہاد مجاہدوں نے مسجد میں دوسری جماعت کے روزہ دار مسلمانوں کو نماز کی حالت میں گولیوں سے بھون ڈالا اور اپنی خام خیالی میں خود ساختہ جنت کے حقدار بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی ایٹمی بم کو اسلامی بم کے نام سے پکارا گیا تاکہ ہندوستانی غیر مسلم عوام کو یہ باور کرا سکیں کہ ان کا دشمن پاکستان نہیں بلکہ اسلام ہے اور اس طرح صدیوں سے باہمی احترام و تعادن کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی جان کے پیچھے پڑجائیں اور صرف حکومت ہند ہی نہیں بلکہ غیر مسلم ہندوستانی باشندے ہر مسلمان میں طالبان اور بن لادن کی جھلک محسوس کرنے لگیں۔ حکومت طالبان کے ذریعہ افغانستان میں محفوظ گوتم بدھ کے ہزاروں سال پرانے مجسموں کو چکنا چور کروانے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ دنیا کے مختلف ملکوں اور علاقوں میں پھیلے ہوئے بودھ مذہب کی پیروی کرنے والے لوگ اسلام سے نفرت کرنے لگیں اور برصغیر ہند میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشیدگیاں پیدا ہوجائیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی عداوت میں امریکہ اور یہودیت کے درمیان ہمیشہ سے غیرمعمولی اتحاد رہا ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر مسلمانوں کے قلب یعنی فلسطین میں اسرائیل کی تشکیل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ورنہ امریکہ، سابقہ سوویت یونین اور جرمنی و لندن میں یہودیوں کی بہت بڑی تعداد آباد تھی اور ان ملکوں میں سے کسی ایک علاقہ میں ملک کے طور پر اسرائیل کی تشکیل کی جاسکتی تھی لیکن یہودیت اور عیسائیت کی ملی بھگت کے نتیجے میں فلسطین میں اسرائیل نامی ملک کی تشکیل کا کام انجام دیا گیا جس کا بنیادی مقصد اسلام اور مسلمانوں کی نابودی تھا اور اسرائیل کے حکمراں باربار اس مقصد کی وضاحت کرتے رہے ہیں،کبھی دریائے نیل اور دریائے فرات کے درمیان واقع اسلامی علاقوں کو اسرائیلی سرزمین بتاکر،تو کبھی تشدد اور دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ کر اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
جی ہاں۱۱ستمبر کو امریکہ میں رونما ہونے والے انسانیت سوز حوادث سے اسلام اور مسلمانوں کو وابستہ کرنے کا بنیادی مقصد اسلام اور مسلمانوں کی باہمی سرمایہ کاری سے اسلام محمدی(ص) کے مقابلے میں امریکی اسلام کی ایجاد عمل میں آئے۔جس سرزمین میں حقیقی اسلام کا ظہور ہوا تھا وہاں سے بن لادن کو منتخب کیا گیا،اس کے علاوہ مسلمان نوجوانوں کی مختلف جماعتوں کو اسلام دشمن خفیہ تنظیموں نے مختلف کیمپوں میں فوجی تربیت دی تاکہ انقلاب اسلامی ایران کے سایہ میں عالمی سطح پر جو اسلامی بیداری پیدا ہوگئی ہے اور دنیا کی دیگر اقوام کے درمیان اسلام کو جو مقبولیت حاصل ہوگئی ہے وہ پوری طرح نابود ہوجائے،اب یہ اور بات ہے کہ جس بوتل میں امریکی اور صہیونی ماہرین بن لادن اور جماعت طالبان کی پرورش کررہے تھے وہ ٹوٹ گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور نیویارک میں رونما ہونے والے ان واقعات میں گزشتہ دو دہائی کے دوران جنگ و نبرد آزمائی اور قتل وغار تگری کے خوفناک شعلوں میں جھلسے ہوئے ان افغانی مسلمانوں کا کیا قصور ہے کہ جن پر آج بھی امریکہ بمباری کررہا ہے؟اور اس خوفناک منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے افغانستان کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے؟شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہو کہ ایران کے پڑوسی ملک کی حیثیت سے افغانستان اسلامی انقلاب سے غیر معمولی طور پر متاثر رہا ہے،اسی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی اس سازش میں لپیٹا جارہا ہے اور حکومت ہند کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ خدا نخواستہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے اور سارے ہندوستانی مسلمان دہشت گرد ہیں،جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے،صہیونی پروپیگنڈہ کے بموجب آج جن اسلامی مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ کہا جارہا ہے، انھیں درسگاہوں کے پروردہ مسلمان آزادی ہند تحریک کے دوران جام شہادت نوش کرکے اپنی وطن دوستی کا ثبوت پہلے فراہم کرچکے ہیں۔
ان اسلام دشمن طاقتوں اور جماعتوں کو اس حقیقت کا اندازہ نہیں ہے کہ اسلام ایک انسانیت دوست الٰہی آفاقی پیغام کا نام ہے جس کو ملکوں اور جغرافیائی سرحدوں کے دائرہ میں ہر گز محدود نہیں کیا جاسکتا ہے،آخر وہ اسلام دہشت گردی کی حمایت وسرپرستی کیسے کر سکتا ہے جس کی مقدس کتاب ایک بے گناہ شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتی ہے اور جس کا خدا فقط مسلمانوں کا رب نہیں، بلکہ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ ہے۔
جی ہاں!دہشت گردی کے ان واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ قطعی مناسب بات نہیں ہے کہ امریکہ مثالی عالمی دہشت گردی کا سرغنہ بن جائے اور بے سہارا افغانی مسلمانوں پر وحشیانہ بمباری کرنے لگے۔ یہ ایک وحشیانہ عمل ہے لہٰذا بمباری کے بجائے امریکہ کو اپنی خارجہ سیاست اور فوجی سرگرمیوں کا محاسبہ کرنا چاہیۓ اور یہ دیکھنا چاہیۓ کہ جو اسلحہ آج طالبانی فوجیوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتا ہے وہ ان لوگوں کو امریکہ نے ہی فراہم کیا ہے اور جب تک طالبان کے روپ میں یہ افغانی مسلمان ان اسلحوں کے ذریعہ اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہاتے رہے، امریکہ کو دہشت گردی نہیں دکھائی پڑی اور کچھ ہی دنوں بعد پلک جھپکتے ہی یہ مسلمان دہشت گرد بن گئے،امریکہ کل یہ غلطی ایران عراق جنگ کے دوران بھی کرچکا ہے،سعودی اور کویتی پٹرو ڈالر کے بدلے میں امریکہ نے عراق میں خوفناک اسلحوں کا انبار لگا دیا تھا اور جب دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوگیا تو امریکہ نے ان اسلحوں کی نابودی کے بہانے عراق کے مختلف شہروں پر ایسی بمباری کی کہ پوری دنیائے بشریت لرزہ براندام ہوگئی اور اس بمباری کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور پیدا ہونے والے عراقی بچے امریکی حکام سے باربار اپنی زبان بے زبانی سے یہ سوال کررہے ہیں کہ ہمارا قصورکیا ہے؟دلچسپ بات یہ ہے کہ عراق پر بمباری کا سارا خرچ کویت اور سعودی عرب سے وصول کیا گیا،ان حقائق کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسلام امن و سلامتی اور صلح آمیز ہمزیستی کا مذہب ہے۔ اس کو دہشت گردی سے جوڑنا انتہائی ناعاقبت اندیشانہ قدم ہے، کیونکہ عیسائیوں کے بعد دنیا میں سب سے بڑی مسلمانوں کی آبادی ہے اور یہ تعداد جغرافیائی اعتبار سے کسی ایک گوشہ میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر جنگ کی آگ کو بھڑکانا مناسب نہیں ہے۔ امریکہ کو اسلام دشمنی کی عینک ہٹا کر اصل مجرم کی تلاش کرنی چاہیۓ اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیۓ، کیونکہ اتنا بڑا مجرمانہ عمل نامور ماہرین کی تکنیکی مدد کے بغیر انجام دینا ناممکن ہے اور اس کو کوئی آستین کا سانپ ہی یہ کام انجام دے سکتا ہے۔
افغانستان ہو یا عراق یا دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک بالکل اسی طرح اسلام ہو یا دیگر ادیان ومذاہب الٰہی یا انسانی اصول وضوابط پر مبنی حکومتی نظام ،ہر جگہ یہ بنیادی قانون موجود ہے کہ ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہا جائے۔ جس نے جرم کیا ہو اس کو اپنے دفاع کا حق دیا جائے اور جب محکم اسناد ومدارک کی روشنی میں جرم پوری طرح ثابت ہوجائے تو جرم کے تناسب سے مجرم کو سزادی جائے،لیکن علمی ترقی کے موجودہ دور میں صورتحال بالکل مختلف نظر آرہی ہے،کویت پر حملہ کرکے جرم کا ارتکاب صدام نے کیا تھا اور سزا عراقی عوام بھگت رہے ہیں،جی نہیں، تنہا عراقی عوام ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک کی فوجوں کی موجودگی سے علاقے میں واقع تمام ممالک کے لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ وہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں گھبراہٹ محسوس کررہے ہیں اور دوسری طرف بن لادن کی جستجو کے بہانے افغانی مسلمانوں کی ریش تراشی اور وہاں کی مسلم خواتین کے ہاتھوں برقع سوزی کی نمائش کے ذریعہ اسلامی قدروں کو پامال کیا جارہا ہے،شاید اسلام دشمن طاقتوں کو اس حقیقت کا بخوبی اندازہ نہیں ہے کہ افغانستان ہویا عراق یہ دونوں اسلامی ممالک ہیں اور ان ملکوں کے اسلامی کردار کو مجروح توکیا جاسکتا ہے لیکن نابود نہیں کیا جاسکتا ہے اور انشاء للہ تھوڑے ہی دنوں میں اسلامی تعلیمات کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ اسلام کا دہشت گردی سے کبھی کوئی سروکار نہیں رہا ہے،حقیقت کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ مسلمان کےذریعے اسلام کی شناخت کی کوشش نہ کرنی چاہیے بلکہ اسلامی اصول وضوابط کے ذریعہ مسلمانوں کی شناخت کرنی چاہیے تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہوسکے، سردست اجباری آوارہ وطنی کی وجہ سے افغانی پناہ گزین دنیا کے ان شہروں اور علاقوں میں بھی پہنچ گئے ہیں جہاں پہلے کوئی مسلم خانوادہ آباد نہیں تھا،یہ افغانی عوام جن میں سن رسیدہ بزرگ بھی شامل ہیں اپنے عبادی امور مثلاً نماز، روزہ اور حسن اخلاق کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ واشاعت کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں کیونکہ خداوند عالم نے قیامت تک اسلام کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے اور خدا کی لایزال طاقت کے آگے کسی بڑی طاقت کا زور چلنے والا نہیں ہے۔

 

پروفیسرسید اختر مہدی رضوی




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17