Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190104
Published : 19/10/2017 17:39

زیارت قبر رسول(ص) کے متعلق ابن تیمیہ کے دعوائے اجماع کی حقیقت

ابن تیمیہ کی بہت سی چیزوں کا مدرک اور سند امام مالک اور اس کے پیروکار حضرات کی تحریریں ہیں، لیکن اس کے باجود اکثر وہ لوگ جو ابن تیمیہ کی مخالفت کے لئے اٹھے، وہی علماء ہیں جن کا تعلق مالکی مذہب سے تھا اور جنھوں نے دمشق اور قاہرہ میں ابن تیمیہ سے بحث وگفتگو اور مناظرے کئے اور ابن تیمیہ کو قیدخانے میں بھجوایا۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم مسلسل گذشتہ کئی کالمس میں زیارت قبور اور خصوصاً پیغمبر اکرم(ص) کے روضہ اقدس کی زیارت کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے خرافاتی عقیدہ کی رد کرچکے ہیں لیکن کیا کیا جائے ہٹ دھرمی کی بھی حد ہوتی ہے یہ شخص ہر بات میں اجماع کا دعویٰ کرنے لگتا ہے آئیے ہم اس کے دعویٰ اجماع کی حقیقت سے بھی آشنا ہوجائیں تاکہ کسی منحرف فکر والے کو ناطقہ کا مجال ہی نہ ملے،چنانچہ ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ اس حدیث شریف کے پیش نظر:«لاٰ تُشدُّ الرِّحَالُ اِلاّٰ اِلٰی ثَلاٰثَۃِ مَسٰاجِدَ، اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَمَسْجِدیٖ ھٰذَا وَالْمَسْجِدُ الاَقْصیٰ»۔  تین مسجدوں کی زیارت کے لئے سفرکرنا جائز ہے:
۱۔مسجد الحرام (خانہ کعبہ)
۲۔میری یہ مسجد یعنی مسجد النبی(ص)
۳۔ مسجد اقصیٰ (بیت المقدس )لہذا دوسری مساجد یا انبیاء یا اولیاء اللہ اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا بدعت اور ناجائز ہے۔
اسی طرح ابن تیمیہ کاکہنا ہے کہ قبور کی زیارت کی غرض سے سفر کرنا اور عبادت کے قصد سے زیارت کرنا، چونکہ عبادت یا واجب ہوتی ہے یا مستحب اور سبھی علماء کا اتفاق ہے کہ قبور کی زیارت کے لئے سفر کرنا نہ واجب ہے اور نہ ہی مستحب، تو زیارت کے لئے سفر کرنا بدعت ہوگا۔
اس کے بعد کہتا ہے:خلفائے اربعہ کے زمانہ تک بلکہ جب تک ایک بھی صحابی رسول زندہ رہا کوئی بھی آنحضرت(ص) اور دوسرے انبیاء ، اولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لئے نہیں جاتا تھا، آنحضرت کے صحابی بیت المقدس کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے لیکن وہیں پر موجود جناب ابراہیم خلیل اللہ کی قبر کی زیارت نہیں کرتے تھے اور کوئی بھی اپنی زندگی میں آنحضرت کی قبر کی زیارت کے لئے نہیں جاتا تھا ، ابن تیمیہ اس بحث کے ذریعہ شیعوں پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ رافضی لوگوں نے صالحین کی قبور کو مسجد بنالیا ہے ، وہاں نمازیں پڑھا کرتے ہیں، قبروں کے لئے نذر کرتے ہیں، بعنوان حج ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں خانۂ مخلوق کے سفر کو بیت الحرام (خانہ کعبہ) کے حج سے افضل سمجھتے ہیں ، اس (زیارت)کو حج اکبر کہتے ہیں اور ان کے علماء نے اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں بھی لکھیں ہیں،ان میں سے ایک شیخ مفید (چوتھی او رپانچویں صدی کے مشہور ومعروف عالم) ہیں جنھوں نے:«مناسک حج المشاہد»نامی  کتاب لکھی ہے۔(۱) چنانچہ ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ کہتا ہے:اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ انبیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کرنا،خداوند عالم کی رضا اور خوشنودی کا سبب ہے، تو اس کا یہ عقیدہ اجماع کے بر خلاف ہے۔(۲)۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام میں قبور کی زیارت  کے مسئلہ کا کوئی وجود  ہی نہیں ہے۔(۳)۔ یہاں تک کہ اس مسئلہ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیارتوں کے لئے سفر کرنے(ابن تیمیہ کے بقول حج قبور) کا گناہ کسی کو ناحق قتل کرنے سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ کبھی کبھی یہ عمل اور یہ زیارت باعث شرک اور ملت اسلامی سے خارج ہونے کا سبب بنتی ہے۔(۴)۔اور اگر کوئی شخص یہ نذر کرے کہ مثلاً میں خلیل الرحمن یا آنحضرت(ص) کی قبر کی یا کوہ طور یا غارِ حراء یا اس طرح کی دوسری جگہوں کی زیارت کے لئے جاؤں گا، تو ایسی نذر پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔(۵)
ابن تیمیہ کے دعوٰی اجماع کی حقیقت
خود ابن تیمیہ کے زمانہ سے اور اس کے بعد مختلف فرقوں کے علماء نے ابن تیمیہ کے عقائد بالخصوص زیارت قبور کے سلسلہ میں سفر کی حرمت کے بارے میں ابن تیمیہ کے نظریات کے جوابات اور اس کی تردید کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ کیا ہے مثلاً مالکی فرقہ کے قاضی اِخنائی نے (جوکہ ابن تیمیہ کے معاصرین میں سے تھے) ابن تیمیہ کے عقائد کی تردید میں کتاب لکھی ہے جس کا نام :«المقالة المرضیّة»ہے جوکہ حرمت سفر زیارت قبور کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے عقائد کی تردید کے سلسلے میں ہے یہ کتاب جس وقت ابن تیمیہ کے ہاتھوں میں پہونچی تو اس نے اس کاجواب لکھا جس کا نام:«کتاب الردّ علی الاخنائی» رکھا جو اس وقت بھی موجود ہے۔
قاضی اخنائی نے جیسا کہ ابن تیمیہ نے ان سے نقل کیا کہ ابن تیمیہ کا نظریہ مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے اور انبیاء واولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا مستحب سفر ہے اس لحاظ سے یہ سفر مسجد پیغمبر(ص)کی طرح ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ مذکورہ تین مسجدوں کے علاوہ سفر کرنا صحیح نہیں ہے تو اس کی یہ بات اجماع کے خلاف ہے اور گویا اس شخص نے کھلے عام خدا اور پیغمبروں سے دشمنی کے لئے قیام کیا ہے۔
ایک دوسری جگہ پر اخنائی کہتے ہیں کہ بعض علمائے کرام نے پیغمبر اکرم(ص)کی قبر کی زیارت کو واجب قرار دیا ہے،مختصر یہ کہ آنحضرت(ص)کی زیارت کے مستحب ہونے میں کسی کو بھی شک وشبہ نہیں ہے،چنانچہ مسند ابی شَیبہ میں یہ حدیث شریف وارد ہوئی ہے:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمْ:«مَنْ صَلّٰی عَلَیّٰ عِنْدَ قَبْرِیْ سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلّٰی نَاِئیاً سَمِعْتُه»۔(۶)
حضرت رسول اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری قبر کے نزدیک مجھ پر صلوات بھیجے تو میں اس کو سنتا ہوں اور اگر کوئی دور سے مجھ پر صلوات بھیجے تو میں اس کی صلوات بھی سنتا ہوں۔
قارئین کرام ! یہاں پر دو باتوں کی طرف توجہ ضروری ہے: پہلی بات یہ ہے کہ یہ دونوں (ابن تیمیہ اور اخنائی) ایک دوسرے کے عقیدے کو مسلمین کے اجماع کے بر خلاف جانتے ہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی بہت سی چیزوں کا مدرک اور سند امام مالک اور اس کے پیروکار حضرات کی تحریریں ہیں، لیکن اس کے باجود اکثر وہ لوگ جو ابن تیمیہ کی مخالفت کے لئے اٹھے، وہی علماء ہیں جن کا تعلق مالکی مذہب سے تھا اور جنھوں نے دمشق اور قاہرہ میں ابن تیمیہ سے بحث وگفتگو اور مناظرے کئے اور ابن تیمیہ کو قیدخانے میں بھجوایا۔
آئیے ہم اپنی بحث کو مرحوم علامہ عبد الحسین امینی(رح) کے کلام پر ختم کرتے ہیں،علامہ زیارت قبور کے بارے میں بحث کرتے ہوئے اہل سنت کی کتابوں سے بہت سی احادیث کو نقل کرتے ہیں اور انھوں نے ایسی باون( ۵۲) قبروں کا شمار کرایا ہے جو گذشتہ زمانہ سے آج تک اہل سنت کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہیں، اور اس بات پر خود ان کی کتابوں سے حوالے بھی بیان کئے ہیں۔(۷)
شاید ہماری اس بحث کو پڑھ کر قارئین کو ابن تیمیہ کے جھوٹے اور فریبی دعوٰی اجماع کی حقیقت کا علم ہوگیا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الجواب الباہر،ابن تیمیہ،ص ۱۴ ۔۱۹ ۔
۲۔الرد علی الاخنائی،ابن تیمیہ،ص۱۳۔
۳۔سابق حوالہ،ص۱۹۔
۴۔سابق حوالہ،ص۱۵۵ ۔
۵۔مجموعۃ الرسائل الکبریٰ،ابن تیمیہ،ج۲،ص ۵۹ ۔
۶۔المقالۃ المرضیۃ،الاخنائی،ص۱۳۱ ۔
۷۔الغدیر،علامہ امینی،ج۵،ص ۱۸۴ ۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22