Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190118
Published : 21/10/2017 16:7

معصومین(ع) خود اپنے کلام کی روشنی میں

امام زمانہ(ع) کی تاکید اور علماء اعلام ،بزرگان دین و مذہب اور اولیاء الٰہی کے سفارشات کے بعد قارئین سے یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ معرفت امامت کے اس عظیم سرچشمہ سے ضرور استفادہ فرمائیں،خدا سے بس یہی دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اس سلسلہ میں اپنی خصوصی توفیقات سے نوازے،ہمیں اس راہ میں آئمہ ہدیٰ علیہم السلام کی ملکوتی ارواح طیبہ سے بھی توسل اور استمداد کرنا چاہئیے اس لئے کہ معصومین(ع) کی صحیح معرفت کے بغیر کسی بھی شخص کی دینداری یا اعمال درگاہ الٰہی میں قابل قبول نہیں ہیں۔


ولایت پورٹل:خداوندعالم کے بعد معصومین(ع) کے علاوہ کوئی اور ان کے مقام و مرتبہ ،عنداللہ ان کی منزلت اور خلق خدا پر ان کی عظمت کو کما حقہ بیان نہیں کرسکتا۔
لہذا معصومین(ع) کی معرفت کے لئے ہم خدا کے بعد معصومین(ع) کے ہی محتاج ہیں،وحی الٰہی اور ان حضرات کے کلام کے بغیر ان ذوات مقدسہ کی صحیح،دقیق اور معتبر معرفت میسر نہیں ہو سکتی،ان دو سرچشموں کے بغیر حاصل ہونے والی معرفت محض سرسری معرفت ہوگی۔
امامت کی معرفت کے لئے سب سے بہتر اور جامع متن وہ انتہائی معتبر زیارت ہے جو امام علی نقی(ع) نے ہمیں عطا کی ہے جس کا نام«زیارت جامعۂ کبیرہ» ہے،یعنی کامل ترین اور جامع ترین زیارت جس کے ذریعہ تمام معصومین(ع) کی زیارت کی جاسکتی ہے،تمام بزرگ علماء دین اس زیارت کے پابند رہے ہیں۔چنانچہ مفاتیح الجنان کے مولّف شیخ عباس قمی(رح) نے اس زیارت سے متعلق امام زمانہ(عج) کی توجہ اور اپنے چاہنے والوں کوشدید تاکیدکرتے ہوئے اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے جسے زیارت جامعۂ کبیرہ کے بعد «سید رشتی کے واقعہ» کے نام سے مفاتیح الجنان میں ملاحظہ کیاجاسکتاہے۔
میرا خیال ہے کہ امام زمانہ(ع) کی تاکید اور علماء اعلام ،بزرگان دین و مذہب اور اولیاء الٰہی کے سفارشات کے بعد قارئین سے یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ معرفت امامت کے اس عظیم سرچشمہ سے ضرور استفادہ فرمائیں،خدا سے بس یہی دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اس سلسلہ میں اپنی خصوصی توفیقات سے نوازے،ہمیں اس راہ میں آئمہ ہدیٰ علیہم السلام کی ملکوتی ارواح طیبہ سے بھی توسل اور استمداد کرنا چاہئیے اس لئے کہ معصومین(ع) کی صحیح معرفت کے بغیر کسی بھی شخص کی دینداری یا اعمال درگاہ الٰہی میں قابل قبول نہیں ہیں،لہذا آئیے ہم سب مل جل کر اس عظیم اور پرُفیض زیارت کے آخری فقرہ کو بارگاہ خداوندی میں بار بار دہرائیں:«اسئلک ان تدخلنی فی جملة العارفین بھم وبحقّہم وفی زمرۃ المرحومین بشفاعتھم انّک ارحم الرّاحمین و صلّی اللّه علیٰ محمّد وآله الطّاہرین»۔(مفاتیح الجنان،زیارت جامعۂ کبیرہ)۔
ان کے حق کے واسطہ جو تو نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ مجھے ان کے حق کے عارفوں میں شامل کرلے اور اس زمرہ میں داخل کر دے جو ان کی شفاعت کی رحمت حاصل کر سکے کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے اور اللہ حضرت محمد(ص) اور ان کی آل طاہرین پر صلوٰۃ و سلام نازل کرے۔
مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس مقام پر آئمہ معصومین(ع) سے متعلق زیارت میں موجود بعض دیگر فقرات کا بھی تذکرہ کردیا جائے تاکہ ہماری بحث کی تکمیل میں بھی مددگار ہو اور زیارت جامعہ کی معرفت میں بھی اضافہ ہوجائے۔     
سلام ہو آپ پر اے اہلبیت نبوت(ص) اور مرکز رسالت اور منزل رفت وآمد ملائکہ اور مرکز نزول وحی ومعدن رحمت وخزانہ دار علم ومنتہائے حلم واصول کرم ،وقائدین امّت و اولیاء نعمت اور نیک کردراروں کی اصل، پسندیدہ لوگوں کے سہارے ،آپ کا منکر ناکام ہے اور آپ سے الگ ہونے والا گمراہ ہے آپ سے متمسک کامیاب ہے اور آپ کی پناہ میں آنے والابیخوف ہے،آپ کی تصدیق کرنے والا سالم ہے اور اپ سے وابستہ ہونے والا ہدایت یافتہ ہے جو آپ کا اتباع کرے جنت اس کی جگہ ہے اور جو آپ کی مخالفت کرے جہنم اس کا ٹھکانہ ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23