Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190121
Published : 21/10/2017 16:34

فکر قرآنی:

قرآن میں تدبر کی ضرورت

الغرض اپنے اپنے ظرف اور حالات کے مطابق لوگ قرآن کریم کے ساتھ عقیدت،محبت اور وابستگی کا اظہار کرتے ہیں،لیکن قرآن کریم کا نزول صرف ان امور کے لئے نہیں ہوا بلکہ خدا کی اس عظیم کتاب کے اہم حقوق ہیں جو ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں،ان حقوق میں قرآن کریم پر ایمان لانا، اس کی درست تلاوت کرنا ، اللہ کی اس عظیم کتاب کے احکام پر عمل پیرا ہونا قرآن کریم کی تبلیغ اور اس کے نفاذ کے لئے کوشش کرنا وغیرہ شامل ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! فکر قرآنی سیریز کی ایک مزید کڑی آپ کی خدمت میں حاضر ہے جس کا عنوان ہے قرآن میں تدبر کی ضرورت،چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:{أَفَلا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ کانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللَّہِ لَوَجَدُوا فیہِ اخْتِلافاً کَثیراً}۔(۱)
ترجمہ:کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں کہ اگر وہ غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔
پیغمبر اکرم(ص)پر جوتہمتیں لگائی جاتی تھیں ان میں ایک یہ تھی کہ قرآن کریم کو کسی دوسرے آدمی نے پیغمبر کو سکھایاہے۔«یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ»۔(۲)
قرآن مجید خالق ہستی کی نازل کردہ آخری الہامی کتاب ہے، ہر مسلمان کا اس الہامی اور آسمانی صحیفہ پر غیر متزلزل ایمان ہے،قرآن کریم کے ساتھ عقیدت اور وابستگی ہر مسلمان کا ایک دینی فریضہ ہے،یہی وجہ ہے کہ اس مقدس کتاب کے ساتھ عقیدت کے مختلف مظاہر معاشرے میں دیکھنے کو ملتے ہیں،کہیں قرآن کریم کو گھر اور کاروبار کی جگہ خیر و برکت کے لئے رکھا جاتاہے تو کہیں ختم قرآن کے ذریعے اس سے فیض حاصل کیاجاتاہے،مختلف معاشرتی مسائل میں اس سے کسبِ فیض کے مختلف طریقے رائج ہیں۔
قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی جاتی ہے، دلہن کو قرآن کے سائے میں رخصت کیا جاتاہے،الغرض اپنے اپنے ظرف اور حالات کے مطابق لوگ قرآن کریم کے ساتھ عقیدت،محبت اور وابستگی کا اظہار کرتے ہیں،لیکن قرآن کریم کا نزول صرف ان امور کے لئے نہیں ہوا بلکہ خدا کی اس عظیم کتاب کے اہم حقوق ہیں جو ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں،ان حقوق میں قرآن کریم پر ایمان لانا، اس کی درست تلاوت کرنا ، اللہ کی اس عظیم کتاب کے احکام پر عمل پیرا ہونا  قرآن کریم کی تبلیغ اور اس کے نفاذ کے لئے کوشش کرنا وغیرہ شامل ہے،یہاں قرآن مجید کے صرف ایک حق«تدبر» غور و فکرکے حوالے سے چند باتیں پیش کررہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ آیت«أَفَلا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ» ان کے جواب میں نازل ہوئی ہے،عام طور پر انسان کی باتیں اور اس کے مکتوبات زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بدل جاتے ہیں اور ان میں تکامل یا تضاد بھی ہو سکتا ہے،مگر یہ کہ قرآن ۲۳ سال کے نزول کے دوران مختلف شرائط میں جنگ و صلح ،غربت و شہرت،قوت و ضعف ،اس زمانے کے نشیب و فراز میں اور وہ بھی اس آدمی سے کہ جس نے کسی انسان سے علم نہیں سیکھا  بغیر کسی اختلاف اور تناقض کے ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے نہ کہ کسی انسان کا۔
قرآن میں غور و فکر کا حکم سب کے لئے اور ہر زمانے کی ہر فرد کے لئے ہے اور اس کا راز یہ ہے کہ ہر کوئی دانشمند کسی ایک خاص نکتہ تک پہنچے گا۔
حضرت علی علیہ السلام قرآنی مفاہیم کے بیکراں ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں:«بَحْراً لَایُدْرَکُ قَعْرُہٗ»۔(۳)
قرآن ایک سمندر کی مانند ہے جس کی گہرائی تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
آیت میں تھوڑا غور و فکر کرنے سے کچھ خوبصورت اور اہم نکات کو سمجھا جا سکتا ہے منجملہ:
۱۔قرآن کریم میں تدبر اور غورو فکر نہ کرنے کے بارے میں خدا نے توبیخ اور سرزنش کی ہے۔{ اَفَلَایَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ}۔
۲۔قرآن میں تدبر نفاق کے لئے ایک شفا بخش دواہے۔{وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ۔۔۔ اَفَلَایَتَدَبَّرُوْنَ۔۔۔۔۔}۔
۳ـ قرآن اور اسلام کی طرف مائل ہونے کا راستہ فکر و تدبر ہے نہ کہ تقلید۔{ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ}۔
۴۔قرآن نے سب کو تدبر کی دعوت دی ہے اور انسان کی فہم قرآن کے مفاہیم تک پہنچ سکتی ہے۔{ اَفَلَایَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ}۔
۵۔قرآن میں تضاد اور اختلاف کی فکر ،سطحی فکر اور عدم تدبر کا نتیجہ ہے۔{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ}۔

۶۔ قرآن، رسالت پیغمبر(ص) کی حقانیت کی دلیل ہے۔{لَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ}۔
۷۔قرآن میں ہم آہنگی اور اختلاف کا نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کا سرچشمہ ایسا وجود ہے جو تغییر نا پذیر ہے۔{ لَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ } ۔
۸۔جو کچھ بھی خدا کی طرف سے ہے وہ ثابت ہے اور حقیقت پر مبنی ہے اور اس میں کسی طرح کا اختلاف اور تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔{لَوْکَاْنَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدُوْا۔۔۔}۔
۹۔غیر الٰہی قوانین میں تضاد اور اختلاف دکھائی دیتا ہے۔{ لَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدُوْا۔۔۔۔۔} ۔
۱۰۔ اختلاف ،تبدیلی اور تناقض انسانی نظریات کا لازمہ ہے۔{لَوَجَدُوْا فِیْہِ اِخْتِلَافاً}۔
۱۱۔کسی مکتب کو باطل قرار دینے کے لئے سب سے بہترین راستہ اس کے تناقض کو بیان کرنا ہے۔{لَوَجَدُوْا فِیْہِ اِخْتِلَافًاکَثِیْراً}۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ نساء:۸۲۔    
۲۔سورہ نحل:۱۰۳۔
۳۔نہج البلاغہ خطبہ: ۱۹۸۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23