Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190124
Published : 21/10/2017 17:13

فرض کی برمحل تشخیص،تحریک حسینی کا بہترین سبق ہے:رہبر انقلاب

حسین بن علی علیہ السلام نے اپنے بیانات کے دوران یہ بات سمجھا دی کہ ایسے حالات میں عالم اسلام کے لئے اصل طاغوتی طاقتوں کے خلاف مقابلہ کرنا اور ان طاقتوں کے شیطانی تسلط و اقتدار سے انسانوں کی نجات کے لئے قدم اٹھانا،واجب ترین کاموں میں سے ایک ہے۔

ولایت پورٹل:تحریک عاشور کے سلسلہ میں بہت سے ایسے مختلف پہلو پائے جاتے ہیں کہ جن پر عالم اسلام اور اس کے مفکرین، اگر الگ الگ زاویوں سے جائزہ لیں تو مختلف حالات میں اسلامی زندگی کی راہوں اور مسلمان نسلوں کے فرائض کا جو کہ اس واقعہ اور اس کے مقدمات و مؤخرات پر مشتمل ہیں، اندازہ ہوجائے گا اور وہ سب پر عیاں اور واضح ہوجائیں گے۔
ان اسباق میں سے ایک ضروری سبق یہ ہے کہ حسین بن علی(ع)نے تاریخ اسلام کے ایک بہت ہی نازک موقع اور مرحلہ پرگوناگوں اہمیت اور مراتب والے الٰہی فرائض میں سے ایک اصلی فریضے کی تشخیص عمل میں لاتے ہوئے اسے انجام دیا،آپ نے اس وقت عالم اسلام کو جس چیز کی ضرورت تھی اس کی شناخت اور تشخیص میں کوئی اشتباہ اور غلطی نہیں کی،حالانکہ یہ مختلف ادوار میں مسلمانوں کی زندگی میں نقصان وارد ہونے کی جگہ ہے، یعنی یہ کہ عالم اسلام کے رہنما اور نمایاں ہستیاں نیز قوم کے افراد اس وقت، اصلی فریضہ کے سلسلہ میں غلطی کر بیٹھیں اور یہ نہ جان پائیں کہ کونسی اصل چیز ہے کہ جس پر توجہ دیتے ہوئے دوسرے کاموں کو (اگر ضرورت پڑجائے تو) اس پر فدا کردیں اور یہ کہ کونسی چیز جزوی اور فرعی ہے اور یہ کہ ہر کام اور اقدام کو اس کے بقدر اہمیت دیتے ہوئے اس کے لئے کوشش کی جانی چاہیۓ۔
ابا عبداللہ علیہ السلام کے قیام کے موقع پر ایسے لوگ موجود تھے کہ اگر ان لوگوں سے اس مسئلہ کے بارے میں بات سامنے آتی کہ«ابھی اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے»اور وہ یہ سمجھتے کہ اس میں مشکلیں اور پریشانیاں در پیش ہیں تو وہ دوسرے فرائض کو ترجیح دیتے اور جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے ایسا ہی کیا،ان لوگوں کے درمیان کہ جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ حرکت نہیں کی، مؤمن و پابند افراد بھی موجود تھے، ایسا نہیں تھا کہ سبھی لوگ دنیا پرست تھے،اس وقت عالم اسلام کے سرکردہ لوگوں اور سربراہوں میں ایسے مؤمن لوگ بھی تھے جو فریضہ کے مطابق عمل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اس کو نہیں پہچان پارہے تھے اور اہم و اصلی کام اور دیگر درجہ کے دوسرے کاموں کے درمیان تشخیص دینے میں غلطیاں کررہے تھے وہ زمانے کی صورتحال کو نہیں سمجھ پارہے تھے اور یہی بات عالم اسلام کے لئے بڑی مصیبت کا باعث تھی،آج بھی ممکن ہے کہ ہم اسی غلطی کا شکار ہوجائیں اور اس چیز سے جو کہ اہم اور ضروری ہے غیر ضروری سے تشخیص دینے میں غلطی کر بیٹھیں،ہمیں اس بنیادی فریضہ کو جس سے معاشرے کا دوام اور اس کی حیات وابستہ ہے، تلاش کرنا ہوگا۔
کسی زمانے میں ہمارے اسی ملک میں سامراج و استبداد اور کفر و طاغوت کے خلاف جد و جہداور پیکار کا مسئلہ در پیش تھا، تاہم کچھ لوگ اس کی تشخیص نہیں دے پارہے تھے اور وہ دوسرے کاموں میں لگے ہوئے تھے، اگر کوئی تعلیم و تعلم کے میدان میں سرگرم تھا یا محدود پیمانے پر علوم دینیہ کے مرکز میں تبلیغ اور نشرو اشاعت میں مصروف تھا تو یہ سوچ رہا تھا کہ اگر جد و جہد کے میدان میں وارد ہوگا تو اس کے جاری امور میں خلل اور تعطّل واقع ہوگا، وہ اس قدر عظیم اور اہم جدو جہد سے چشم پوشی اختیار کررہا تھا تاکہ جو کام وہ پہلے سے انجام دے رہا ہے وہ نہ رک جائے، یعنی وہ جو چیز کہ لازم و ضروری اور اہم تھی اس کی شناخت اور تشخیص میں غلط فہمی میں مبتلا تھا۔
حسین بن علی علیہ السلام نے اپنے بیانات کے دوران یہ بات سمجھا دی کہ ایسے حالات میں عالم اسلام کے لئے اصل طاغوتی طاقتوں کے خلاف مقابلہ کرنا اور ان طاقتوں کے شیطانی تسلط و اقتدار سے انسانوں کی نجات کے لئے قدم اٹھانا،واجب ترین کاموں میں سے ایک ہے،ظاہر سی بات ہے کہ اگر حسین بن علی علیہ السلام مدینہ میں ہی رہ کر لوگوں کے درمیان احکام الٰہی کی تبلیغ کرتے ،معارف اہلبیت(ع)کو بیان کرتے اور کچھ لوگوں کی تربیت و پرورش انجام دیتے لیکن جانب عراق روانہ ہوتے وقت ان سبھی کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑتی وہ لوگوں کو نماز کی تعلیم نہیں دے سکتے تھے، لوگوں کو پیغمبر اکرمؐکی حدیثیں بیان نہیں کرسکتے تھے، درس و بحث اور معارف اسلامی کے بیان کا سلسلہ منقطع ہوجاتا، مدینہ میں موجود یتیم و مسکین اور غریبوں کے سلسلہ میں حضرت(ع) جو فریضہ انجام دے رہے تھے وہ رہ جاتا،حضرت(ع) کے کاندھے پر یہ ساری ذمہ داریاں تھیں جسے آپ(ع) انجام دے رہے تھے۔ لیکن آپ(ع) نے ان سبھی فرائض کو دوسرے اہم فریضہ کی وجہ سے پس پشت ڈال دیا، اس پر ان سب کو فدا کردیا،یہاں تک وہ معروف جملہ جو مقررین و مبلغین کی زبانوں پر ہوتا ہے کہ حضرت(ع)نے حج بیت اللہ کے موقع پر جبکہ سب لوگ حج کے لئے جارہے تھے، اس کو بھی دوسرے عظیم ترین و اہم ترین مقصد پرقربان قرار دیا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19