Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190128
Published : 21/10/2017 18:42

امام سجاد(ع) کی کعبہ میں مناجات

اصعمی کہتے ہیں کہ اس جوان نے پئے در پئے اتنی مناجات کی کہ بیہوش ہوکر زمین پر گرپڑے میں جلدی سے آگے بڑھا اور جب غور سے چہرہ اقدس کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ عبد خدا اور کوئی نہیں بلکہ اپنے وقت کا امام،حضرت زین العابدین علیہ السلام ہیں۔


ولایت پورٹل:حضرت امام سجاد علیہ السلام کے ایک صحابی اصعمی بیان کرتے ہیں کہ:میں ایک چاندنی رات میں بیت اللہ کا طواف کرنے میں مشغول تھا اسی اثناء میں میں نے ایک غم انگیز اور رقت آمیز آواز کو سنا،میں اس آواز کی طرف چلا کچھ دور چلنے کے بعد دیکھا کہ ایک جوان غلاف کعبہ کو پکڑے یہ دعا کررہا ہے:اے میرے پروردگار!لوگوں کی آنکھوں پر نیند طاری ہوچکی ہے اور اس نیلگو آسمان کے ستارے یکے بعد دیگرے افق مغرب کی چاردر اڑھنے کو تیار ہیں لیکن تو حیی و قیوم خدا ہے جسے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ،اس وقت رات کے سناٹے میں دنیا کے تمام بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کرلئے ہیں اور ان پر پہرہ دار بٹھارکھے ہیں صرف ایک تیرا ہی دروازہ ہے کہ جو حاجتمندوں کے لئے کھلا ہوا ہے اور میں سوال نیاز لیکر تیرے در پر کھڑا ہوں اور صرف تجھ ہی سے لو لگائے ہوئے ہوں۔۔ اصعمی کہتے ہیں کہ اس جوان نے پئے در پئے اتنی مناجات کی کہ بیہوش ہوکر زمین پر گرپڑے میں جلدی سے آگے بڑھا اور جب غور سے چہرہ اقدس کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ عبد خدا اور کوئی نہیں بلکہ اپنے وقت کا امام،حضرت زین العابدین علیہ السلام ہیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26