Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190273
Published : 29/10/2017 17:44

روز اربعین کی تکریم کا راز

آیت اللہ بہجت فرماتے ہیں:امام زمانہ(ع) اپنا تعارف فرزند حسین کے عنوان سے کرائیں گے اس بناء پر اس زمانے تک تمام عالم امام حسین کو پہنچانتا ہوگا ورنہ ایک ایسی ذات کے تعلق سے اپنا تعارف کرانا کہ جسے سب دنیا والے نہ جانتے ہوں تو یہ معقول نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ ابھی تمام عالم اور اس میں موجود ہر فرد حسین کو نہیں جانتا،اور یہ ہماری کوتاہی ہے چونکہ ہم نے امام حسین(ع) کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش ہی نہیں کیا جس کے سبب وہ سب پہچان لیں،لہذا اربعین کا پیدل مارچ یہ عظیم فرصت ہے کہ ہم اپنی آواز کو دنیا کے کانوں تک پہونچا سکیں۔


ولایت پورٹل:لفظ اربعین عربی ڈکشنری کا لفظ ہے جس کے معنی چالیس (۴۰) کے ہیں اب یہ عدد اور یہ تعداد حیرت انگیز طور پر دینی متون میں بہت سی جگہ استعمال ہوا ہے ،کبھی ۴۰ دن تو کبھی ۴۰ سال،چنانچہ  ان میں سب میں  واضح نمونہ پیغمبر اکرم(ص) کا چالیس برس کے سن میں مبعوث برسالت ہونا ہے اسی وجہ سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ چالیس برس کا ہونا انسان کے بلوغ و رشد فکری کی علامت ہے۔
اور اسی طرح قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آیا ہے کہ اللہ سے آپ کی میقات ۴۰ دن میں تمام ہوئی،حضرت آدم علیہ السلام نے ۴۰ شب و روز کوہ صفا پر اللہ سے دعا و مناجات کی،اور اسی طرح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص ۴۰ دن اللہ کے لئے خلوص کا مظاہرہ کرے تو خداوند عالم اس کے قلب سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری کرتا ہے۔
نیز بہت سی روایات میں آیا ہے کہ اگر کوئی شراب پیئے تو ۴۰ دن اس کی نماز و دعا مستجاب نہیں ہوتی۔غرض اس جیسی اور بھی بہت سی روایات ہیں جن میں ۴۰ کے عدد کا استعمال ہوا ہے ہم نے صرف نمونہ کے طور پر ان چند موارد کا ذکر کیا ہے۔
اربعین امام حسین علیہ السلام
قارئین کرام! اربعین یعنی ۴۰ کے متعلق سب سے اہم نمونہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی وہ حدیث ہے جس میں حضرت نے مؤمن کی علامات کو بیان فرمایا ہے:مؤمن کی پانچ علامتیں ہیں۔۱۔۵۱ رکعت نماز پڑھنا۔۲۔داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننا۔۳۔بسم اللہ کو نماز میں با آواز بلند کہنا۔۴۔خاک شفا پہ سجدہ کرنا۔۵۔زیارت اربعین پڑھنا۔
لہذا یہ حدیث معتبر منابع میں وارد ہوئی ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کے چہلم اور اربعین کو مؤمن کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ اس اربعین حسینی کا منشا کیا ہے،اور امام حسین علیہ السلام کے چہلم کو کیوں اتنی اہمییت دی جاتی ہے؟
اس سوال کے دو جوابات دیئے جا سکتے ہیں:
۱۔یہ وہی دن ہے کہ جب اہل حرم کا لٹا ہوا قافلہ شام لوٹ کر مدینہ واپسی کے لئے کربلا آیا ۔
۲۔یہ وہ دن ہے کہ جب صحابی پیغمبر اکرم(ص) جناب جابر بن عبد اللہ انصاری مدینہ منورہ سے زیارت امام حسین(ع) کے لئے کربلا تشریف لائے،چنانچہ شیخ مفید نے اپنی کتاب «مسار الشیعہ» میں ان دونوں مناسبتوں کا تذکرہ کیا ہے۔
لہذا ہم بڑے وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ روز اربعین سب سے پہلی زیارت جناب جابر بن عبداللہ انصاری نے پڑھی اور پھر اس کے بعد ہر معصوم نے جب بھی موقع ملا اس دن کی اہمیت کو لوگوں تک پہونچایا ،چونکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی سب سے پہلی زیارت روز اربعین پڑھی گئی لہذا اس روز کی زیارت کو مستحب قرار دیا گیا۔
اربعین کا پیدل مارچ اور آیت اللہ بہجت
مرحوم آیت اللہ العظمٰی بہجت عالم تشیع کے ایک عظیم مرجع تقلید اور ایک بلند پایہ عارف گذرے ہیں آپ اربعین حسینی کے موقع پر پیدل مارچ کی اس طرح وضاحت فرماتے تھے: روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب امام زمانہ(عج) ظہور فرمائیں گے تو ۵ صدائے بلند فرمائیں گے: اَلا یا اَهلَ العالَم اِنَّ جَدِی الحُسَین قَتَلُوهُ عَطشاناً، اَلا یا اَهلَ العالَم اِنَّ جَدِی الحُسَین سحقوه عدوانا،...
ترجمہ: اے اہل عالم میرے جد امام حسین علیہ السلام  کو تشنہ لب شہید کردیا گیا،اے اہل عالم میرے جد حسین کی لاش کو بعد شہادت پایمال کردیا گیا وغیرہ ۔۔
آیت اللہ بہجت فرماتے ہیں:امام زمانہ(ع) اپنا تعارف فرزند حسین کے عنوان سے کرائیں گے اس بناء پر اس زمانے تک تمام عالم امام حسین کو پہنچانتا ہوگا ورنہ ایک ایسی ذات کے تعلق سے اپنا تعارف کرانا کہ جسے سب دنیا والے نہ جانتے ہوں تو یہ معقول نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ ابھی تمام عالم اور اس میں موجود ہر فرد حسین کو نہیں جانتا،اور یہ ہماری کوتاہی ہے چونکہ ہم نے امام حسین(ع)  کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش ہی نہیں کیا جس کے سبب وہ سب پہچان لیں،لہذا اربعین کا پیدل مارچ یہ عظیم فرصت ہے کہ ہم اپنی آواز کو دنیا کے کانوں تک پہونچا سکیں۔

 http://www.ahlebayt.porsemani.ir
ترجمہ:سجاد ربانی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20