Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190282
Published : 30/10/2017 15:31

حضرت زینب(س) کا صحیح موقف ہی انھیں تاریخ کی ممتاز فرد بناتا ہے:رہبر انقلاب

کربلا کی جانب روانگی سے پہلے، اسلام کے دور اوّل کی فقاہت و شہامت و دلیری اور سرداری و آقائیت کی دعوے دار ابن عباس اور دیگر مشہور شخصیتیں حیران و پریشان ہوگئیں اور ان کے سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کریں،لیکن زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا حیران و پریشان نہیں ہوئیں، وہ سمجھ گئیں کہ انہیں اس راہ پر چلنا ہوگا اور اپنے امام کا ساتھ نہیں چھوڑنا ہوگا۔


ولایت پورٹل:حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت اور قدر و منزلت، فریضۂ الٰہی کی بنیاد پر ان کے موقف اور عظیم انسانی و اسلامی اقدام کی وجہ سے تھی،ان کے کام، ان کے فیصلے اور ان کے اقدام کی نوعیت نے انہیں اس طرح کی عظمت بخشی،اس عظمت کا اہم عنصر اور راز یہاں پوشیدہ ہے کہ سب سے پہلے اس مخدرۂ عفت و طہارت نے صورتحال کا مشاہدہ کیا امام حسین علیہ السلام کے کربلا جانے سے پہلے اور عاشورا کے دن کے بحرانی لمحات نیز امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد کی خوفناک صورتحال کا تجزیہ کیا پھر ہر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کسی ایک موقف کا انتخاب کیا،انھیں مواقف کے انتخابی اقدام نے جناب زینب سلام اللہ علیہا کو یہ عظیم مرتبہ دیا۔
کربلا کی جانب روانگی سے پہلے، اسلام کے دور اوّل کی فقاہت و شہامت و دلیری اور سرداری و آقائیت کی دعوے دار ابن عباس اور دیگر مشہور شخصیتیں حیران و پریشان ہوگئیں اور ان کے سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کریں،لیکن زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا  حیران و پریشان نہیں ہوئیں، وہ سمجھ گئیں کہ انہیں اس راہ پر چلنا ہوگا اور اپنے امام کا ساتھ نہیں چھوڑنا ہوگا اور وہ (اسی عرفان امامت وبصیرت کے ساتھ)چل پڑیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ رہی تھیں کہ راہ دشوار ہے، وہ یہ بات دوسروں سے بہتر طور پرسمجھ رہی تھیں، وہ ایک خاتون تھیں، وہ ایک ایسی خاتون تھیں جو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے اپنے شوہر اور گھر والوں سے دور ہو رہی تھیں، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے نونہالوں اور چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ لیا حالانکہ انہیں وقوع پذیر ہونے والے سانحہ کا احساس تھا،وہ بخوبی جانتی تھیں کہ کیسا حادثہ پیش آنے والا ہے۔
اس نازک، حساس اور بحرانی ترین موقع پر جبکہ مضبوط ارادوں والے آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیاجائے،لیکن جناب زینب سلام اللہ علیہا سمجھ گئیں اور اپنے امام کی حمایت کی اور اس کے ساتھ شہادت کے لئے ان کو آمادہ کیا، حسین بن علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب دنیاتیر و تار ہوگئی،دل و جان پر تاریکی نے بسیرا کرلیا اور آفاق عالم پر ظلمت و تاریکی کے بادل چھا گئے،یہ عظیم خاتون ایک نورانی شمع بن کر چمکی اور انہوں نے ایسا اعلیٰ مقام حاصل کرلیا کہ جو صرف تاریخ بشریت کے اعلیٰ مقام لوگوں یعنی پیغمبروں کو ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15