Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190286
Published : 30/10/2017 16:22

علماء اسلام کے نزدیک زیارت روضہ رسول(ص) کے آداب اور وہابی فکر کا قلع قمع

قارئین!روضہ رسول اکرم(ص) کی زیارت،دراصل پیغمبر (ص)کی عظمت، آپ کے جہاد ، مقام توحید کی عظمت کو بلند کرنے میں کوشش اور شرک و بت پرستی کی نابودی کی کوششوں کی یاد دلاتی ہے۔لیکن یہ بات ایک وہابی فکر رکھنے والے کو ہضم نہیں ہوتی۔


ولایت پورٹل:ابن تیمیہ اپنے نظریات میں عام طور پر تمام قبور اورخاص طور پر آنحضرت(ص)کی قبر کی زیارت کے مسئلہ میں بہت زیادہ ہٹ دھرمی سے کام لیتا ہے،اسی وجہ سے اپنی دو کتابوں«الجواب الباہر» اور «الرد علی الاخنائی» میں جب بھی اس طرح کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے اور کسی مدرک اور سند کا ذکر کرتا ہے تو اس کو کئی کئی بار اور مختلف انداز سے تکرار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ احادیث جو آنحضرت(ص)کی قبر کی زیارت کو مستحب قرار دیتی ہیں ان کو ضعیف اور جعلی بتاتا ہے،جبکہ زیارت سے متعلق احادیث صحاح ستہ اور اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں اورمختلف طریقوں سے نقل کی گئی ہیں اور بہت سے علماء نے ان کو صحیح شمار کیا ہے اور ان احادیث کے مضامین پر عمل بھی کیا ہے۔
قارئین کرام! ہم گذشتہ کئی مقالات سے ابن تیمیہ اور وہابیت کے ان نظریات کا رد پیش کررہے ہیں جو وہ روضہ رسول(ص) کی زیارت کی ممنوعیت کے متعلق پیش کرتے ہیں چنانچہ ہم اس مقالہ میں عالم اسلام کے بزرگ علماء،محدثین بلکہ بعض فقہی اماموں کا نظریہ بھی پیش کریں گے اور ان کی تحریر کردہ روایات کو پیش کرنے کی کوشش کریں گے  تاکہ وہابیت کے عقیدہ کا عقدہ کھل کر سب کے سامنے آجائے،تو آئیے ہم سب سے پہلے مالکی مذہب کے امام و پیشوا جناب امام مالک کی کتاب «موطاء» سے روایت پیش کرتے ہیں،چنانچہ وہ رقمطراز ہیں کہ:ابن عمر جب بھی کسی سفر پر جاتے تھے یا سفر سے واپس آتے تھے تو آنحضرت(ص) کی قبر پر حاضر ہوتے تھے اور وہاں نماز پڑھتے تھے اور آپ پر درود وسلام بھیجتے تھے اور دعا کرتے تھے اسی طرح محمد (ابن عمر) نے کہا: اگر کوئی مدینہ میں آتا ہے تو اس کے لئے آنحضرت(ص) کے پاس حاضر ہوناضروری ہے۔(۱)
ابو ہریرہ پیغمبر اکرم(ص) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے اپنی والدۂ گرامی کے قبر کی زیارت کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے۔(۲)
اسی طرح حضرت ابوبکر نے حضرت رسول اکرم(ص) سے روایت کی ہے جو شخص جمعہ کے دن اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کی زیارت کرے اور ان کی قبر کے پاس سورہ یٰس پڑھے تو خدا اس کو بخش دیتا ہے۔(۳)
اسی طرح پیغمبر اکرم(ص)کی ایک دوسری حدیث جس میں آپ نے فرمایا:جو شخص میری زیارت کے لئے آئے اور اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا قصد نہ رکھتا ہو، تو مجھ پر لازم ہے کہ میں روز قیامت اس کی شفاعت کروں۔(۴)
اہل سنت و الجماعت کے نزدیک جلیل القدر عالم جناب سمہودی نےآنحضرت(ص) کی زیارت کے آداب کو تفصیل سے بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن الحسین السامری حنبلی نے، اپنی کتاب «المُستَوعِب»میں آنحضرت(ص) کی قبر کی زیارت کے سلسلہ میں آداب زیارت کے باب میں لکھا ہے کہ جب زائر قبر کی دیوار کی طرف آئے تو گوشہ میں کھڑا ہوجائے اور قبر کی طرف رخ یعنی پشت بقبلہ اس طرح کھڑا ہو کہ منبر اس کی بائیں طرف ہو،اور اس کے بعد آنحضرت(ص) پر سلام ودعا کی کیفیت بیان کی ہے اور اس دعا کا ذکر کیا ہے:«اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ قُلْتَ فِی کِتَابِکَ لِنَبِیِّکَ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ:{وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَہُمْ جَاْؤُکَ فَسَتَغْفرُوْا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوْا اللہَ تَوَّاباً رَحِیْماً}   وَاِنِّی قَدْ اَتَیْتُ نَبِیّکَ مُسْتَغْفِراً وَاَسْألُکَ اَنْ تُوْجِبَ لِیَ الْمَغْفِرَۃَ کَمَا اَوْجَبْتَہَا لِمَنْ اَتَاہُ فِی حَیَاتِہِ،اَللّٰہُمَّ اِنِّي اَتَوَجَّہَ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ»۔
ترجمہ:خداوندا!تو نے اپنی کتاب میں اپنے پیغمبر(ص)کے لئے فرمایاہے:{اے کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے، تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے}،میں اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے تیرے نبی کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا ہوں اور تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور امید ہے کہ تو مجھے معاف کردے گا ،جس طرح لوگ تیرے نبی کی حیات میں ان کے پاس آتے تھے اور تو ان کو معاف کردیتا تھا،اے خدائے مہربان میں تیرے نبی کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں ملتمس ہوتا ہوں۔
اس سے بھی اہم بات یہ کہ حنفی عالم دین ابومنصور کرمانی تنہا خود زیارت کرنے پر ہی زور نہیں دیتے بلکہ اس شخص کی ذمہ داری کا تذکرہ بھی کرتے ہیں جو کسی کا نائب الزیارۃ بن کر روضہ رسول(ص) کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے،چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:اگر کوئی تم سے آکر یہ کہے کہ پیغمبر اکرم (ص) تک میرا سلام پہنچادینا ، تو آنحضرت(ص) کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس طرح کہنا کہ آپ پر سلام ہو فلاں فلاں شخص کا اور انھوں نے آپ کو خدا کی بارگاہ میں شفیع قرار دیا ہے تاکہ آپ کے ذریعہ خداوندعالم کی مغفرت اور رحمت ان کے شامل حال ہو، اور آپ ان کی شفاعت فرمائیں۔
اس کے علاوہ سمہودی اسلامی دنیا کے معتبر اور قابل اعتماد علماء میں سے ہیں،انھوں نے اپنی کتاب کے تقریباً ۵۰ صفحے آنحضرت(ص) کی قبر مطہر کی زیارت اور اس کے آداب اور قبر مطہر سے توسل سے مخصوص کئے ہیں اور متعدد ایسے واقعات بیان کئے ہیں کہ لوگ مشکلات اور بلا میں گرفتار ہوئے اور آپ کی قبر مطہر پر جاکر نجات مل گئی۔(۵)
اور شیعہ عالم دین مرحوم علامہ امینی(رح) نے زیارت قبر پیغمبر(ص)کی فضیلت اور استحباب کے بارے میں جہاں اہلسنت سے بہت سی روایات نقل کی ہیں وہیں تقریباً چالیس سے زیادہ مذاہب اربعہ کے بزرگوں کے قول بھی آنحضرت(ص)کی زیارت کے بارے میں نقل کئے ہیں۔(۶)
قارئین کرام  !یہاں پر مناسب ہے کہ عصر جدید کے مصری مؤلف ابو زہرہ کا قول نقل کیا جائے، وہ کہتے ہیں:ابن تیمیہ نے اس سلسلہ (زیارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تمام مسلمانوں سے مخالفت کی ہے بلکہ جنگ کی ہے۔
قارئین!روضہ رسول اکرم(ص) کی زیارت،دراصل پیغمبر (ص)کی عظمت، آپ کے جہاد ، مقام توحید کی عظمت کو بلند کرنے میں کوشش اور شرک و بت پرستی کی نابودی کی کوششوں کی یاد دلاتی ہے۔لیکن یہ بات ایک وہابی فکر رکھنے والے کو ہضم نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔موطا،ص ۳۳۴۔
۲۔صحیح مسلم،ج۳،ص۶۵،سنن ابی داؤد،ج۳،ص۲۱۲ ۔
۳۔شرح جامع صغیر،سیوطی،ص۲۹۸۔
۴۔شفاء الغرام،ج۲،ص۳۹۷ ۔
۵۔ملاحظہ فرمائیں:وفاء الوفاء باخبار دار المصطفٰی،ج۴،ص۱۳۷۱۔ ۱۴۲۲ تک ۔
۶۔الغدیر،ج۵،ص۱۰۹ ۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15