Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190290
Published : 30/10/2017 17:39

فکر قرآنی:

قرآن مجید میں شراب کے حرام ہونے کی علت

ایک مفکر و دانشور کا کہنا ہے کہ اگر تمام حکومتیں شراب فروشی کی نصف دکانوں کو بند کردیں تو ہم اپنے نصف اسپتالوں کو بندکر دیں گے،کیونکہ شراب نوشی ہی اکثر بیماریوں کی جڑ ہے جیسے منفی جذبات ،اعصابی بیماریاں ،مغز اور دل پر حملہ،دل کی دھڑکنوں کا تیز ہونا، بھوک کا نہ لگنا،رنگ کا پھیکا پڑ جانا ،جسمانی،روحانی اور نفسیاتی بیماریاں یہ ساری چیزیں اکثراسی کا نتیجہ ہیں۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام!فکر قرآنی اس سیریز میں ایک بار پھر آپ کا خیر مقدم ہے،آج ہم قرآن مجید میں شراب کے حرام ہونے کی وجہ پر کچھ باتیں آپ کی خدمت میں گذارش کریں گے۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے خداوند عالم جب تک کسی چیز کو واجب قرار نہیں دیتا جب تک اس میں مصلحت اور فائدہ نہ پایا جاتا ہو اور اسی طرح اس وقت تک کسی فعل کو حرام قرار نہیں دیتا جب تک اس میں فساد،برائی اور خرابی نہ پائی جائے،پس اللہ کی طرف سے کسی چیز کا واجب،حرام،مستحب،مکروہ یا مباح ہونا بغیر کسی غرض و غایت و فلسفہ کے نہیں ہے،اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں بہت سی چیزوں کی علت اور اسباب قرآن مجید و سنت متواترہ کے ذریعہ معلوم ہوسکتے ہیں لیکن ان احکام کا اصل فلسفہ اور حکمت خداوند عالم اور راسخون فی العلم کے پاس ہے۔
بہر کیف! ہم شراب کے حرام ہونے کے بعض اسباب کو اس آیہ شریفہ کے ذیل میں بیان کریں گے کہ جس میں ارشاد ہورہا ہے:«یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْر ِو َالْمَیْسِر ِقُل فیهِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُما أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما وَ یَسْئَلُونَکَ ماذا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کَذلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ لَکُمُ الْآیاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ»۔(سورہ بقرہ:۲۱۹)۔
ترجمہ:اے پیغمبر!یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور یہ راہ خدا میں خرچ کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو کہہ دیجئے کہ جو بھی تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو،خدا اسی طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کرسکو۔
لغت میں«خَمر»کے معنی پوشش کے ہیں،لہٰذا وہ کپڑا جس کے ذریعہ عورتیں اپنے سر کو ڈھانپتے ہوئے حجاب کی رعایت کرتی ہیں اسے لغت میں«خمار»کہا جاتا ہے،چونکہ شراب انسان سے قدرت تشخیص چھین کر اسے حواس باختہ بنا دیتی ہے اور حقیقت میں شرابخوار کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے اس لئے اس کو«خمر» کہا جاتا ہے۔
اسی طرح «مَیسر» یَسر  سے لیا گیا ہے اور اس کے معنی آسانی کے ہیں گویا قمار بازی میں دونوں فریق آسانی چاہتے ہیں اور بغیر زحمت کے یہ چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کا مال انھیں حاصل ہو جائے۔
لہذا لوگوں نے رسول خدا(ص) سے پہلاسوال شراب اور جوئے ہی کے متعلق کیا ہے،چنانچہ آیۂ کریمہ میں ان کے سوال کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ شراب نوشی اور جوے بازی گناہان کبیرہ میں سے ہے اگر چہ ممکن ہے کہ ان کا فائدہ ہو،جیسا کہ بعض افراد انگور کی کھیتی سے شراب تیار کرتے ہیں اور کچھ لوگ جوئے کے اڈے قائم کر کے مال و دولت حاصل کرتے ہیں۔
عام طور پرعلمی اوراخلاقی کتابوں میں شراب اور قمار بازی کے منفی اثرات اور فردی و اجتماعی فسادات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جاتی ہے۔
یہاں پرہم شراب اور قمار بازی کے نقصانات کے بارے میں آیۃ اللہ مکارم شیرازی مدظلہ کی مشہور زمانہ تفسیر«تفسیر نمونہ» سے فہرست وار کچھ مطالب بیان کررہے ہیں کہ شرابی پر شراب کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں:
شراب نوشی سے عمر میں کمی واقع ہوتی ہے،بچوں پر اس کا منفی اثرمرتب ہوتا ہے،خاص طور سے اگر نشہ کی حالت میں جنسی عمل انجام پائے۔
شراب نوشی سے معاشرہ میں اخلاقی فسادات کا پھیلاؤ اور جرائم کے اعداد و شمار میں اضافہ ہوتا ہے جیسے:طلاق ،چوری ،لوٹ مار،جنسی جرائم اور ٹریفک حادثات وغیرہ ۔
ایک مفکر و دانشور کا کہنا ہے کہ اگر تمام حکومتیں شراب فروشی کی نصف دکانوں کو بند کردیں تو ہم اپنے نصف اسپتالوں کو بندکر دیں گے،کیونکہ شراب نوشی ہی اکثر بیماریوں کی جڑ ہے جیسے منفی جذبات ،اعصابی بیماریاں ،مغز اور دل پر حملہ،دل کی دھڑکنوں کا تیز ہونا، بھوک کا نہ لگنا،رنگ کا پھیکا پڑ جانا ،جسمانی،روحانی اور نفسیاتی بیماریاں یہ ساری چیزیں اکثراسی کا نتیجہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً تیس فیصد جرائم جوئے بازی کا نتیجہ ہیں،قماربازی اقتصادی پیش رفت میں منفی کردار رکھتی ہے اور کسی اچھے اور مفید کام کے نشاط کو ختم کر دیتی ہے۔
بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی انھیں سالوں میں قمار بازی کو ممنوع قرار دیا ہے،جیسے انگلینڈ،روس ،اور جرمنی نے قمار بازی کو ممنوع قراردیا ہے ،لہذا جو سرعام قمار بازی میں ملوث گرفتار کرلیا جائے اسے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18