Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190307
Published : 31/10/2017 17:4

رہبر انقلاب کی نظر میں علماء،خطباء و ذاکرین کا فریضہ

آپ ایک ذاکر اور خطیب کی حیثیت سے ایسے موضوع کو اجاگر کریں جو اس طرح کے سوالوں کے جواب دے سکے،حقیقت عاشورا کے سلسلہ میں لوگوں کو واقفیت حاصل ہونی چاہیئے،اگر آپ کی تقریر یا خطابت کے دوران ان تین خصوصیات میں سے کسی ایک طرف اشارہ بھی نہ ہوا تو آپ کا یہ مقصد اور ہدف نامکمل اور ناقص قرار پاسکتا ہے۔


ولایت پورٹل:مجالس عزا اور عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے سلسلہ میں علمائے دین کا فریضہ نہایت عظیم اور کٹھن ہے،کیونکہ عزاداری کے قائم ہونے کا فلسفہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ایک جگہ اجتماع کریں اور ایک عالم دین ان کے درمیان جاکر عزاداری قائم کرے تاکہ دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں، اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک عالم دین عزاداری کو کیسے قائم اور برپا کرے؟میرا یہ سوال ان سبھی لوگوں سے ہے جو اس مسئلہ میں اپنی ذمہ داری اور فرائض کو محسوس کرتے ہیں۔
میرے خیال میں مجالس عزا کو تین خصوصیتوں کا حامل ہونا چاہیئے:
پہلی خصوصیت: یہ ہونی چاہیئے کہ، اس طرح کی مجلسوں میں اہلبیت علیہم السلام کی محبت میں اضافہ ہونا چاہیئے ،کیونکہ جذباتی رابطہ بہت ہی گرانقدر ہوا کرتا ہے،آپ علماء حضرات کو یہ کوشش کرنی چاہیئےکہ ان لوگوں کے دلوں میں جو کہ مجالس عزا میں شریک ہوتے ہیں، اہلبیت علیہم السلام، امام حسین علیہ السلام اور معرفت الٰہی کے سلسلہ میں، محبت و معرفت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو اور خدانخواستہ اگر ان مجلسوں میں آپ نے ایسی صورتحال پیدا کردی کہ اس مجلس میں موجود لوگ یا اس کے باہر موجود لوگوں کے دلوں میں محبت اہل بیت(ع) میں اضافہ نہ ہوا بلکہ اس کے برخلاف ان کے دلوں میں بیزاری اور دوری کی بات گھر کر گئی تو آپ اس عظیم فائدے سے جو کہ مجلسوں سے حاصل ہونا چاہیئے، محروم رہ گئے اور اس کے نقصان کا بھی باعث ہوئے ہیں اب آپ جو کہ اس مجلس عزا کی سرپرستی کرنے اور ہدایت و ارشاد کرنے والے ہیں،دیکھیں اور سوچیں کہ ایسا کیا کرسکتے ہیں کہ جس کی وجہ سے حاضرین مجلس کے دلوں میں امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی محبت میں اضافہ ہوسکے۔
دوسری خصوصیت:ان مجالس کے ذریعہ جس دوسری خصوصیت کو عملی جامہ پہننا چاہیئے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو واقعۂ عاشور کی حقیقت اور اصلیت سے واقف کرایا جائے، ایسا نہیں ہونا چاہیئےکہ ہم حسین بن علی علیہ السلام کی مجلس عزا کے لئے منبر پر جائیں اور تقریر کرکے اتر آئیں بلکہ تقریر کا موضوع، حاضرین مجلس کے فکر و تأمل کا باعث ہو بشمول جوان و غیر جوان بوڑھے خواتین و حضرات کہ(بحمداللہ) آج ہمارے معاشرے میں سمجھدار لوگ ہیں، ان کے ذہن و افکار پر یہ تقریر اپنے نقوش مرتب کرے کہ ہم اس مجلس میں حاضر ہوئے، گریہ بھی کیا لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ اصل میں یہ واقعہ کیا تھا؟ اصولی طور پر امام حسین علیہ السلام کے لئے گریہ کیوں کیا جانا چاہیۓ؟ حقیقت میں امام حسین علیہ السلام کربلا کیوں آئے اور واقعۂ عاشور کیوں وقوع پذیر ہوا؟ لہٰذا آپ ایک ذاکر اور خطیب کی حیثیت سے ایسے موضوع کو اجاگر کریں جو اس طرح کے سوالوں کے جواب دے سکے،حقیقت عاشورا کے سلسلہ میں لوگوں کو واقفیت حاصل ہونی چاہیئے،اگر آپ کی تقریر یا خطابت کے دوران ان تین خصوصیات میں سے کسی ایک طرف اشارہ بھی نہ ہوا تو آپ کا یہ مقصد اور ہدف نامکمل اور ناقص قرار پاسکتا ہے۔
ان مجلسوں کی تیسری خصوصیت:لوگوں کے درمیان ایمان اور دینی معارف میں اضافہ کرنا ہے،اس طرح کی مجلسوں میں دینی پہلوئوں کو اجاگر کرنا چاہیئےتاکہ سامعین میں ایمان و معرفت کی توسیع عمل میں آئے یعنی مقررین و ذاکرین کے ذریعہ ایک صحیح و درست وعظ و نصیحت، صحیح حدیث اور معتبر و صحیح نیز تعمیری تاریخ، قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر یا کسی بڑے عالم دین یا دانشور ہستی سے متعلق بیان یا واقعہ، اپنی تقریر و ذاکری میں شامل کریں اور حاضرین مجلس کو مستفید کرنے کا موقع فراہم کریں،ایسا نہیں ہونا چاہیئےکہ جب منبر پر گئے تو تھوڑا بہت لفاظی کیا اور اگر کوئی بات بھی بیان کی تو وہ ضعیف و کمزور ہو کہ جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ایمان میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ سامعین کے ایمان میں کمزوری کا موجب بھی بنے گا اگر ایسا ہوا تو ہم مذکورہ مجلسوں اور اجتماعات سے اپنے مقصد اور ہدف کو حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14