Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190323
Published : 1/11/2017 17:54

آئمہ(ع) سے لوگوں کو جدا کرنا؛سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی خیانت

تاریخ بشریت میں سب سے بڑا ظلم یہی ہوا ہے کہ انسانیت کو معصوم(ع) اور الٰہی رہبروں سے الگ کردیا گیا،معصومین(ع) کو نظر انداز کر دینا یعنی ایک ماہر اور حقیقی عالم کو درکنار کر دینا اور ہدایت کے سلسلہ کو معطل کر دینا اور انسان کے وجود اور روح کے پیچیدہ نظام سعادت کو جاہل اور بے تجربہ لوگوں کے حوالے کرنا عالم انسانیت کے اوپر سب سے بڑا ظلم اور سب سے عظیم انحراف ہے۔


ولایت پورٹل:انسان کے خداوند عالم سے رابطہ کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں کہ انسان خداوند عالم کا خلیفہ ہے اور وہ غیر محدود ذات اور منزل تک پہنچ کر ہر طرح کی سعادت ابدی حاصل کر سکتا ہے ان بیانات اور اس سلسلہ میں معصومین(ع) کے کردار اور خداوند عالم کے نزدیک ان کے اہم مقام اور مرتبہ اور ان کے فرمودات کے پیش نظر ہم چند نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔
۱۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت اور اس کی سعادت کا سب سے بنیادی ذریعہ اس کا اپنے خدا سے رابطہ ہے کیونکہ خداوند عالم کی ذات وہ ہے جس کے ہاتھوں انسان کی خلقت ہوئی اور وہی اس کی ہدایت کا ذمہ دار بھی ہے درحقیقت اس کے علاوہ کسی کے پاس یہ طاقت اور حق نہیں ہے۔
اس طرح اپنے پروردگار سے رابطہ توڑنے میں انسان کی ہلاکت و بربادی ہے اس  لئے کسی انسان کا اپنے یا دوسرے انسانوں کے حق میں سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اپنے خالق و ہادی اور مقصد و مقصود سے رابطہ توڑلے یا رابطہ کمزور کر ڈالے،اس بنا پر قرآن مجید اور احادیث معصومین(ع) میں گناہ اور نافرمانی یا ہراس عمل کو جس سے خدا و بندہ کا رابطہ اور رشتہ یعنی انسان اور اس کی حقیقت کے درمیان رابطہ کمزور ہو،اسے«ظلم»سے تعبیر کیا گیا ہے ظلم یعنی یہ شخص راہ حق وحقیقت سے منحرف ہو گیا۔
۲۔صرف معصومین(ع) ہی وہ رہبران قوم ہیں جن کی خداوند عالم نے تائید کی ہے اور یہی حضرات خدا کے کامل ترین مظہر اور لوگوں کے درمیان خدا کے برحق جانشین اور اس تک پہونچنے کا واحد ذریعہ صرف یہی حضرات ہیں۔
خداوند عالم نے تمام انسانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس تک پہنچنے کے لئے انہی راستوں اور رہبروں کا انتخاب کریں جو ہر لحاظ سے قابل اعتبار اور معصوم ہوں جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات کریمہ سے ظاہرہوتا ہے خاص طور پر آیۂ کریمہ:«یَاأَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَابْتَغُوا إِلَیهِ الْوَسِیلَةَ»۔(سورہ مائدہ:۳۵)۔اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ«وسیلہ» کا مکمل مصداق صرف اور صرف معصومین(ع) ہیں کہ خداوندعالم نے ان کو خلق کرنے کے بعد ہمیں ان کے نور سے خلق کیا اور ان کی تجلی کو ہمارے وجود میں ودیعت فرمایا ہے تاکہ اس طرح ان کی شناخت اور پیروی کے ذریعہ تمام انسان خداوند عالم سے رابطہ برقرار کرسکیں۔
۳۔ظلم کی جو تعریف بیان کی گئی ہے اس سے یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتاہے کہ معصومین(ع) سے رابطہ کمزور کر لینا یا ختم کر لینا (جب کہ خدا تک پہنچنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے اور خداوندعالم ان کے علاوہ کسی دوسرے کی رہبری اور قیادت پر راضی نہیں ہے) یہ بالکل اسی ظلم کی طرح ہے جو خدا اور انسان کے سلسلے میں پایا جاتا ہے،یا بہ الفاظ دیگر جو شخص معصومین(ع) سے اپنا یا دوسروں کا رابطہ ختم کر دے اس نے بہت بڑا ظلم کیا ہے کیونکہ اس نے خداوند عالم کی بنائی ہوئی ریسمان ہدایت کو اپنے ہاتھوں سے قطع کردیا ہے۔
۴۔مذکورہ بیانات سے یہ اہم نتیجہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ تاریخ بشریت میں سب سے بڑا ظلم یہی ہوا ہے کہ انسانیت کو معصوم(ع) اور الٰہی رہبروں سے الگ کردیا گیا،معصومین(ع) کو نظر انداز کر دینا یعنی ایک ماہر اور حقیقی عالم کو درکنار کر دینا اور ہدایت کے سلسلہ کو معطل کر دینا اور انسان کے وجود اور روح کے پیچیدہ نظام سعادت کو جاہل اور بے تجربہ لوگوں کے حوالے کرنا عالم انسانیت کے اوپر سب سے بڑا ظلم اور سب سے عظیم انحراف ہے۔
عقل وشرع کے مطابق انسانی زندگی میں کوئی بھی مسئلہ ہدایت سے زیادہ بنیادی اور اہم نہیں ہے،قرآن مجید اور احادیث میں جو کچھ بھی معصومین(ع) سے رابطہ خاص طور پر اپنے زمانہ کے امام کی شناخت، امام زمانہ(ع) سے متعلق دنیا وآخرت میں انسانوں کی ذمہ داری او رمجموعی طور پر امامت کے بارے میں تاکید کی گئی ہے یہ تمام باتیں ہدایت کی ناقابل انکار اہمیت کا واضح ثبوت ہیں اور قرآن و حدیث کے تمام موضوعات میں ہدایت کا موضوع سر فہرست نظر آتاہے۔
۵۔رسول خدا(ص) کی رحلت کے بعد جو سب سے بڑا ظلم ڈھایا گیا اور جس کا جرمانہ عالم بشریت کو آج تک ادا کرنا پڑ رہا ہے وہ ظلم یہی تھا کہ خاندان رسالت کو قیادت و رہبری سے الگ کر دیا گیا اور ان کو الگ کرتے ہی انسانیت ایک عظیم خسارے کا شکار ہو گئی کیونکہ ہدایت کا نظام تقریباً پورے طور پر معصوم رہبروں کے ہاتھوں سے نکل گیا اور جاہلوں، نادانوں اور اقتدار پسند لوگوں نے اس پر اپنا قبضہ جمالیاجس کا افسوس ناک سلسلہ آج تک جاری ہے،لہٰذا عالم انسانیت کے لئے اس سے بڑی بدبختی اور اس سے بڑا نقصان اور کیا ہو سکتا ہے کہ اسے الٰہی نظام ہدایت سے محروم کر دیا گیا،جب کہ اس نظام ہدایت میں انسان کی مکمل شناخت کے ساتھ کائنات کی شناخت کا بھی انتظام ہے،یہ سلسلہ صرف اور صرف امام برحق اور معصوم کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے تھا کیونکہ یہی حضرات علم الٰہی کے خزانہ سے جڑے ہیں اور ان کے یہاں کسی قسم کے ابہام یا شک وشبہ کا امکان نہیں ہے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18