Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190324
Published : 1/11/2017 18:41

اربعین؛حسینی مشن سے دنیا کو روشناس کرانے کا بہترین موقع

واقعہ کربلا در حقیقت حیات جاودانی کا نام ہے،کربلا تلوار پر خون کی کامیابی کا نام ہے ، کربلا ظلم کے خلاف ایک مستحکم تحریک کا نام ہے ،کربلا جہالتوں پر علم کے غلبہ کا نام ہے ،کربلا ظلم اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے،کربلا خواب غفلت سے بیدار کرنے کا نام ہے، کربلا توحید کی سربلندی اور کفر ونفاق کی نابودی کا نام ہے۔


ولایت پورٹل:نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے خون کی سرخی نے واقعہ کربلا کے دامن پر وہ نقش چھوڑے ہیں ،کہ جن کی لالی  نے تاریخ کی ہر جنگ کی رونق کو چھین کر لوگوں کے ذہنوں سے ہر معرکہ کو محو کردیا اور اس وقت جب بھی کسی مظلوم کا تذکرہ ہوتا ہے تو مظلومیت حسین(ع) ذہنوں کے سامنے دکھائی دینے لگتی ہے یہاں تک کہ نواسہ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی مظلومانہ شہادت نے انسانیت کے دل ودماغ پر ایسا اثر چھوڑا ہے کہ مورخ و شاعر کا قلم یہ لکھنے پر مجبور ہے حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اصحاب یہاں تک کہ اپنی اولاد کی قربانی پیش کرکے کلمہ توحید کو بچاتے ہوئے انسانیت کو نجات دی جسے خواجہ معین الدین چشتی  نے اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا :
شاہ است حسین بادشاہ است حسین:دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نداد دست دردست یزید:حقہ کہ بناء لاالہ است حسین
واقعہ کربلا در حقیقت حیات جاودانی کا نام ہے،کربلا تلوار پر خون کی کامیابی کا نام ہے ، کربلا ظلم کے خلاف ایک مستحکم تحریک کا نام ہے ،کربلا جہالتوں پر علم کے غلبہ کا نام ہے ،کربلا ظلم اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے،کربلا خواب غفلت سے بیدار کرنے کا نام ہے، کربلا توحید کی سربلندی اور کفر ونفاق کی نابودی کا نام ہے۔
اس عظیم واقعہ نے دنیا کو متزلزل اور بڑی بڑی چٹانوں کو پانی کردیا اور عالم اسلام میں ایسا انقلاب لایا کہ جس کا اثر آج بھی پوری دنیا میں موجود ہے اسلئے کہ آج بھی جتنی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں انہوں نے کربلا والوں کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے۔
ہم امام حسین علیہ السلام کا حق اسی وقت اد اکرسکتے ہیں جب آنحضرت کے اس عظیم مقصد کو پورے عالم تک پہونچائیں اور اس کا دفاع بھی کریں،اسی مقصد امام حسین علیہ السلام اور آپ اور آپ کے اصحاب کی قربانی کی یاد تازہ کرنے کا ایک نمونہ ان مقدس ہستیوں کے چہلم کی یادمنانا ہے جس کی سنت ایک جلیل القدرصحابی رسول جناب جابر بن عبد اللہ انصاری کے عمل سے پڑی جنہوں نے سینکڑوں میل پیدل چل کر ۲۰ صفر المظفر کو نواسہ رسول(ص) کی زیارت کا شرف حاصل کیا لہذا آج ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس روز امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائیں اور پیدل چل کر زیارت کرنے کی سنت کو زیادہ زیادہ ترویج کریں تاکہ یوں نواسہ رسول(ص)کے حق کو ادا کیا جاسکے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14