Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190333
Published : 2/11/2017 16:25

ایک معذور خاتون کا شوق زیارت

انھوں نے بتایا:کہ میں ۱۱ سال سے اپنی اسی وہیلچئر سے ناصریہ تا کربلا جاتی ہوں اور میں اس طولانی مسافت کو ۶ دن میں طئے کرتی ہوں۔


ولایت پورٹل:مجھے چند سال پہلے  اربعین کے اس معنوی سفر میں شرکت کا شرف نصیب ہوا اور میں نے نجف سے کربلا کے دوران بہت سے ایسے لوگوں کو کربلا جاتے ہوئے دیکھا جنھیں بستر پر لیٹ کر آرام کی سخت ضرورت تھی لیکن اللہ رے!مؤمنین کے دل میں امام حسین علیہ السلام کی محبت کا پھوٹتا ہوا لاوا،اربعین میں پہونچ کر مجھے اس حدیث:«ان لقتل الحسین حرارة فى قلوب المؤمنین لن تبرد ابداً» کا صحیح عرفان نصیب ہوا چنانچہ میں نے اس راہ میں ایک معذور خاتون کو دیکھاکہ جو امام حسین(ع) کے عشق و محبت میں اپنی حالت سے غافل کربلا کی جانب رواں دواں تھیں،جس کے ساتھ ظاہراً کوئی مرد یا بچہ بھی نہیں تھا اور وہ شہر ناصریہ کی رہنے والی تھی۔
ہم یہ بھی بتا دیں کے شہر ناصریہ سے کربلا کا فاصلہ ۱۱۴ کیلومٹر ہے۔
چنانچہ میں نے ان سے معلوم کیا:کیا آپ کو۔چونکہ وہ معذور تھیں۔ اس سفر میں تھکن و خستگی کا احساس تو نہیں ہورا ہے؟
تو انھوں نے مجھے عجیب جواب دیا:چونکہ سب لوگ پیروں سے چل کر جارہے ہیں اس وجہ سے تھک جاتے ہیں اور میں اپنی وہیلچئر کو اپنے ہاتھوں سے چلاتی ہوئی جارہی ہوں اس لئے مجھے تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔
قارئین! یہ میرے لئے عجیب سا جواب تھا۔
انھوں نے بتایا:کہ میں ۱۱ سال سے اپنی اسی وہیلچئر سے ناصریہ تا کربلا جاتی ہوں اور میں اس طولانی مسافت کو ۶ دن میں طئے کرتی ہوں۔
یہ کون حسین ہیں کہ تمام عالم جس کا دیوانہ ہے؟؟؟؟؟؟؟




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14