Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190347
Published : 4/11/2017 16:27

سفر اربعین سے کیسے فیضیاب ہوں؟

بہر حال اگلے برس کربلا جانا نصیب ہو یا نہ ہو اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے لہذا ایک زائر کے لئے ضروری ہے کہ بقول امام جعفر صادق علیہ السلام جس طرح ہر مؤمن کو اپنی نماز یہ سوچ کر پڑھنی چاہیئے کہ یہ میری الوداعی نماز ہے اسی طرح زائراربعین بھی یہ سوچ کر زیارت کرے کہ یہ میری آخری زیارت ہے۔

ولایت پورٹل:ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات و فرصتیں ضرور آتی ہیں جن کا کسی دوسری چیز سے مقائسہ و مقابلہ نہیں کیا جاسکتا لہذا ایسے مستثنیٰ لمحات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے جیسا کہ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا:«إن لربّکم فی أیام دهرکم نفحات،ألا فتعرضوا لها»۔(بحار الانوار،ج‏۷۱،ص‏۲۲۱)؛ بے شک تمہاری پوری زندگی میں کبھی نہ کبھی الہی ہوائیں ضرور چلتی ہیں پس تمہیں چاہیئے کہ تم ان کو اخذ و درک کرو۔
اربعین کا زیارتی و معنوی سفر اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ ۔اگر ایک منصوبہ و پروگرامنگ کے تحت انجام پائے۔ تو اربعین پر زیارت کو جانے والوں کے لئے بہت سی برکات کی تمہید ہوسکتا ہے لہذا اس معنوی سفر میں زیادہ سے زیادہ یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اس سے بہتر سے بہتر فیض حاصل کیا جاسکے،چنانچہ ہم اس مقالہ میں اربعین کے لئے کچھ خاص منصوبوں اور پروگرامز کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں کہ جو اس میدان میں کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔
اربعین کے امتیازی پہلو کی طرف توجہ
اربعین پر کربلا جانے والا شخص اس امر کی طرف متوجہ رہے کہ یہ سفر سال بھر میں صرف ایک بار پیش آتا ہے اور ہر سال ہر انسان کی تقدیر میں کربلا کا یہ معنوی سفر نہیں لکھا ہوتا اور اس وجہ سے کہ انسان کی عمر اگلے برس تک وفا کرے یا نہ کرے!یا خدانخواستہ عراق کے حالات ایسے ہوجائیں کہ ویزا ملنا مشکل ہوجائے یا ہوسکتا ہے کہ خود وہ شخص کہ جو اربعین پر عزم سفر رکھتا ہے وہ خود بیمار ہوجائے وغیرہ وغیرہ
بہر حال اگلے برس کربلا جانا نصیب ہو یا نہ ہو اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے لہذا ایک زائر کے لئے ضروری ہے کہ بقول امام جعفر صادق علیہ السلام جس طرح ہر مؤمن کو اپنی نماز یہ سوچ کر پڑھنی چاہیئے کہ یہ میری الوداعی نماز ہے اسی طرح زائراربعین بھی یہ سوچ کر زیارت کرے کہ یہ میری آخری زیارت ہے۔
سفر سے پہلے تیاری
وہ زائر گرامی کہ جو سفر اربعین سے معنوی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اسے سفر سے پہلے ایک مستحکم منصوبہ کی ضرورت ہے مثال کے طور پر اگر وہ جانبی زیارت گاہوں مثلاً مسجد کوفہ،مسجد سہلہ وغیرہ وغیرہ جائے گا اور اسی طرح اسے نجف سے کربلا پیدل بھی جانا ہے تو اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتنا وقت اپنے پاس رکھے تاکہ وہ تمام زیارتیں خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے سکے چونکہ سفر اربعین ایک عظیم معنوی سفر ہے اسے یہ سوچنے اور فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ کہاں جارہا ہے؟کس لئے جارہا ہے؟اور کس مقدس سرزمین پر قدم رنجہ ہورہا ہے؟
قرائت قرآن مجید کا سید الشہداء اور دیگر آئمہ(ع) کو ہدیہ کرنا
اس پر برکت سفر کے دوران زیادہ سے زیادہ معنویت حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اسے سید الشہداء(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کی ارواح طیبہ کو ہدیہ کرنا ہوسکتا ہے،ظاہر سی بات ہے کہ ایک زائر کو اس معنوی سفر کے دوران بہت سی ادعیہ و قرآن مجید پڑھنے کی فرصتیں نصیب ہوتی ہیں لہذا اگر کوئی شخص ایک پروگرام اور منصوبہ کے تحت یہ کام انجام دے تو ممکن ہے پورا قرآن یا کچھ کم ہی صحیح وہ قرآن مجید پڑھ سکتا ہے۔
امام حسین(ع) اور واقعہ عاشورا کے متعلق مطالعہ
ایک زائر حسنی کو جتنی امام حسین(ع) اور واقعہ عاشورا کے متعلق زیادہ معرفت ہوگی اس کے اندر جذبہ ولایت اتنا ہی زیادہ موجزن ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سفر اربعین سے زیادہ فیض حاصل کرسکتا ہے۔
لہذا اربعین پر زیارت کے لئے جانے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیاری کریں اور کچھ کتابیں اپنے ہمراہ ضرور رکھیں تاکہ سفر کی اس فرصت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کربلا اور مقصد کربلا کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اس سفر کے دوران مخصوص اذکار
اربعین کے موقع پر زیارت کے دوران اور خصوصی طور پر نجف سے کربلا پیدل چلتے ہوئے زائر کے پاس اتنا وقت میسر نہیں ہوتا کہ جن میں وہ قرآن مجید کی تلاوت کرسکے یا کسی کتاب کا مطالعہ کرسکے پس ایسے مواقع پر ضروری ہے کہ وہ اذکار جو روایات میں وارد ہوئے ہیں انھیں فراموش نہ کرے اور لذت ذکر سے محروم نہ رہے مثلاً ذکر:«صلوات بر محمد و آل محمد»، ذکر شریف« لا اله الا الله» اور اس طرح کے دوسرے اذکار
بہر حال اگر ایک زائر مثلاً ۱۴ ہزار صلوات امام حسین علیہ السلام یا دیگر آئمہ(ع) کو ہدیہ کردے تو اس کا یہ سفر کتنا معنوی ہوسکتا ہے؟۔
اربعین محاسبہ نفس کا بہترین موقع
کام ،شغل،کسب معاش دفتر ٹرافک ،معمولات زندگی سے دور یہ اربعین کا مقدس سفر انسان کے لئے ایک بہترین فرصت ہے کہ وہ اپنے بارے میں غور و فکر کرے،اپنے نفس کا محاسبہ کرے،خصوصاً پیدل چلتے ہوئے جہاں قیام ہو سحر خیزی اور نماز شب کو فراموش نہ کرے یہ سب چیزیں ایک زائر کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی بندگی اور اپنی معنوی کیفیت کو پرکھ سکے اور اسی بنیاد پر اپنے مستقبل کے لئے پروگرام بنا سکتا ہے اور اس امر میں امام حسین(ع) ضرور اس کی دستگیری فرمائیں گے۔

منبع:موکب الحسینی(ع)
ترجمہ:سجاد ربانی



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14