Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190349
Published : 4/11/2017 17:32

مؤمنین کی قبور کی زیارت اور وہابی شبہات کا ازالہ

پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حضرات خدا کی بارگاہ میں شہید ہیں ،ان کی قبروں پر جاؤ اور ان کی زیارت کرو، قسم اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تا روز قیامت اگر کوئی شخص ان کو سلام کرے گا تو یہ ضرور اس کا جواب دیں گے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم گذشتہ چند مقالات میں روضہ رسول اکرم(ص) کی زیارت کے متعلق وہابیوں اور سلفیوں کے شبہات کا جواب دے رہے تھے اور ہم نے مسلسل کئی مقالات میں خود علماء اہل سنت والجماعت کے جید علماء کی نقل کردہ روایات اور اقوال کو نذر قارئین کیا،اور آج جس عنوان کو لیکر حاضر ہوئے ہیں ہم اس سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نہ صرف یہ رسول اکرم(ص) کے روضہ مقدسہ کی زیارت بدعت نہیں ہے بلکہ ایک عام مؤمن کی قبر کی زیارت بھی بدعت نہیں ہے بلکہ باعث ثواب ہے اور خود رسول اکرم(ص) اپنی حیات طیبہ میں بہت سے مؤمنین کی قبور کی زیارت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی تاکید فرماتے تھے چنانچہ اس حوالہ سے ہم پہلی ورایت کو آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:
ابن ماجہ نے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:«زُوْرُوْا الْقُبُوْرَ فَاِنَّهَا تُذَکِّرُکُمُ الآخِرَۃَ»۔
ترجمہ:قبروں کی زیارت کے لئے جایا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت تمہیں آخرت کی یاددلائے گی۔
اسی طرح جناب عائشہ کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے قبروں کی زیارت کی اجازت عطا فرمائی ہے۔(۱)
سخاوی کہتے ہیں کہ آنحضرت(ص) خود بھی زیارت قبور کے لئے جاتے تھے اور اپنی امت کے لئے بھی اجازت دی کہ وہ بھی زیارت کے لئے جایا کریں۔
قبروں کی زیارت کرنا ایک سنت ہے اور جو شخص بھی زیارت کرتا ہے اس کو ثواب ملتا ہے البتہ زائر کو حق بات کے علاوہ کوئی بات زبان پر جاری نہیں کرنا چاہیئے اور قبروں کے اوپر نہیں بیٹھنا چاہیئے اور ان کو بے اہمیت قرار نہیں دینا چاہیئے اور ان کو اپنا قبلہ بھی قرار نہیں دینا چاہیئے۔
چنانچہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی والدہ گرامی اور عثمان بن مظعون کی قبروں کی زیارت کی اور عثمان بن مظعون کی قبر پر ایک نشانی بنائی تاکہ دوسری قبروں سے مل نہ جائے۔
اس کے بعد سخاوی کہتے ہیں کہ قبور کی زیارت کے مستحب ہونے پر دلیل اجماع ہے جس کو عَبدرَی نے نقل کیا ہے اور نُووی شارح صحیح مسلم نے کہا ہے کہ یہ قول تمام علمائے کرام کا ہے۔
ابن عبد البِرّ اپنی کتاب«استذکار»میں ابوہریرہ کی حدیث پیغمبر اکرم(ص)سے نقل کرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں کہ آنحضرت(ص) جس وقت قبرستان میں جاتے تھے ،تو یہ کلام اپنی زبان اقدس پر جاری فرماتے تھے:«اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قومٍ مُؤْمِنِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللہ بِکُم لاحقُونَ، نَسْأَلُ اللہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَةِ»۔
اس حدیث کے مضمون کے مطابق قبروں پر جانے اور ان کی زیارت کرنے کے سلسلہ میں علماء کا اجماع واتفاق ہے۔
اسی طرح زیارت کے بارے میں ایک حدیث جلال الدین سیوطی نے بیہقی سے نقل کی اور انھوں نے ابوہریرہ سے نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص)نے شہدائے احد کے بارے میں خاص طور پر فرمایا:«اَشْهَدُاَنَّ هٰؤُلاٰءِ شُهْدَاٌ عِنْدَ اللہِ فَاتُوهُمْ وَزُوْرُوْهُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لاٰیُسَلِّمُ عَلَیْهِمْ اَحَدٌ اِلٰی یَومَ القِیَامَةِ اِلاّٰ رَدُّوْا عَلَیْهِ»
ترجمہ:میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حضرات خدا کی بارگاہ میں شہید ہیں ،ان کی قبروں پر جاؤ اور ان کی زیارت کرو، قسم اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تا روز قیامت اگر کوئی شخص ان کو سلام کرے گا تو یہ ضرور اس کا جواب دیں گے۔
اسی طرح وہ روایت جس کو حاکم نے صحیح مانا ہے اور اس کو بیہقی نے بھی نقل کیاہے کہ جب آنحضرت(ص)شہدائے احد کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے تھے تو کہتے تھے:«اَللّٰهُمَّ اِنَّ عَبْدَکَ وَنَبِیَّکَ یَشْهَدُ اَنَّ هٰؤُلاٰءِ شُہَدَائٌ وَاِنَّهُ مَنْ زَارَهُمْ اَوْ سَلِّمْ عَلَیْهِمْ اِلٰی یَومَ الْقَیَامَةِ رَدُّوْا عَلَیْهِ»
ترجمہ:خداوندا! تیرا بندہ اور تیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہدائے راہ حق ہیں اور اگر کوئی ان کی زیارت کرے یا (آج سے) قیامت تک ان پر سلام بھیجے تویہ حضرات اس کے سلام کا جواب دیں گے۔(۲)
واقدی کہتے ہیں:پیغمبر اکرم(ص) ہر سال شہداء احد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور جب اس وادی میں پہنچتے تھے تو بلند آواز میں فرماتے تھے:«اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ»۔
ترجمہ:سلام ہو تم پر اس چیز کے بدلے جس پر تم نے صبر کیا اورتمہاری آخرت کتنی اچھی ہے!۔
ابوبکر،عمر اور عثمان بھی سال میں ایک مرتبہ شہدائے احد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور جناب فاطمہ دختر نبی اکرم(ص)دوتین دن میں ایک دفعہ احد جایا کرتی تھیں اور وہاں جاکر گریہ وزاری اور دعا کرتی تھیں۔
اسی طرح سعد بن ابی وقّاص بھی قبرستان میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے اور تین بار سلام کرتے تھے۔
واقدی کہتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) مُصْعَب بن عُمَیر کے۔جو کہ شہداء احد میں سے ہیں۔پاس سے گذرے تو ٹھہرگئے ان کے لئے دعا کی اور یہ آیۂ شریفہ تلاوت فرمائی:{رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاهَدُوْا اللہَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَابَدَّلُوا تَبْدِیلاً}۔(۳)
ترجمہ:مؤمنین میں سے ایسے بھی مرد میدان ہیں جنھوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کردکھایا، ان میں سے بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کررہے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔
اس کے بعد فرمایا: میں خدا کے حضور میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں شہید ہیں،ان کی قبور کی زیارت کے لئے جایا کرو اور ان پر درود وسلام بھیجا کرو ، کیونکہ وہ( بھی) سلام کا جواب دیتے ہیں،اس کے بعد واقدی نے ان اصحاب کے نام شمار کئے ہیں جو شہداء احد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے نیزان کی زیارت کی کیفیت اور طریقہ بھی بیان کیا ہے۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سن ابن ماجہ،ج۱،ص۵۰۰ ۔
۲۔الخصائص الکبریٰ،ج۱،ص۵۴۶ ۔ ۵۴۷ ۔
۳۔سورہ احزاب:۲۴ ۔
۴۔کتاب المغازی،ج۱،ص ۳۱۳ ۔ ۳۱۴ ۔

    
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14